اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام المتین کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

al mateen

المتین اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المتین کے معنی ہیں انتہائی مضبوط و مستحکم۔ جوہر مشکل سے نکالنے والا ہے۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے اللہ کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں (سورۃ النحل،آیت 53-54)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا : اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا (سورۃ الاسراء،آیت 67)مزید فرمایا: پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں (سورۃ العنکبوت،آیت 65)پھر فرمایا: اور جب انہیں سائبانوں کی طرح موج ڈھانک لیتی ہے تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لےآتا ہے تو بعض ان میں سے راہِ راست پر رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بد عہد نا شکر گزار ہیں (سورۃ لقمان،آیت 32): اور ولوگوں کو جب کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے توایک گروہ ان میں سے اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے (سورۃ الروم،آیت 33): اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کواس کی طرف رجوع کر کے پکارتا ہے پھر جب وہ اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے عطا کرتا ہے تو جس کے لیے پہلے پکارتا تھا اسے بھول جاتا ہے اور اس کے لیے شریک بناتا ہے تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے کہہ دو اپنے کفر میں تھوڑی مدت فائد ہ اٹھا لے بے شک تو دوزخیوں میں سے ہے (سورۃ الزمر،آیت 8)وہ اللہ تعالی قوت شدیدہ کا مالک ہے جوکہ منقطع نہیں ہوتی ، اس کی قوت اور قدرت کی کوئی انتہا نہیں اورنہ ہی اسے افعال میں کسی قسم کی کوئی مشقت و دشواری اورتھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

اسے ہر طرح کا اقبال حاصل ہے۔ قوت کا اقبال، غلبہ کا اقبال، امتناع کا اقبال یعنی کوئی مخلوق اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ تمام مخلوقات اس کے آگے دبی ہوئی ہیں، اس کی مطیع ہیں اور اس کی عظمت کو دل سے تسلیم کرتی ہیں اوراللہ سبحانہ وتعالی ایسی قوت بالغہ کا مالک ہے جو کہ ان افعال میں نقص کا شکار نہیں ہوتی اورنہ ہی ختم ہوتی ہے ، اللہ تعالی ان عیوب اور نقائص سے بلندو بالا اور منزہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ طاقت صرف اللہ کے لئے ہے لہذا دنیا میں ظلم و ستم سے روکا گیا ہےظلم کی مختلف شکلیں ہیں، ظلم کی ایک قسم کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ ظلم کی اِس قسم پر خصوصی توجہ درکار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کے متعلق اپنا اصول وضابطہ بیان کردیا ہے کہ جب تک بندہ سے معاملہ صاف نہیں کیا جائے گا وہ معاف نہیں کرے گا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ کسی بھی انسان پر کسی بھی حال میں ظلم نہ کرے، بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق دوسروں کی مدد کرے، ظالم کو ظلم کرنے سے حکمت کے ساتھ روکے اور مظلوم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہو۔ جیسا کہ حضور کرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کرسکتے ہیں، لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کس طرح ہوگی؟ حضور کرمﷺ نے فرمایا: (ظالم کی مدد کی صورت یہ ہے کہ) اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ یعنی اسے ظلم کرنے سے روک دو۔انسانوں پر ظلم کرنے کی تمام ہی شکلوں سے ہر شخص کو بچنا چاہئے کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکاۃ (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے ایک حق والے کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی۔

پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو (ان حقوق کے بقدر) حقداروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دئے جائیں گے، اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم۔ باب تحریم الظلم)مظلوم صبر کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ظالم کو ظلم سے روکے۔ اور دوسروں سے مدد حاصل کرکے اپنے ملک کے قانون کے تحت کاروائی کرے۔ ہمیں مظلوم کی حتی الامکان مدد کرکے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں۔ اور اگر ہم ظالم کو ظلم کرنے سے روک سکتے ہیں تو ملکی قوانین کو سامنے رکھ کر ضرور یہ ذمہ داری انجام دینی چاہئے۔ یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھنی چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتے ہیں۔ پھر جب اچانک اس کو پکڑتے ہیں تو اس کو بالکل نہیں چھوڑتے۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ”اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ شہروں کو پکڑتے ہیں جبکہ وہ ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یقینا اس کی پکڑ بڑی دردناک ہے۔(بخاری ومسلم) غرضیکہ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف ظلم کی حرمت ونحوست کو بار بار ذکر کیا ہے اور اس کے برے انجام سے متنبہ کیا ہے، بلکہ مظلوم کی مدد کرنے کی تعلیم وترغیب بھی دی ہے، اور مظلوم کی بددعا سے بھی سختی کے ساتھ بچنے کو کہا گیا ہے کیونکہ مظلوم کی بددعا اللہ کے دربار میں رد نہیں کی جاتی۔ مال ومنصب کے ملنے پر انسان کمزوروں پر ظلم کرنے لگتا ہے، حالانکہ اسے سوچنا چاہئے کہ ساری کائنات کو پیدا کرکے پوری دنیا کے نظام کو تن تنہا چلانے والے نے خود اپنی ذات سے ظلم کرنے کی نفی کی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اللہ ذرّہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (سورۃ النساء ۰۴)

نبی اکرمﷺ حدیث قدسی میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر بھی حرام کیا ہے اور تم پر بھی حرام کیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ لہذا اللہ کی طاقت سے ٹکرانے کے بجائے ظلم سے بچنا ضروری ہے اللہ تعالی کے اس اسم المتین سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خواہشات نفسانی پر غالب اور قوی ہو دین کے معاملہ میں سخت و چست رہے اور شرعی احکام کو نفاذ کرنے اور پھیلانے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے۔اللہ تعالی کے اس اسم المتین کے فوائد و برکات میں سےہے* جس عورت کے دودھ نہ ہواس کو اَلْمَتِیْنُ کاغذ پر لکھ کر دھوکر پلائیں انشاء اللہ خوب دود ھ ہوگا ۔* جو شخص لڑکے یا لڑکی پر اَلْمَتِیْنُ دس بار پڑھے گا تووہ بچہ فسق وفجور اور گنا ہوں سے محفوظ رہے گا ۔ *جس بچے کا دودھ چھڑایا گیا ہواور وہ صبر نہ کرتا ہواسے بھی یہ اسم مبارک دس بارلکھ کر پلا یاجائے انشاء اللہ صبر کرے گا ۔ *جوکوئی ملکی منصب چاہتا ہووہ اتوار کے دن اول ساعت میں اسی نیت سے تین سوساٹھ(۳۶۰) باریہ اسم مبارک پڑھے انشاء اللہ صاحب منصب ہوجائے گا ( بشرطیکہ اس کا اہل اور حقدار ہو)۔*جو اس کا بکثرت ورد کرے گا اس کی مشکل آسان ہوجائے گی اور انشاء اللہ حاجت پوری ہوگی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی مضبوط قوت طاقت کے جھکنے والا بنائے اور لوگوں پر ظلم کرنے سے بچائے ۔ آمین

Leave a Comment