اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الواجد کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

al wajid

الواجد اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الواجدکے معنی ہیں ہر چیز کا پالینے والا۔وہ جواور جس چیز کی خواہش جس وقت چاہتا ہے پا لیتا ہے۔ایسا غنی کہ کسی چیز میں کسی کا محتاج نہیں۔ الواجد کے معنی سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا کے بھی آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے علم کے بدولت اپنی مخلوق کے لیے ہر ضرورت کی چیز پیدا فر مائی، سب کی ضروریات الگ الگ ہیں کچھ ضروریات تو تمام مخلوق کی ایک ہی طرح کی ہیں جیسے ہوا، پانی اور آکسیجن OXYGEN (ہوا اور پانی کا وہ جز جس پر روشنی اورزندگی موقوف ہے۔)

انسان ہو یا جانور ہر جاندار کو اس کی ضرورت ہے ،یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بلا آکسیجن کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، اس کے بغیر موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور یہ انمول شئے(نایاب چیز) اللہ رب العزت نے درختوں، پو دوں میں رکھی ہے یاد رہے آکسیجن درختوں اور پو دوں کے سوا اور کہیں سے نہیں ملتی ہے۔ اتنے ترقی یافتہ دور میں بھی انسان کتنا نادان اور ظالم ہے جو چیز اسے درختوں اور پودوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی اسی کو ختم کرتے جارہاہے( اسی کو کہتے ہیں آ بیل مجھے مار ، نہیں بلکہ دوڑ کے مار) پیڑ ، پودے انسان کی اہم ضرو ریات میں شامل رہے ہیں اور رہیں گے جب سے دنیا میں انسان نے آنکھ کھو لی ہے، درخت اس کی بنیادی ضرو یات میں شا مل رہے ہیں۔انسان کی یہ بڑی بھول ہے کہ ہم ہر چیز کے مالک ہیں، یہ صفت صرف خالق کائنات کی ہے۔ *اَ: اللہ ہر چیز کا پیدا کر نے والا ہے، اور وہ ہر چیز کا مختار ہے۔تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے آسما نوں زمین کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جو اس کی ملکیت کا انکار کرتا ہے اور اپنا قبضہ جماکر کسی چیز کو بے دریغ استعمال کرتا ہے وہی نقصان اور گھا ٹا اٹھا تا ہے۔درختوں کو پیدا فر مانے کی بہت سی ضرورت و حکمت قرآن مجید میں مطا لعہ فر مائیں۔ : وہ کون ہے جس نے آ سمانوں اور ز مینوں کو پیدا فر مایا اور تمھا رے لیے آسمانی فضا سے پانی اتا را، پھر ہم نے اس پانی سے تازہ اور خوشنما باغات اگا ئے؟ تمھارے لیے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغات کے درخت اگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کو ئی(اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو( راہ حق سے)پرے ہٹ رہے ہیں۔( القرآن، سورہ نمل27،آیت60)

کل کائنات کو پیدا کر نے والا سب کو روزی دینے والا تمام جہان کی تد بیر کر نے والا، صرف اللہ تعا لیٰ ہے، کھیتیاں، باغات، پھل ،پھول، سمندر،حیوانات،خشکی،تری کے تمام جاندار اللہ نے پیدا کئے۔آسما نوں سے پانی برسا کر اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ کھیتیاں ،باغات سب وہی اگاتا ہے جو خو بصورت منظر ہونے کے علا وہ بہت کار آمداور مفید ہوتے ہیں خوش ذائقہ ہو نے کے ساتھ زندگی کو قا ئم رکھنے والے ہیں۔ انسانوں اور دوسری مخلوق کی روزی اور زندگی کی دوسری ضرو ریات کے لیے خالق کائنات نے کھیتاں باغات پیدا فرمائے۔قرآن مجید کی ہر بات اپنے اندر اصلاح کا سامان رکھتی ہے، اور جو باتیں بار بار آئی ہیں وہ بے شک اصلاح کا بہت زیادہ سامان رکھتی ہیں۔ اللہ کی مشیت کا تذکرہ قرآن مجید میں بہت زیادہ ہوا ہے۔ اس لیے اسے ہماری توجہ اور غور وفکر کا اہم موضوع ہونا چاہیے۔ از حد ضروری ہے کہ قرآن مجید نے اللہ کی مشیت کا جو تصور پیش کیا ہے، اور جس سیاق میں پیش کیا ہے اسے اسی طرح سمجھا جائے۔مشیت محرک ہے، رکاوٹ نہیں حکم اور مشیت کا مصدر جب ایک ہی ہستی ہو تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے کہ حکم کی تعمیل میں مشیت رکاوٹ نہیں بنے گی بلکہ محرک ومعاون بنے گی۔ اللہ تعالی کا ہر حکم اس بات کا صاف اعلان ہوتا ہے کہ اللہ کی مشیت کے دروازے اس حکم کی تعمیل کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔’’کوئی انسانی تدبیر مشیت ایزدی کو نہیں بدل سکتی‘‘ بلا شبہ یہ حقیقت ہے، لیکن اس کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ’’جس تدبیر کو اختیار کرنے کی اللہ نے ہدایت دی ہے، مشیت ایزدی اس تدبیر کو کامیابی سے سرفراز کرتی ہے ‘‘ اس سے کون مومن انکار کرسکتا ہے کہ ’’اللہ کی مشیت کے سامنے انسان مجبور محض ہوتا ہے‘‘؟ تاہم یہ ماننا ایمان کا تقاضا ہے کہ’’اللہ جس راستے کی طرف بلاتا ہے اس پر چلنے والوں کے لیے اللہ کی مشیت رکاوٹ نہیں بنتی ہے، بلکہ اس کے لیے طاقت ور محرک بنتی ہے

اس پر چلنے کی طاقت دیتی ہے، راستے کی رکاوٹیں دور کرتی ہے، اور اپنی حفاظت میں منزل سے ہم کنار کرتی ہے‘‘۔ ظاہر سی بات ہے کہ اللہ کی ہدایت اور اللہ کی مشیت میں ٹکراؤ نہیں ہوسکتا ہے، بلکہ دونوں میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے، اور یہ ہم آہنگی ہمیں قرآن مجید میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔ اس لیے مشیت ایزدی کا حوالہ دے کر اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے فرار درست نہیں ہے۔ مشیت ایزدی کا عرفان تو اللہ کے راستے پر بصیرت اور استقامت کے ساتھ چلنے کی تحریک پیدا کرتا ہے۔کائنات کے دو بڑے سچ: اللہ کی مشیت پر ایمان لانے کے لیے زندگی اور کائنات کا مشاہدہ بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، قرآن مجید انسانوں کو بار بار یہ مشاہدہ کراتا ہے۔ (وہ جسے چاہے) اور وہ جو چاہے) کا تذکرہ قرآن میں بہت ہوا ہے، یہ دونوں کلمے اس کائنات کی دو بہت بڑی سچائیاں ہیں۔جو کچھ ہوتا ہے وہ سب اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، اس کے لیے قرآن مجید میں متعدد تعبیریں آئی ہیں، جو زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہیں، یہاں کچھ تعبیروں کو بطور مثال ذکر کرتے ہیں: اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اللہ اپنی بادشاہت سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔اللہ اپنی رحمت جسے چاہتا ہے خاص کرتا ہے وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے وہ جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔

وہ جسے چاہتا ہے مادہ اولاد دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نرینہ اولاد دیتا ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الواجدسے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ ضروری کمالات عالیہ حاصل کرنے میں سعی و کوشش کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ماسوا اللہ سے مستغنی و بے پرواہ ہو۔ اللہ تعالی کے اس اسم الواجدکے فوائد و برکات میں سےہےاگر کوئی شخص کھانا کھاتے وقت ہر نوالے کے ساتھ یہ اسم پاک پڑھے تو وہ کھانا اس کے پیٹ میں نور ہو گا اور اگر کوئی خلوت میں اس اسم کو پڑھے تو تونگر ہو گا۔* جوشخص کھانا کھاتے وقت یَاوَاجِدُ کاورد رکھے ، غذااس کے قلب کی طاقت وقوت اور نورانیت کا باعث ہوگی انشاء اللہ۔ *جوتنہائی میں اس کا بکثرت ورد کرے گا مالدار ہوگا۔* جوکوئی کھانا کھانے کے وقت ہرنوالے کے ساتھ اس کو پڑھے گا وہ کھانا انشاء اللہ پیٹ میں نور ہوگا ۔ اور بیماری دور ہوگی ۔ *جواس اسم کو بہت پڑھے اس کادل انشاء اللہ غنی ہوگا۔* جواس اسم کو پڑھے گا انشاء اللہ ظالم کے ظلم سے بچارہے گا ۔ *جواسے اس قدر پڑھے گا کہ اس پر حال طاریہوجائے تووہ اپنے باطن میں ایسی معرفت پائے گاجس کا اس نے پہلے مشاہدہ نہ کیا ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی مشیت کا یقین رکھنے اور اپنی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment