اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الماجد کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

al majid

الماجد اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الماجدکے معنی ہیں بڑی بزرگی والا۔جو بزرگی والا ہے رحیم ہے اور جس کی بخشش اور فیاضی کا کائی حساب نہیں۔اللہ تعالیکی فیاضی اور بخشش کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور دوزخ کے دورازے بند کر دئیے جاتے ہیں

پھر اس کا کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا پھر جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور پکارنے والا پکارتا ہے اے خیر کے طلبگار آگے بڑھ اور اے شر کے طلبگار ٹھہر جا اور اللہ کی طرف سے بندے آگ سے آزاد کر دئیے جاتے ہیں یہ معاملہ ہر رات جاری رہتا ہے (سنن ترمذی)اس ماہ میں لیلۃ القدر ہے، یہ بابرکت رات ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے ، اس رات کی فضیلت کے باعث فرشتے اور جبریل اس رات میں اترتے ہیں، یہ رات فجر تک سلامتی اور خیر والی ہوتی ہے، اس مہینے میں گناہ اور خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے “پانچوں نمازیں ، جمعہ سے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے” ( مسلم)پیارے نبی ﷺ جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو اپنی کمر کس لیتے اور رات کو عبادت کرتے، رمضان میں لیلۃ القدر بھی ہے ؛ چنانچہ”جو شخص بھی ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید کے ساتھ اس رات کا قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” (متفق علیہ)آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے ” جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی امید سے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” (متفق علیہ)یہ بھی آپ ﷺ کا فرمان ہے “مرد کے اہل و عیال ، مال و دولت، ذاتی اور پڑوسیوں سے متعلق گناہوں کو روزہ مٹا دیتا ہے” (متفق علیہ) روزے کی وجہ سے خوشیاں ملتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے “روزے دار دو مرتبہ خوش ہوتا ہے: روزہ افطار کرے تو خوش ہوتا ہے، اور جس وقت اپنے پروردگار کو ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا” (بخاری) روزہ قیامت کے دن روزے داروں کیلیے شفاعت کرے گا “روزہ کہے گا:

پروردگار! میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور من پسند چیزوں سے روکے رکھا ؛ اس لیے میری اس کے بارے میں شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے رات کو اسے سونے نہیں دیا؛ اس لیے میری بھی اس کے بارے میں شفاعت قبول فرما۔ تو اللہ تعالی ان دونوں کی شفاعت قبول فرمائے گا” (مسند احمد)مومن اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے کسی بھی چیز کو حقیر نہیں سمجھتا؛ کیونکہ ایک پائی ہزاروں کی مالیت سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے، پانی پلانا اور کھانا کھلانا بھی صدقہ ہے،آپ ﷺ کا فرمان ہے “روزہ افطار کروانے والے کا ثواب بھی روزے دار کے برابر ہے، اور اس سے روزے دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں آتی”( سنن ترمذی)ابن عمر رضی اللہ عنہ جب بھی روزہ رکھتے تو افطاری مساکین کے ساتھ ہی کرتے تھے، صدقہ خیرات اور روزے بیک وقت رکھنا موجبِ جنت ہے، اللہ کے بندوں پر سخاوت کرنے والے پر اللہ سخاوت فرماتا ہے؛ کیونکہ جیسا کام ویسا دام،آپ ﷺ کا فرمان ہے “جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے دکھائی دیتا ہےتو ایک دیہاتی شخص نے کھڑے ہو کر کہا: “اللہ کے رسول ! یہ کس کیلئے ہیں؟”تو آپ ﷺ نے فرمایا “جو اعلی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے، اور رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو قیام کرے” (سنن ترمذی)اعتکاف بیٹھنا عبادت اور سنت ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ “رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں آخر دم تک اعتکاف بیٹھتے رہے”(متفق علیہ)زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں “مسلمانوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف بیٹھنا ہی چھوڑ دیا ہے؛ حالانکہ آپ ﷺ جب سے مدینہ آئے آپ ہر سال اعتکاف بیٹھتے رہے یہاں تک اللہ تعالی نے آپ کی روح قبض فرما لی”روزہ رکھ کر قربِ الہی کی جستجو اسی وقت کار آمد ہو گی جب فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے مکمل اجتناب پایا جائے گا؛ لہذا جب روزہ رکھو تو آپ کے ساتھ آپ کے کان، آنکھیں، زبان اور ہاتھوں کو بھی روزہ رکھوائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ روزے کا دن بھی عام دنوں جیسا ہی ہو ، اس لیے ! روزوں کے ثواب میں کمی کا باعث بننے والے امور سے بچو، حرام چیزوں کا ارتکاب مت کرو اور نہ ہی حرام چیزیں سنو،آپ ﷺ کا فرمان ہے “جو شخص جھوٹی بات کرنا یا اس پر عمل نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں “( بخاری)والدین کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی بلندئ درجات کا باعث ہے، لہذا برکتوں والے لمحات میں نیک اولاد اپنے والدین کے مزید قریب ہو جاتی ہے۔

اچھی بات کی دعوت دینے والے کو قیامت کے دن تک اتنا ہی اجر ملتا رہے گا جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے، اگر ایک آدمی بھی راہِ راست پر آ جائے تو یہ سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔اچھی دوستی معاونت ، قوت اور استقامت کا باعث ہوتی ہے، کوئی بھی عقل مند اچھے دوستوں سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا؛غار میں اچھے ساتھی نے ہی کہا تھاجب اس نے اپنی ساتھی سے کہا: غم نہ کر! بیشک اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے۔التوبۃ : 40 کسی شخص کے نیک ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ زبان کی حفاظت کرے اور نیک کام کرے، اللہ تعالی جب کسی قوم کے بارے میں برا فیصلہ فرما لے تو انہیں جھگڑوں میں ملوث فرما دیتا ہے اور انہیں کچھ کرنے کی توفیق نہیں دیتا ہے۔توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اللہ تعالی کی طرف سے نوازشیں ہو رہی ہیں، اب کامیاب وہی ہو گا جو توبہ کے دروازے پر دستک دے اور اللہ کے سامنے گڑگڑائے، اپنے نامہ اعمال میں کثرت کے ساتھ استغفار پانے والے کیلیے خوشخبری ہے۔نیکیوں میں مومن کو سرور اور مزا آتا ہے، کامیابی و کامرانی بھی اسی میں ہے، دن ہو یا رات تقوی کا دامن مومن کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ مسلمان کبھی فارغ نہیں بیٹھتا ؛ کیونکہ موت اس کی تاک میں ہے، اس لیے ذاتی محاسبہ کی روش اپنانے والا کامیاب اور غافل شخص نامراد ہوتا ہے، نتائج سامنے رکھنے پر نجات کے مواقع بڑھ جاتے ہیں ، اور ایسا شخص مبارکبادی کا مستحق ہے جو ہوس پرستی بن دیکھے وعدوں کی وجہ سے ترک کر دے۔اپنی نگاہوں کو بے لگام رکھنے والے کی حسرت و ندامت بھی بے قابو ہو جاتی ہے، نیک عورت ہمیشہ حیا کی چادر لیکر رکھتی ہے، پردہ ہی اس کی خوبصورتی ہے، وہ ہمیشہ بلا ضرورت اجنبی مردوں کے سامنے آنے اور بازار میں جانے سے کتراتی ہے۔

اللہ تعالی کے اس اسم الماجد سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ ضروری کمالات عالیہ حاصل کرنے میں سعی و کوشش کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ماسوا اللہ سے مستغنی و بےپرواہ ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم الماجدکے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص تنہائی میں اس اسم مبارک کو اس قدر پڑھے کہ بے خود ہوجائے توانشا ء اللہ اس کے قلب پر انوارِ الٰہیہ ظاہر ہونے لگیں گے۔ *اگر کوئی اس اسم کو پانی پردم کرکے مریض کو پلائے توانشا ء اللہ مریض شفاپائے گا ۔* جواس اسم کو دس بار شربت پرپڑھ کر پیئے گا وہ انشاء اللہ بیمارنہ ہوگا ۔ *جواس کوبکثرت پڑھے گا مخلوق کی نگاہ میں عزیز وبزرگ ہوگا۔ جو شخص اس اسم پاک کو خلوت میں پڑھے اتنا کہ بے ہوش ہو جائے اس کے دل پر انوار الٰہی ظاہر ہوں گے اور کوئی شخص اس کو بہت پڑھتا رہے تو مخلوق خدا کی نظروں میں بزرگ مرتبہ ہو۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی فیاضی بخشش کے ذریعے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment