اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام المجید کا معنی مفہوم فوائد وظائف

Al majeed

المجید اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المجید کے معنی ہیں ’’بزرگی والا‘‘۔وہ بزرگی، عظمت اور شان کی صفات سے متصف ہے۔ جس کی صفات بہت بلند،تمام کام بہت ہی عمدہ اور ذات بے مثال ہے۔ وہ ہر چیز سے بڑا، عظیم، جلیل اور بلند ہے۔ اس کے اولیاء کے دل اس کی عظمت کے احساس سے بھرپور ہیں لہٰذا اس کی کبریائی کے سامنے عجزوانکسار کا اظہار کرتے ہوئے سرنگوں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا”وہ عرش والا بزرگی والا ہے”المجید سے مراد عظمت والا، کبریائی والا ہے۔ جو ازلی طور پر مجدو شرف ، کبریائی،

عظمت اور جلالت جیسی صفات سے متصف ہو۔ جو ہر چیز سے بڑا، بزرگ، بلند شان والا، اور زیادہ عظمت والا ہو۔ اس کے دوستوں کے دلوں میں اس کی تعظیم اور بزرگی راسخ ہو، جو نہایت شرف والا ہو۔ جس کے تمام افعال جمیل ہوں۔ اور جس کی عطاء اور ثواب نہایت کثیر ہو۔ حقیقی اَدب و اِحترام اور اِنتہائی تعظیم کی حق دار و سزا وار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس عظیم ہستی کی تعظیم و تکریم کا اظہار صرف عبادت کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ عبادت ایک ایسا عمل ہے جو سراسر اللہ بزرگ و برتر کے لئے دل کی گہرائیوں سے تعظیم و تکریم اور ادب واحترام کے اعلیٰ ترین درجے سے عبارت ہے۔ کسی اور کے لئے تعظیم اور ادب و احترام کے جتنے بھی درجے ہوسکتے ہیں وہ اس درجہ سے کم تر اور فروتر ہوں گے اور ان کی نوعیت بھی عمومی درجہ کی ہو گی۔ اسلامی تعلیمات اور معاشرتی آداب میں یہ بات شامل ہے کہ افرادِ اُمت درجہ بدرجہ ایک دوسرے کی عزت و تعظیم کریں۔ اولاد والدین کی تعظیم کرے، شاگرد استاد کی اور چھوٹا بڑے کی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو بڑا چھوٹے پر شفقت نہ کرے اور چھوٹا بڑے کی توقیر نہ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘گویا توقیر اور تعظیم کے ساتھ ایک دوسرے سے پیش آنا معاشرتی تقاضا ہے جسے شائستگی اور تہذیب کی حدود میں رہتے ہوئے پورا کرنا ہر ایک کے لئے لازمی ہے۔اَنبیائے کرام، صالحینِ عظام، والدین، شیوخ، اساتذہ یا کسی اور معزز ہستی کی عزت و توقیر، ان کا ادب و احترام، ان کی فرمان برداری، تعمیلِ ارشاد اور ان سے منسوب اشیاء کی حرمت وتکریم ان کی تعظیم ہے۔

چونکہ یہ عمل درجہِ عبادت یعنی عاجزی و تذلّل اور عجز و انکساری کی آخری حد سے کم تر اور فروتر ہوتا ہے اور اس کی نوعیت بھی عمومی ہوتی ہے اس لئے عبادت کے زمرے میں نہیں آتا اور شرعی حوالے سے یہ ایک جائز امر ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کو ئی بھی راسخ العقیدہ مسلمان اللہ تعا لیٰ کے سوا کسی اور کی تعظیم عبادت کی نیت سے ہر گز نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افعال جو بزرگوں کی تعظیم پر مبنی ہوں وہ اسلامی تعلیمات کی تعمیل ہے۔ یہ شرک کے دائرے میں ہرگز نہیں آتے اِس لئے کہ وہ توحید سے کسی طرح بھی متعارض و متصادم نہیں۔ ایک دوسرے کی عزت و توقیر اور ادب و احترام کے حوالے سے چند احادیث ملاحظہ کریں:1۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات زبان سے نکالے یا پھر خاموش رہے۔‘‘2۔ چھوٹوں پر رحمت و شفقت اور بڑوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور احترام کا تعلق اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی قدر و منزلت نہ پہچانے۔‘‘حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشادِ مبارک کے مطابق تعظیم حکمِ شریعت ہے۔

اگر یہ صرف اور صرف اللہ کا حق ہوتا تو کسی فرد کو کسی دوسرے کی تعظیم کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ لہٰذا تعظیم نہ صرف شرعی واجبات میں سے ہے بلکہ مطلقاً مطلوب و مقبول عمل ہے جسے ترک کرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اُمت سے خارج ہے۔ تعظیم کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ آپ اپنے استاد، بزرگ، والد یا کسی اور معزز ہستی کی تعظیم بجا لاتے ہیں جو بالکل جائز اور صائب عمل ہے جس کی شریعتِ مطہرہ نے تعلیم و تلقین کی ہے۔ لیکن ان میں سے کسی کے لئے بھی ایسی تعظیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو عبادت کے درجے کو پہنچ جائے اور نہ ہی کوئی مؤمن شخص عبادت کی نیت سے کسی کی تعظیم کرنے کا تصور کرسکتا ہے۔ تعظیم کے ان دونوں انتہائی درجوں میں تمیز کرنا اور فرق روا رکھنا لازمی ہے۔ اس لیے ہر تعظیم کو عبادت نہیں کہا جا سکتا۔ ایک وحدہ لاشریک ہستی کے لئے بجا لائی جانے والی بلند ترین تعظیم ہی کو عبادت سے موسوم کیا جائے گا۔

اللہ تعالی کے اس اسم المجید سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کر کے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم کیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہ کر اپنے نفس کو ذلیل کرے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔ اللہ تعالی کے اس اسم المجید کے فوائد و برکاے میں سے ہے کہ جس شخص کو آبلہ پا، یا باد فرنگ (آتشک) یا برص اور یا جذام کا مرض لاحق ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ایام بیض میں روزے رکھے اور افطار کے وقت اس اسم پاک کو بہت پڑھے اور دم کر کے پی لے خدا نے چاہا تو یقیناً شفا پائے گا اور جس شخص کو اپنے ہم عصروں اور ہم جنسوں میں عزت و احترام کی نظر سے نہ دیکھا جاتا ہو تو وہ ہر صبح اس اسم پاک کو ننانوے مرتبہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے اسے عزت و احترام حاصل ہو گا۔*

جوشخص کسی موذی مرض آتشک جذام یابر ص وغیرہ میں گرفتار ہو وہ چاند کی (۱۳ ،۱۴،۱۵ ) تاریخ کے روزے رکھے اور افطار کے بعد اس اسم مبارک کو پڑھا کرے اور پانی پر دم کرکے پیئے انشاء للہ وہ مرض دور ہوجائے گا۔ چاہے اسکا ازالہ بلا سبب ہویا اسباب دنیویہ یعنی علاج وغیرہ کے ساتھ ہو۔* بیس دن تک روزہ رکھ کر افطار کے وقت ستاون(۵۷) بار اس اسم کو پڑھنا موذی امراض کے لئے مفید ہے ۔* جس کی اپنے ساتھیوں میں عزت وحرمت نہ ہو وہ ہر صبح کوننانوے(۹۹) بار یہ اسم پڑھ کراپنے اوپر پھونکے انشاء اللہ عزت وحرمت حاصل ہوگی۔* جوگرمیوں میں اس اسم کو پڑھے گا تشنگی سے مامون رہے گا۔ *جواس اسم پر مداومت کرے گا معاشرے میں عزت پائے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس اسم بابرکت کے صدقے عزت عطا فرمائے اور ذلت سے بچائے ۔ آمین

Leave a Comment