اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام القابض کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

القابض

القابض کے معنی ہیں ’’روزی تنگ کرنے والا / محدود کرنے والا‘‘:جو ہر چیز پر قابض ہے۔ موت کے وقت روحوں کو قبض کرنے والا ہے ، وہ رزق کوتنگ کرتا ہے، روحوں کو قبض کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس کی رحمت اور حکمت کے تحت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ خالق بھی ہیں القابض بھی ہیں اور الباسط بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ مخلوق کی موت کے وقت ان کی ارواح قبض کر لیتا ہے۔

اور مخلوق میں سے جس کا رزق تنگ کرنا چاہے تنگ کر دیتا ہے اور مشرکین و کفار کے دلوں کو بند کر دیتا ہے۔ اور قیامت کے دن زمین و آسمانوں کو لپیٹ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس بندے کا رزق چاہے کشادہ کر دے۔ اور جس بندے کے دل پر چاہے اپنی رحمت کو وسیع کر دے۔ اور جس بندے کو چاہے وسعت علَمی دے دے۔القابض کے معنی تنگدستی دینے والا کے بھی ہیں ۔ امیروں سے صدقات کے ذریعے وصول کرنے والا،اور غریبوں پر رزق تنگ کرنے والا اور دلوں سے اپنی نظر کرم ہٹا کر سکیڑ دینے والا۔اور القابض کے معنی اس ذات کے بھی ہیں جو موت کے وقت جسموں سے روحوں کو قبض کرے۔اللہ تعالیٰ مخلوق کی موت کے وقت ان کی ارواح قبض کر لیتا ہے۔ اور مخلوق میں سے جس کا رزق تنگ کرنا چاہے تنگ کر دیتا ہے اور مشرکین و کفار کے دلوں کو بند کر دیتا ہے۔ اور قیامت کے دن زمین و آسمانوں کو لپیٹ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس بندے کا رزق چاہے کشادہ کر دے۔ اور جس بندے کے دل پر چاہے اپنی رحمت کو وسیع کر دے۔ اور جس بندے کو چاہے وسعت علَمی دے دے۔ایک حدیث شریف کہ جو حضرت عبیدبن عمرؓ بیان فرماتے ہیں، کہ ایک دفعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام گھر میں تشریف فرماتھے، اچانک ایک خوبصورت آدمی گھر میں داخل ہوا، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، کہ اے اللہ کے بندے تجھے میرے گھر میں کس نے داخل کیا؟انہوں نے عرض کیا، مجھے میرے پروردگار نے داخل کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کا پروردگار تو اس کا بڑا حقدار ہے پرتوکون ہے ؟

اس نے عرض کیا کہ میں موت کا فرشتہ ہوں توآپؑ نے فرمایا کہ مجھے تو نے اپنی بہت سی خصوصیات کے بارے میں بتایا ہے، مگر میں نے آنکھوں سے وہ کبھی نہیں دیکھیں، تو ملک الموت نے کہا، کہ آپ اپنا رخ مبارک ادھر کریں، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا چہرہ ادھر کرلیا، انہوں نے دیکھا کہ فرشتے کی کچھ آنکھیں آگے کی طرف تھیں، اور کچھ پیچھے کی طرف تھیں، اور آنکھوں کا ایک بال انسان کے قدکے برابر تھا یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے پناہ مانگی، اور فرمایا کہ اپنی پرانی صورت میں لوٹ آ،ملک الموت نے فرمایا، کہ جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ مجھے ایسے آدمی کی طرف بھیجتے ہیں کہ جس سے ملاقات اللہ تعالیٰ کو پسند ہو، تو مجھے اسی صورت میں بھیجتے ہیں، جسے آپ نے پہلی خوبصورت جوان کی شکل میں دیکھا ہے۔ حضرت کعبؓ بھی فرماتے ہیں کہ جب ملک الموت نے مومنین کی روح قبض کرتے وقت اپنا چہرہ دکھایا، تو وہ بہت خوبصورت، تاب ناک اور نور بھرا تھا، مگر جب انہوں نے گناہ گاروں اور کافروں کا روح قبض کرتے وقت اپنا چہرہ دکھایا، تو وہ غضب ناک بلکہ خوف ناک چہرہ دیکھ کر حضرت ابراہیمؑ پہ ایسا رعب اور دبدبہ چھایا کہ ان کا جوڑ جوڑ کانپ اٹھا، اور پیٹ زمین سے جا لگا، یعنی زمین پر منہ کے بل گرپڑے، اور قریب تھا کہ ان کی روح ہی ڈر کے مارے نکل جاتی، کیونکہ ملک الموت کے بقول حضرت ابن مسعودؓ وہ ایک سیاہ فام شکل میں تھے، ان کا سر آسمان سے باتیں کررہا تھا، اور ان کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے بلکہ ان کے جسم کے ہربال کا قد، انسانی قد کے برابر تھا اور ہربال سے آگ نکل رہی تھی۔ جبکہ نیک آدمیوں کی روح قبض کرتے وقت، ملک الموت کی شکل انتہائی خوبصورت ، نوربھری اور پاکیزہ خوشبو سے معطر ہوتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں بیک وقت آدمیوں کی روحیں حضرت عزرائیل علیہ السلام کیسے قبض کرتے ہیں؟

یہ سوال حضرت ابراہیمؑ نے حضرت عزرائیل ؑ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب جنگ ہوجاتی ہے، یا وباءپھیل جاتی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ پوری زمین کو ایک تھال کی مانند یعنی ایک طشتری کے برابر کردیا جاتا ہے، تو پھر موت کا یہ فرشتہ جہاں سے چاہتا ہے، روح نکال لیتا ہے۔حضرت شہربن حوشبؓ فرماتے ہیں، کہ ملک الموت بیٹھا ہوا ہے، اور پوری دنیا اس کے گھٹنوں کے درمیان ہے، اور وہ لوح، جس میں اولاد آدمؑ کی موت کے بارے میں لکھا ہوا ہے، وہ ملک الموت کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اس کے سامنے موت کے دوسرے فرشتے جو ان کے معاونین ہیں۔پیارے ناظرین جیسے کسی وزیراعظم کے معاونین ہوتے ہیں، مگر مقام تعجب ہے، کہ یہ زمینی معاونین وزیراعظم کے مسائل و مشکلات حل کرنے کے بجائے، ان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، ۔ میں یہ عرض کررہا تھا، کہ ملک الموت کے سامنے دوسرے موت والے فرشتے حالت مقام میں ہوتے ہیں، ملک الموت کے سامنے مرنے والوں کی فہرست ہوتی ہے، جس کو وہ دیکھتا رہتا ہے، اور اپنی پلک تک بھی نہیں جھپکاتا، اس لیے کہ مشرق مغرب شمال جنوب غرضیکہ ہرجگہ اندھیرے ، فضا، سمندروں، صحراﺅں اور پوری روئے زمین پر یکساں اور بیک وقت دسترس رکھتا ہے۔ رسول پاک نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے ملک الموت کو اتنی قوت بخشی ہے کہ زمین ایک پلیٹ کی مانند کردی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ملک الموت جو تمام زندوں کو موت دیتا ہے، وہ سب زمین والوں پہ اس طرح سے مسلط ہے، ہر انسان اپنے ہاتھ یعنی ہتھیلی پہ دسترس رکھتا ہے، وہ نیک انسانوں کے لیے نیک فرشتے بھیجتا ہے اور جب کسی پلید انسان کو موت دیتا ہے تو اس کے لیے عذاب کے فرشتے بھیجتا ہے۔

ایک اور بات جو قابل غور ہے کہ حضرت ابوالمثنیٰ حمصیؒ فرماتے ہیں کہ دنیا کی ہرسخت اور نرم مخلوق ان کی رانوں کے درمیان ہوتی ہے، جب گھمسان کی جنگ ہوتی ہے تو وہ مرنے والوں کی روح کو پکارتا ہے۔ توسب روحیں خود بخود ان کی طرف دوڑی جاتی ہیں، حضرت خمیثہؒ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داﺅدؑ کے پاس ملک الموت آئے، تو حضرت سلیمانؑ نے پوچھا، کہ تم ایک گھرانے پر آتے ہو، اور جس کی روح نکالنی ہوتی ہے، نکال لیتے ہو، جبکہ باقیوں کو چھوڑ دیتے ہو، انہوں نے جواب دیا، کہ مجھے اس کا علم نہیں ہوتا، کیونکہ یہ تو اسی کے حکم کے تابع ہے، جس کے عرش کے نیچے میں رہتا ہوں، مجھے تو ایک پروانہ عطا کیا جاتا ہے جن میں ان لوگوں کے نام درج ہوتے ہیں، جن کی روح میں نے قبض کرنی ہوتی ہے۔حضرت ابن جریرؓفرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ملک الموت کو حکم دیا جاتا ہے کہ فلاں روح، کو فلاں وقت اور فلاں دن قبض کرلے، حضرت عکرمہ ؓفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جانداروں کو ان کی نیند کے وقت موت دے دیتے ہیں، اور پھر ہرنفس سے ان کے بیداری کے اعمال کی بابت دریافت کرتے ہیں۔ پھر ملک الموت کو بلاکر فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں کی روح کو قبض کرلے، قارئین ہرمسلمان کو یہ تو پتہ ہے کہ موت کا ایک فرشتہ مقرر ہے۔ کیونکہ ملک الموت ہرآدمی سے روزانہ پانچ بار مصافحہ کرتا، اور ہربندے کو ستر بار دیکھتا ہے مگر ہمیں پتہ نہیں چلتا اللہ تعالی کے اس اسم القابض کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص اس نام پاک کو چالیس دنوں تک روزانہ (روٹی وغیرہ) چار نوالوں پر لکھ کر کھایا کرے تو انشاء اللہ وہ بھوک اور قبر کے عذاب سے امن میں رہے گا۔

جوشخص روٹی کے چار لقموں پر اس اسم مبارک کو لکھ کر چالیس دن تک کھائے گا بھوک، پیاس ،زخم اور دردوغیرہ کی تکلیف انشاء اللہ محسوس نہ ہوگی ۔* جس حاملہ عورت کوحمل گرنے کا خطرہ ہووہ کثرت سے یاقابضُ پڑھے ،حمل ساقط نہ ہوگا ۔ *جواس اسم کو ہرروز تیس(۳۰)بار پڑھے انشاء اللہ دشمن پر فتح ہوگی۔ *جوکوئی اس اسم کو آدھی رات کے وقت پڑھا کرے دشمن اس کا مقہور ہوگا۔* بعض علماء کہتے ہیں کہ (اَلْقَابِضُ) کو (اَلْبَاسِطُ) کے ساتھ (اَلْمُذِلُّ) کو (اَلْمُعِزُّ) کے ساتھ (اَلْمُمِیْتُ) کو(اَلْمُحْیِیْ ) کے ساتھ (اَلْمُؤَخِّرُ) کو(اَلْمُقَدِّمُ) کے ساتھ (اَلْمَانِعُ) کو(اَلْمُحْصِیْ) کے ساتھ اور(اَلضَّآرُّ) کو (اَلنَّافِعُ) کے ساتھ ملا کرذکر کرنا زیادہ مناسب ہے اوران میں ہر پہلے اسم مثلاً (اَلْمُذِلُّ ) کودوسرے اسم مثلا (اَلْمُعِزُّ)کے ساتھ ملائے بغیر پڑھنا مناسب نہیں ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے اور نیکوکاروں میں موت سے پہلے شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment