اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الودود کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

al wadoodo

الودود اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الودود کے معنی محبوب کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور وہ مغفرت کرنے والا ،محبت کرنے والا ہے۔ (البروج : 41)الودود وہ کہلاتا ہے۔ جس سے اس کے نیک بندے محبت کریں اور وہ بھی اپنے نیک بندوں سے محبت کرے۔اسی لیے نیک بندوں کی پاک زبانیں اس کی ثناء میں مگن رہتی ہیں اور ان کے دل اس کی طرف کھنچے جاتے ہیں یہ ان کی محبت اور اخلاص کا ادنیٰ مظہر ہے۔

اپنے دلوں سے اس کے دیدار سے کے پیاسے ہیں۔ اور ہر وقت اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ الودودکے معنی فرمانبردار بندوں کو دوست رکھنے والا یا اولیاء اللہ کے قلوب میں محبوب کے بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو بندوں سے بہت پیار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے طفیل یہ اُمت اللہ تعالیٰ کی پیاری اُمت بنی۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی پیاری اُمت تھی چونکہ اُن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو پھر عذاب میں مبتلا ہوئے اور ہمارے اعمال بھی کچھ کم گناہگار نہیں ہے۔ یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے جو یہ اُمت پانی میں ڈوبنے اور آسمان سے پتھر برسنے جیسے عذاب سے محفوظ ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کو اِس اُمت سے بہت پیار ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ محبت فرماتے ہیں۔ اس لئے تو ہر نیکی کا اجر دس گناہ عطا فرماتے ہیں اور ایک گناہ پر ایک ہی لکھتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو اور ہمارے ایمان کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں اور ہمارے گمان کے ساتھ ہیں۔ لہذا ہمیشہ صرف رب کے لئے ہر کسی کے ساتھ نیک گمان اور ہر کسی کی مدد کریں ، اس سے اللہ تعالیٰ ہماری ہر مصیبت کے وقت میں مدد فرمائیں گے۔ہم کو ایمان بنانے کے لئے محنت کرنا ہے۔ویسے تو اللہ تعالی سب سے محبت کرتے ہیں لیکن اللہ کے محبوب بندے..” جو اللہ کو محبوب ہوں گے وہ یہ ہیں ۔”پہلی خوبی جس کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کو وہ محبوب ہوں گے ۔ یقینا ان میں کچھ صفات لازما ہوں گی جن کی بنا پر اللہ ان سے محبت کرے گا۔اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت پانے کا راز :یہ ہے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت :کی جائے فرمایا کہ (اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے

اس آیت سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ جس کو اللہ کی محبت درکار ہو اسے چاہیے کہ سنتِ رسول ﷺکو اپنی زندگی کا محور بنا لے اور زندگی کے ہر قدم ، ہر شعبے اور ہر کام میں سنتِ رسول ﷺ کا اتباع اور التزام کر لے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالی اس محبت کریں گے اور اس کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔اللہ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے قرآن میں ارشاد ہے ۔اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔۔ سورہ آلِ عمران آیت 146 بےشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔۔ سورہ الممتحنۃ آیت 8 بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس پر توکل کرتے ہیں ۔۔۔ سورہ آلِ عمران آیت 159 بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرتے ہیں ۔۔ سورہ البقرہ آیت 222 اور اللہ پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔۔ سورہ التوبۃ آیت 108اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے بڑی سعادتیں رکھی ہیں، اس کے بندے بھی اس کی توفیق سے وہ سعادتیں سمیٹنے کی سعی کرتے رہتے ہیں، اب ایک عظیم سعادت کاتذکرہ کرتے ہیں جس کے حصول سے یقینی طور پر دنیاوآخرت کی کامیابی حاصل ہوجاتی ہے، وہ سعادت ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت، جی ہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں ایسے سعادت مند بندوں اور ان کی صفات کاتذکرہ فرمایا ہے، جن سے وہ محبت کرتا ہے، اس ویڈیو میں ان خوش نصیب بندوں کےذکرخیر سے مقصود یہ ہےکہ اس تذکرہ سے ہماری تذکیرہواور ہم بھی ان صفات کو اختیار کرکے اس سعادت عظمیٰ یعنی اللہ کی محبت کے مستحق بن سکیں، ملاحظہ ہو:: اور احسان(کا طریقہ) اختیار کرو،بےشک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(البقرۃ:۱۹۵)لفظ احسان کا ایک مفہوم عام ہے یعنی نیکی اور اطاعتِ الٰہی اور اس کے صلے میں ملنے والی جنت اور اس کی نعمتیں جیسا کہ سورۂ رحمٰن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:: احسان کابدلہ احسان کے سوا کیا ہے؟(الرحمٰن:۶۰)اس آیت میں پہلے احسان سے مراد عمل صالح اور اللہ کا کہابجالاناہے اور دوسرے احسان سے اس کا بدلہ یعنی جنت اوراس کی نعمتیں مراد ہیں۔اسی طرح صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے جسے امام مسلم نے احادیثِ ایمان کے ساتھ ذکر کیا ہے،رسول کریم ﷺ نے فرمایا: یعنی جوشخص اللہ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ ہمسائے کے ساتھ احسان کرے۔

اس حدیث میں احسان بمعنی نیکی، بھلائی اور حسنِ سلوک ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الودودسے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کے لئے وہی چیز پسند کرے گا جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور ان پر اپنی بساط بھر احسان کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ بندوں کو اللہ تعالیٰ کا دوست رکھنا یہ ہے کہ کہ وہ بندوں پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔ ان کی تعریف کرتا ہے ان کو خیر و بھلائی پہنچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بندوں کا دوست رکھنا یہ ہے کہ وہ اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور اپنے قلوب میں اس کی ہیبت و بڑائی رکھتے ہیں۔ حدیث میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے دوستوں میں بڑا دوست وہ ہے جو غیر عطا کے لئے میری عبادت کرتا ہے یعنی وہ عطا و بخشش کی امید سے نہیں بلکہ صرف میری رضا اور خوشنودی کی خاطر ہی عبادت کرتا ہے۔ اللہ تعالی کے اس اسم کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا ہو جائے اور تعلقات انتہائی کشیدہ ہو جائیں تو اس اسم پاک کو کسی کھانے کی چیز پر ایک ہزار ایک مرتبہ پڑھ کر دونوں میں سے اس کو کھلا دیا جائے جس کی طرف سے ناچاقی پیدا ہوتی ہو انشاء اللہ ان دونوں کے درمیان اتفاق و الفت کی فضا بحال ہو جائے گی۔ جوشخص ایک ہزار مرتبہ یَاوَدُوْدُ پڑھ کر کھانے پر دم کرے گا اور بیوی کے ساتھ بیٹھ کر وہ کھا ناکھا ئے گا تو انشاء اللہ میاں بیوی کاجھگڑا ختم ہوجائے گا اور باہمی محبت پیدا ہوجائے گی۔* جو شخص اس اسم مبارک کا ہزار بار ذکر کرے گا وہ اللہ سبحانہ وتعالی کامحبوب ہوجائے گا ۔* زوجین کی محبت کے لئے اول آخر دوبار درودشریف اور یاودود دو ہزار بار چینی پریا اول آخر دوبار درودشریف اور یا ودود ایک ہزار بارنمک پر پڑھ کر مطلوب کانام لے کردم کریں اور مطلوب کو کھلائیں۔ باہم محبت میں اضافہ ہوگا ۔*

جس کا بیٹا برائیوں میں مبتلا ہووہ جمعہ کے بعد ایک ہزار ایک بار یہ اسم مبارک معطر ولطیف شیر ینی پرپڑھ کردم کرے اور دورکعت نماز ادا کرے اور وہ شیر ینی اس کو کھلا ئے انشاء اللہ صالح ہوجائے گا ۔* اس کا وردتسخیر کے لیے مفید ہے۔* جوشخص کسی پریشانی میں پڑجائے یادشمنوں یا ڈاکوؤں کے نرغے میں آجائے وہ دورکعت نماز پڑھ کردعا کرے انشاء اللہ پریشانی دورہو جائے گی : دعایہ ہے ۔ اَللّٰھُمَّ یَاوَدُوْدُتین بار یَا ذَا الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ یَا مُبْدِئُ یَا مُعِیْدُ یَا فَعَّالاً لِّمَا یُرِیْدُ اَسْءَلُکَ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِیْ مَلَأَ اَرْ کَانَ عَرْشِکَ وَبِقُدْرَتِکَ الَّتِیْ قَدَرْتَ بِھَا عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِکَ وَبِرَحْمَتِکَ الَّتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ءٍ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ یَاغِیَاثَ الْمُسْتَغْثِیْنَ اَغْثِنِیْ (اَغِثْنِیْ ۔ تین بار) ۔ *جو دُلہن سُسرالی گھر میں پہلی بار داخل ہو تے وقت ایک سانس میں سات بار یَا وَدُوْدُ پڑھے گی اُسے سا ری زندگی اپنے میاں اور سُسرال سے پیا ر ملے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں آپس میں محبت کا بندھن باندھنے اور اپنے نام کی برکت سے آپس میں محبت کا رشتہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment