قصص الانبیا ء

اللہ تعالی کا نام القہار کا معنی مفہوم اور وظائف

al qahar

القہار اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔القہار کے معنی ہیں قہر والا،غالب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ (اللہ) بندوں سے اوپر ہے اور ان پر غالب ہے اور وہ حکمت و دانائی والا ہے۔ اور (ہر چیز )کی خبر رکھنے والا ہے۔ (الفتح : 11)وہ قہار ہی ہے۔ تبھی گردنیں اس کے لیے جھک گئیں اور بڑے بڑے دنیاوی ظالم ذلیل و رسوا ہو گئے۔

اور بڑے ہی (با وقار) چہرے اس کے سامنے بجھ جاتے ہیں تمام مخلوقات اس کے سامنے پست ہو گئیں۔ اور تمام اشیاء نے اس کے جلال و عظمت و کبریائی اور اس کی قدرت کو مان لیا۔ اور اس کے سامنے تمام اشیاء کمزور اور ساکن ہو گئیں اور اللہ کی حکمتوں اور اس کے غلبہ کی وجہ سے دب گئیں۔ قہار کا مطلب ہے جو اپنے ظالم اور جابر دشمنوں کا غلبہ توڑے ان کو ذلیل کرے، بلکہ وہ جس کے قہر و غضب اور قدرت کے سامنے ہر موجود شے بے بس ہو اور اس کے قبضہ میں عاجز ہو۔اللہ تعالی کے نام القہار قہر سے مفہوم غصہ اور عتاب نہیں بلکہ غلبہ اور تسلّط اورقوت اور شدت ہے۔ اس مفہوم سے واضح ہوا کہ ایک نشوونما یافتہ ذات میں، جہاں ایک طرف رافت و محبت کی صفات ہوتی ہیں، تو دوسری طرف قوت اور جبروت کی صفات بھی ہوتی ہیں۔ ان سے فساد انگیزقوتوں کو سرکشی سے روکا جاتا ہے۔”اور وہ اپنے بندوں پرغالب ہے”۔ان ہی معانی میں اسے مومنین کی مخصوص صفت کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔”تم غمگین اور افسردہ مت ہو۔ جب تم مومن ہو، تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا”۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے :بادشاہی اکیلے قہار کے لئے ہے۔ آپﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ ہفتے کے تمام دن مجھے دکھائے گئے، ان میں جمعہ کا دن ایسا تھا جیسے ایک صاف شفاف آئینہ لیکن اس میں ایک سیاہ نکتہ تھا، میں نے پوچھا یہ نکتہ کیا ہے اور مجھے بتایا گیا یہی وہ دن ہے۔ جمعہ کے روز جن و انس کے علاوہ تمام مخلوق صبح سے شام تک گھبرائی ہوئی رہتی ہے اس لئے کہ قیامت اسی دن قائم ہونی ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے، بارے میں مختلف علماء کی مختلف آراء ہیں، کچھ کے نزدیک یہ جنت کی حوریں ہیں جو اس دن نہیں گھبرائیں گی، کچھ کے نزدیک یہ شہداء ہیں، کچھ کے نزدیک جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل ہیں، کچھ کے نزدیک وہ فرشتے ہیں جو اللہ کا عرش تھامے ہوئے ہیں، کچھ کے نزدیک کچھ اور لیکن یہ کہیں بھی واضح نہیں کہ یہ نہ گھبرانے والے کون لوگ ہیں۔

اللہ تعالیٰ موت کے فرشتے سے پوچھیں گے، کون زندہ ہے؟ اسرافیلؑ کی روح قبض کی جائے گی، میکائلؑ کی روح قبض کی جائے گی، جبرائیلؑ کی روح قبض کی جائے گی اور پھر ان فرشتوں کی جو اللہ کا عرش تھامے ہوئے کھڑے ہونگے، سب کی روح قبض کر لی جائے گی۔ پھر اللہ فرمائے گا، کون باقی ہے؟ عزرائیلؑ جواب دیں گے، یا اللہ میں اور آپ اور آپ لافانی ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت عزرائیلؑ کو حکم دے گا کہ جاؤ اور اپنی روح بھی قبض کرو۔ پھر اللہ فرمائے گا، کون باقی ہے؟ جواب میں خاموشی، کون باقی ہے؟ ایک بار پھر خاموشی۔آج کے دن کس کی بادشاہت ہے؟ کوئی جواب نہیں۔ بالکل ایسے ہی سب شروع ہوا تھا، بالکل ایسے ہی سب ختم ہوگا۔ کوئی باقی نہیں رہے گا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔یہ حالت کب تک رہے گی اس کے بارے صرف ایک عدد ہے اور وہ ہے چالیس، چالیس روز، چالیس سال، چالیس مہینے کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالی کے ویسے تو بہت سے نام ہیں لیکن جب میں نے القہار پڑھا اسکا مطلب ہے قہر والا تو دل میں ڈر سا پیدا ہوا کے ہم تو اتنے گناہگار ہیں اللہ تو القہار ہے ہم کیسے بچ پائیں گے اس کے قہر سے؟ اللہ ہی تو القہار ہے, ہم ناچیز انسان کیا شے ہیں اسکے آگے؟اللہ اگر چاہے تو آن کی آن سورج کو بجھا ڈالے سورج کی ساری تمکنت اور جاہ و جلال کو کوئلہ بنادے۔جبکہ انسان تو ہے ہی گناہ کا پتلا وہ یہ گمان کیسے کرسکتا ہے کہ اسکی پکڑ نہ ہوگی؟ انسان اپنے عیبوں میں اس قدر ڈوب گیا ہے کہ وہ القہار کو بلکل بھول بیٹھا ہےانسان اس قدر نادان ہے کہ وہ سمجھتا ہے اسکی دولت حسن رعب شخصیت کو کبھی گرہن نہیں لگے گا وہ اسے ہی ٹھاٹ سے زندگی گزارتا رہے گا

وہ تو اس فانی دنیا میں آکر اپنی آخرت کو بلکل بھول بیٹھا ہے۔کیا تونے سنا نہیں اللہ تو خود فرماتا ہے کے “ہر زی روح کو جلد یا بدیر موت کا مزہ چکھنا ہے” پھر اے نادان انسان تو کیسے بھول بیٹھا ہے اس دنیا کے مزے میں اس اوپر والے القہار کو؟سنو اے نادان انسان لوٹ آؤ کہ تمہارے حقیقت خاک ہے تو مٹی سے بنا ہے اور تمہارا اصل عاجزی ہے اور بیشک انسان اپنی ‘میں’ کے سبب ہی نقصان اٹھانے والا ہے۔انسان دنیاوی لطفوں میں اس قدر کھویا ہوا ہے کہ وہ واحد القہار کو بھول بیٹھا ہے جبکہ صرف ایک واحد القہار کی غلامی ہی ہمیں دنیا کی غلامی سے آزاد کرسکتی ہیں.انسان کچھ بھی سوچے کچھ بھی کرے کچھ بھی کہیں لیکن اسے بس کرنا وہی چاہیے جو اللہ کا حکم ہے کیونکہ بیشک اسی میں انسان کی فلاح چھپی ہے۔ لیکن انسان بڑا ناشکرا واقع ہوا ہے فلاح کو چھوڑ کر کہیں دور دنیاوی جھمیلوں میں حساب کتاب میں لگا رہتا ہےانسان بعض اوقات دنیاوی عیش وعشرت میں اتنا کھو جاتا ہے وہ یہ تو جانتا ہے کہ اللہ القہار ہے لیکن القہار میں چھپے اللہ کے قہر کو بھول جاتا ہےتو ایسے لوگوں کے لیے تو اللہ خود فرماتا ہے کہ بیشک جلد یا بدیر ہر کوئی اپنا کیا بھگتے گاانسان سمجھتا ہے کہ اسکی گردن ایسے ہی اٹھی رہے گی اس کو کبھی زوال نہ آئے گا انسان اپنی نادانیوں میں یہ بھول بیٹھا ہھ کہ اللہ القہار ہے تبھی تو انسان و جن غرض کے ہر جاندار کی گردن اس القہار کے آگے جھکی ہوئی ہے بڑے بڑے دنیاوی ظالم زلیل ورسوا ہوگئے اور بڑے بڑے باوقار چہرے اس کے آگے بجھ جاتے ہیں تمام مخلوقات اس القہار کے سامنے پست ترین ہیں پھر اے نادان انسان تجھے دنیاوی مال و دولت پر اتنا ناز کیوں ہے ۔

ہر انسان کو چاہیے کے سنبھل جائے اس القہار کے قہر سے ڈر جائے اس سے پہلے کہ اس القہار کا قہر تم پر برسے اور تم نیست وبابود ہوجاؤ۔سنبھل جا اے انسان,پلٹ جا اے انسان”بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے”۔اَلْقَھَّارُ (سب کواپنے قابومیں رکھنے والا) (۳۰۶)* جوشخص دنیا کی محبت میں گرفتار ہووہ کثرت سے اس اسم مبارک کو پڑھے تو انشاء اللہ دنیا کی محبت اس کے دل سے جاتی رہے گی اور خدا کی محبت پیدا ہوجائے گی۔دشمنوں پرفتح حاصل ہوگی۔* اگر چینی کے برتن پر لکھ کر ایسے شخص کو پلا یا جائے جو بوجہ سحر کے عورت پر قادر نہ ہو تواس کی برکت سے سحر دفع ہو۔* جس شخص کی کوئی حاجت ہووہ اپنے گھر یامسجد میں سرننگا کرکے ہاتھ اٹھا کرسوبار (یَاقَہَّارُ ) کہے انشاء اللہ اس کی حاجت پوری ہوگی۔* جواشراق کی نماز کے بعد سجدہ کرکے سات (۷) بار یَاقَہَّارُ پڑھے گا اللہ تعالی اسے غنی فرما دے گا ۔ *جس شخص کودشمنوں سے خطرہ ہووہ سورج نکلتے وقت اور رات کے آخر ی حصہ میں دشمنوں کی ہلاکت کیلئے سو بار یہ پڑھے یَاجَبَّارُ یَا قَہَّارُ یَاذَا الْبَطْشِ الشَّدِیْدِ پھر کہے خُذْحَقِّیْ مِمَّنْ ظَلَمَنِیْ وَعَدَا۔* جوکوئی کسی ظالم سے ڈر تاہووہ اس اسم کو فرض نماز کے بعد تین سوچھ(۳۰۶) بار پڑ ھاکرے اللہ تعالی اسے امن وامان میں رکھے گا اور دشمن پرغالب ہوگا حاکم مہربان ہوگا اور خوف دل سے جاتارہے گا۔* جوکسی مشکل کے واسطے اس اسم کو سوبار پڑھے مشکل حل ہوگی ۔ *دشمن کومغلوب کرنے کیلئے فجرکے فرض وسنت کے درمیان سوباراس اسم کا پڑھنا بہت مفید ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں القہار کے قہر سے بچائے اور ہمیں عفو و درگزر کے ساتھ بخشش عطا فرمائیں ۔ آمین ۔

Leave a Comment