اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الکریم کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الکریم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الکریم کا معنی ہےبڑا سخی اور بہت دینے والا کہ اس کا دینا نہ کبھی بند ہوتا ہے نہ اس کے خزانے خالی ہوتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں ، اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے:تم میرے راستے میں خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ رب العزت کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، اس کو دن رات کا (مسلسل)خرچ بھی خالی نہیں کرسکتا ، کیا تم نے دیکھا نہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتنا خرچ کیا ہے، جب سے اس نے آسمان وزمین کو پیدا فرمایا ہے۔

تخلیقِ سموات والارض کے وقت سے لے کر اس کا (مسلسل )خرچ کر،اس کے دست مبارک میں سے ایک ذرہ کے برابر بھی کم نہیں کرسکا، مزید ارشادفرمایا : اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں سلب کر لینے کا اختیار ہے ، وہ جسے چاہتا ہے اوج ورفعت سے ہمکنار کرتا ہے اورجسے چاہتا ہے (ذلت و)پستی میں دھکیل دیتا ہے۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :بے شک اللہ تعالیٰ بڑا سخی ہے اورسخاوت کو پسند فرماتا ہے اوروہ اعلیٰ اخلاق سے محبت کرتا ہے اوربرے اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔عمر وبن شعیب رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد گرامی سے اوروہ اپنے جدامجد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اوراستفسار کیا، میں اپنے حوض میں مشکیزوں سے پانی بھر بھر کر ڈالتا ہوں میں اسے اپنے اہل خانہ کے لیے بھرتا ہوں، لیکن جب کسی اورکااونٹ وہاں وار د ہوجاتا ہے ، تو میں اسے بھی پانی پلادیتا ہوں، کیا اس (عمل)میں میرے لیے اجروثواب ہے، جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : ہر گرم جگر والے (کی خدمت)میں اجر وثواب ہے۔محمود بن ربیع علیہ الرحمۃ نے روایت کیا ہے کہ حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یارسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم)(بعض اوقات)کسی کی بھٹکی ہوئی اونٹنی میرے حوض پر آجاتی ہے اگرمیں اسے پانی پلادوں تو کیا میرے لیے اجروثواب ہے،آپ نے ارشادفرمایا: اسے (ضرور)پانی پلائو کیونکہ ہر گرم جگر والے (کی خدمت)میں اجروثواب ہے۔سخاوت ایسی صفت ہے جو ہر انسان کو پسند ہے اور کنجوسی ایسی برائی ہے جس سے ہر انسان کو نفرت ہے۔

حضرت علی ابن موسی فرماتے ہیں: “”سخی آدمی، اللہ کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے، لوگوں کے قریب ہے، جہنم سے دور ہے اور کنجوس آدمی جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، جہنم کے قریب ہے”۔ جب انسان سخاوت کرتا ہے تو اللہ کی بارگاہ میں قرب پاجاتا ہے، بارگاہ الہی میں قرب پانے والا شخص جنت کا بھی قرب حاصل کرلیتا ہے اور دوزخ سے دور ہوجاتا ہے۔ جو شخص سخاوت کرتا ہے، غریبوں کی مدد کرتا ہے، یتیموں کو سہارا دیتا ہے، مقروض لوگوں سے تعاون کرتا ہے، مزدور کو مقررہ مزدوری سے زیادہ دیتا ہے، مہمانوں اور رشتہ داروں کی خوشی سے مہمان نوازی کرتا ہے تو ایسا شخص ہر دل عزیز بن جاتا ہے، لوگ اس کی عزت و احترام کرتے ہیں، البتہ وہ لوگوں سے دادو تحسین لینے کے لئے سخاوت نہیں کرتا، بلکہ رضائے پروردگار کے لئے اور قربۃ الی اللہ سخاوت کرتا ہے۔ لیکن کنجوس آدمی لوگوں کو اچھا نہیں لگتا اور لوگ اس سے دوری اختیار کرتے ہیں، کیونکہ اگر کوئی اسے اپنی مشکل بتائے تو وہ اپنا مال خرچ کرکے اس کی مشکل کو حل نہیں کرے گا۔حدیث میں ہے کہ: ’’سخی اللہ سے نزدیک، جنت سے نزدیک، لوگوں سے نزدیک، جہنم سے دور ہے۔ اور بخیل اللہ سے دور، جنت سے دور، لوگوں سے دور، جہنم سے نزدیک ہے۔ اور جاہل سخی یقینا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا ہے عابد بخیل سے۔اس حدیث شریف میں چار طرح سے سخی اور بخیل کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے۔ اور اس کا لازمی نتیجہ جنت سے نزدیک ہونا اور دور ہونا بیان کیا گیا ہے۔ تفصیل یہ ہے:(۱) ’’سخی اللہ سے نزدیک اور بخیل دور ہے‘‘ ہر عبادت خواہ بدنی ہو یا مالی، اس کا بنیادی مقصد معرفت الٰہی کی کوشش اور کشف حجاب کی محنت ہے۔ پس جو بندہ اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتا ہے، وہ اللہ کو پہچاننے کی اور ان سے پردہ ہٹانے کی تیاری میں لگا ہوا ہے، جلد یا بدیر، وہ ضرور وصل کی دولت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اور بخیل کو تو اس کی فکر ہی نہیں، اور مانگے بنا تو کچھ بھی نہیں ملتا، پھر اس کو وصل کی دولت کہاں نصیب ہو گی؟۔

(۲) ’’سخی جنت سے نزدیک اور بخیل دور ہے ‘‘ سخی جنت کی تیاری میں لگا ہوا ہے، اور بخیل اس سے غافل ہے۔ اور جنت کی تیاری یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ملکوتی صفات پیدا کرے ، اور رذائل کا قلع قمع کرے۔ نفس میں سے نکمی ہیئات کو دور کرے تاکہ بہیمیت پر ملکیت کا رنگ چڑھے۔ اور انسان جنت والے اعمال کرے۔ سخی یہ محنت کررہا ہے اس لئے وہ جنت مین پہنچ کر دم لے گا۔ اور بخیل اس محنت سے دور ہے، اس لئے وہ جنت سے دور ہوگا۔(۳)’’سخی لوگوں سے نزدیک اور بخیل دور ہے‘‘ لوگ سخی سے محبت کرتے ہیں اور بخیل سے نفرت۔ اور سخی سے لوگ مناقشہ بھی نہیں کرتے، اور بخیل کو کوئی نہیں بخشتا! سخی کی کوتاہیاں لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں اور بخیل کی خردہ گیری کرتے ہیں۔ اور موت کے بعد لوگ سخی کو روتے ہیں اور بخیل پر لعنت بھیجتے ہیں۔اور لوگ سخی سے منازعت اس لئے نہیں کرتے اور بخیل سے اس لیے الجھتے ہیں کہ جھگڑوںکی جڑ خود غرضی اور انتہائی درجہ کا حرص ہے۔ سخی اس سے پاک ہے۔ وہ عالی ظرف اور دریا دل ہوتا ہے اور دوسروں کا بھلا چاہتا ہے۔ اس لئے اس سے مناقشہ کی نوبت نہیں آتی۔ اور بخیل کا معاملہ برعکس ہے۔ وہ اپنا ہی بھلا چاہتا ہے، اس لیے ہر کوئی اس سے تکرار کرتا ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ خود غرضی اور انتہائی حرص سے بچو اسی نے گذشتہ امتوں کو تباہ کیا ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ میں یہ رذیلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ ناحق خون کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ نہ جائز ناجائز میں امتیاز کرتے ہیں۔جاہل سخی عابد بخیل سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا ہے۔ یہاں جاہل سے مراد وہ شخص ہے جو بدنی عبادت نافلہ کے فوائد سے آشنا نہیں۔ اس لئے وہ اس میں حصہ کم لیتا ہے۔ البتہ وہ مالی عبادت نافلہ کے فوائد سے واقف ہے، اس لئے وہ خیرات کا خوگر ہے۔ اور عابد سے مراد بدنی عبادات نافلہ میں دلچسپی رکھنے والا شخص ہے، کیونکہ اس میں خرچ نہیں ہوتا۔ اور وہ انفاق کے فضائل سے واقف نہیں ہوتا، اس لئے مال خرچ کرنا اس پر شاق پوتا ہے۔ اور جب فطرت میں فیاضی ہوتی ہے تو آدمی جو بھی عبادت کرتا ہے دل کے داعیہ سے کرتا ہے، اس لئے وہ اتم واکمل ہوتی ہے۔ اور جودوں ہمت ہوتا ہے۔

وہ جو بھی کام کرتا ہے، طبعیت پر جبر کرکے کرتا ہے، اس لئے وہ کچھ زیادہ سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی کے اس اسم الکریم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کو بغیر وعدہ کے مال و زر دیتا رہے اور ان کی ہر طرح کی مدد کرتا رہے نیز برے اخلاق اور برے فعل سے پرہیز کرے۔ اللہ تعالی کے اس اسم الکریمکے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص اپنے بستر پر پہنچ کر اس اسم پاک کو اتنا پڑھے کہ پڑھتے پڑھتے سو جائے تو اس کے لئے فرشتے دعا کریں اور کہیں اکرمک اللہ اللہ تجھے بزرگ مرتبہ کرے اور تو مکرم و معزز ہو۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ اس اسم کو بہت زیادہ پڑھا کرتے تھے اسی وجہ سے انہیں کرم اللہ وجہ کہا جانے لگا۔* جوشخص روزانہ سوتے وقت یَاکَرِ یْمپڑھتے پڑھتے سوجایا کر ے تو اللہ تعالی اس کو علما ء وصلحا ء میں عزت نصیب فرمائیں گے ۔ اور غیب سے ر وزی عطا فرمائیں گے۔ *جوشخص یاکریمُ الوھابُ ذَاالطّولِ روانہ سوبار پڑھے اس کے اسباب واحوال میں برکت ظاہر ہوگی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں زیادہ سے زیادہ سخاوت کرنے اور بخل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment