اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الوکیل کا معنی مفہوم فوائد وظائف

al wakeel

الوکیل اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الوکیل کے معنی محافظ کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کا محافظ ہے۔ (الزمر: 26)الوکیل سے مراد جو اپنے بندوں کو رزق دینے کا ذمہ دار ہو۔ جو ان کی حفاظت بھی کرے۔ بندے اپنے آپ کو جس کے حوالے کر دیں بلکہ وہ اپنے سارے معاملات بھی اسی کے سپرد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ وکیل: محافظ اور کفایت کرنے والے کو بھی کہتے ہیں۔

بڑا کارساز، مختار، پوری مخلوق اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے اور مکمل با اختیار ہے۔ جو اپنے علم ، کامل قدرت اور کامل حکمت کے ساتھ مخلوقات کے کام سنوارتا ہے، جو اپنے اولیاء سے محبت رکھتا ہے انھیں آسانیاں مہیا فرماتا اور مشکلات سے بچاتا ہے جو اسے اپنا کارساز مان لے، اسے کسی اور کی محتاجی نہیں رہتی۔ ارشاد ہے’’اللہ مومنوں کا دوست ہے، انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کا محافظ ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کارساز ہونے میں اللہ کفایت کرتا ہے) اور اگر تم مومن ہو تو اپنا ہر کام اللہ ہی کی طرف سونپو ،جو شخص اللہ ہی پر بھروسہ اور اعتماد کرتا ہے اور اللہ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے، اور ایسے زندہ پر بھروسہ اور اعتماد کرو جو غالب اور مہربان ہے۔الْوَکِیْلُ کے معنی ہیں ’’کام بنانے والا، مشکل کشا‘‘یہی وجہ ہے کہ مشرکین مکہ اگرچہ عام حالات میں اپنے معبودان باطلہ کو پکارتے تھے ،مگر شدید ترین مشکلات اور مصائب و آلام میں ایک اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو (سورۃ الانعام،آیت 40-41)اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جب مشرکین پر کوئی بڑی آفت و مصیبت آ جاتی یا موت اپنی بھیانک صورت میں آ کھڑی ہوتی تو اس وقت انہیں ایک اللہ کے سوا کوئی دامن پناہ نظر نہیں آتا تھا۔

بڑے بڑے مشرکین ایسے مواقع پر اپنے مشکل کشاؤں کو بھول جاتے تھے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اسے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر اللہ ہم کو اس (تنگی) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکر گزار ہوں کہو کہ اللہ ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے۔ پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو (سورۃ الانعام،آیت63-64)معلوم ہوا کہ تمام اختیارات کا مالک اور مختار کل صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے،تمام قسمتوں کی باگ دوڑ اس کے ہاتھ میں ہے۔مشرکین مکہ سخت مشکلات میں اور جب تمام اسباب کے رشتے ٹوٹتے نظر آتے تو بے اختیار اسی کی طرف رجوع کرتے تھے،لیکن جب اللہ تعالیٰ ان کی مشکل کشائی کر دیتا،رزق کی فراوانیاں کر دیتا تو اپنے معبودان باطلہ کوداتا اور قسمتوں کا مالک سمجھنے لگتے اور ان کے نام کی نذریں ،نیازیں چڑھانا شروع کر دیتے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اورجب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے اور بیٹھے اورکھڑے ہونے کی حالت میں ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے اس تکلیف کودور کر دیتے ہیں تو اس طرح گزر جاتا ہے گویا کہ ہمیں کسی تکلیف پہنچنے پر پکارا ہی نہ تھا اس طرح بیباکوں کو پسند آیا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں (سورۃ یونس،آیت 12) ایک اور مقام ملاحظہ کیجیے:اورجب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی تو وہ ہماری آیتو ں کے متعلق حیلے کرنے لگتے ہیں کہہ دو کہ الله بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے بے شک ہمارے فرشتے تمہارے سب حیلو ں کو لکھ رہے ہیں وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو اور وہ کشتیاں لوگو ں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کرچلتی ہیں

وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور و ہ خیال کرتے ہیں کہ بےشک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں تو سب خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچادے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے پھر جب الله انہیں نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ کو سخت ترین مشکل وقت میں پکارنے کے باوجود بھی مشرک اس لیے کہا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر دیتا تو یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے۔زندگی گزارنے اور اللہ کی عبادت کرنے میں تب مزہ آتا ہے جب عقیدے میں ذرہ بھر بھی شرک نہ ہو اور خالص توحید کا عقیدہ ہو۔لیکن مشرکین پاکستان کی حالت مشرکین مکہ سے بھی بدتر ہے وہ سخت ترین حالات میں اللہ کو پکارتے تھے اور یہ مزاروں پر بھاگتے ہیں۔اللہ تعالی کے اس اسم الوکیل سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ضعیف اور لاچار لوگوں کا مدد گار و معاون بنے اور ان کے کام کاج کرتا رہے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اس طور پر سعی و کوشش کرے کہ گویا وہ ان کا وکیل ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الوکیل کے فوائد و برکات میں سے ہے اگر بجلی گرنے کا خوف ہو یا پانی اور آگ سے کسی نقصان کا خطرہ ہو تو اس اسم پاک کا ورد کیا جائے تو انشاء اللہ امان ملے گی اور اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو کسی خوف و خطر کی جگہ بہت پڑے تو وہ بے خوف و بے خطر ہو گا۔* جوشخص کسی بھی آسمانی آفت کے خوف کے وقت یَا وَکِیْلُ کاورد کرے گا اور اس اسم مبارک کو اپنا وکیل بنالے گاوہ انشاء اللہ ہر آفت سے محفوظ رہے گا ۔* جسے کوئی غم یامصیبت واقع ہووہ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ کی کثرت کرے،اللہ تعالی اس کی تمام دنیوی واخروی پریشانیا ں دور فرمادیں گے۔* اس آیت کا روزانہ (۴۵۰) بار پڑھنا ہر طرح کی مصیبتوں سے نجا ت پا نے کے لئے اکسیر ہے۔

* جو کوئی ہرروز عصر کے وقت سات بار یہ اسم مبارک (یَاوَکِیْلُ) پڑھے گا وہ اللہ کی پناہ میں رہے گا ۔ *جوبرے کاموں سے نہ بچ سکے دس با ریہ اسم مبارک پڑھ کرا پنے اوپر دم کرے اور لکھ کر اس کا پانی پیئے انشاء اللہ برے کام سے نجات ملے گی ۔ *جواسے بہت پڑھے گا۔ اللہ تعالی اس کے کاموں کا ذمہ دار ہوگا اور اس کو اس کی خواہشوں کے حوالے نہیں فرمائے گا ۔ *جوکوئی اس اسم کو ایک سو چھیانوے (۱۹۶)بار ہر روز پڑھ لے گا ظلم سے انشاء اللہ بچارہے گا اور کسی سے نہیں ڈرے گا۔* یہ اسم اسم اعظم کے مطابق ہے۔ ہر حاجت کیلئے اس کی کثرت مفید ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہر مشکل وقت میں اپنی طرف متوجہ ہونے اور ہر پریشانی میں اسی کو پکارنے والا بنائے ۔ آمین

Leave a Comment