اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الفتاح کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الفتاح

الفتاح اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الفتاح کے معنی ہیں فتح دینے والا،مشکل کشا، وہ ذات جس کی مہربانی سے ہر شے کھل جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اے محمدﷺ) تو کہہ دے ہمارا رب ہمیں اکٹھا کرے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ اور وہ مشکل کشا، جاننے والا ہے۔۔ (سبا : 62)الفتاح کا معنی ہے : جو اپنے بندوں کے درمیان اپنی شریعت اور اپنی تقدیر کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور وہ وہی ہے جس نے اپنے لطف و مہربانی سے سچ بولنے والوں کی بصیرت و بصارت کھول دی۔

اور اپنی معرفت اور محبت کے لیے ان کے دلوں کو کھول دیا اور اپنے بندوں کے لیے اپنی رحمت اور انواع و اقسام کے دروازے کھول دیے۔ اور وہی اہل باطل کے خلاف اہل حق اور ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کرتا ہے۔جس کی رہنمائی سے ہر مشکل حل ہو جاتی ہے کبھی تو ممالک کو دشمنوں سے آزاد فرماتا ہے اور کبھی عافوں کے دلوں سے پردے ہٹا کر زمین و آسمان اور غیب کی کنجیاں ان کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ الفتاح اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الفتاح کا ایک معنی ہے ’’فیصلہ کرنے والا، کھولنے والا‘‘ :مشکلات حل، اپنی رحمت کا دروازہ کھولنے اور حق اور باطل کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے والا ہے۔ وہ شرعی احکام کے ذریعے سے ، تقدیر کے فیصلوں کے ذریعے اور جزا اور سزا کے ذریعے سے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے۔ وہ اپنے لطف وکرم سے سچے لوگوں کی چشم بصیرت کو کھول دیتا ہے، ان کے دل اپنی معرفت، محبت اور اپنی طرف جھکاؤ کے لیے کھول دیتا ہے۔ اپنے بندوں کے لیے رحمت کے اورطرح طرح کے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔ انھیں وہ اسباب مہیا فرماتا ہے جن سے انھیں دنیا اور آخرت کی بھلائی نصیب ہو جائے۔ ارشاد ہے:’’اللہ لوگوں کے لیے جو رحمت کھولتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے روک لے اس کے بعد اس (رحمت ) کو کوئی نہیں بھیج سکتا۔‘‘دوسری جگہ ارشاد ہے تو کہہ دے ہمارا رب ہمیں اکٹھا کرے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ اور وہ مشکل کشا، جاننے والا ہے۔الفتاح کا ایک معنی ہےحکم کرنے والا۔ اور بعضوں نے کہا ہے رزق رحمت کے دروازے کھولنے والا۔ اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان صلح و صفائی اور انصاف کے لئے فیصلہ کرنے کی سعی و کوشش کرتا رہے اور مظلوموں کی مدد کرے نیز لوگوں کی دنیاوی اخروی حاجتوں کو پورا کرنے کا ارادہ رکھے۔

قشیری نے فرمایا کہ جس شخص نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ رزق و رحمت کے دروازے کھولنے والا۔ اسباب میسر کرنے والا اور تمام چیزوں کو درست کرنے والا ہے تو اب وہ اللہ کے علاوہ کسی اور میں اپنا دل نہیں لگائے گا۔باری تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق پر رحمت اور علم و معرفت کے دروازے کھولتے ہیں اور مخلوقات کے لئے حاکم علی الاطلاق ہیں ۔انبیاء کرام کے ذریعہ رشد و ہدایات سے باب مفتوح وا کئے جاتے ہیں اور خدا کے دشمنوں کو رسوا کیا جاتا ہے ۔ یہ اسم جلالی ہے عنصر آتشی ہے اعداد ابجد قمری ۴۸۹ ہیں ۔ اس کے موکل کا نام “ممحائیل” ہے ۔ اس موکل کے ماتحت چار افسر ہیں سرحماکیل۔عزرائیل۔اسرافیل ۔ تنکفیل ہر ایک ۴۸۹ صفوں کا مالک ہے اور ہر صف میں ۴۸۹ فرشتے ہیں ۔ ان سب موکلوں کے ہاتھ میں برکتوں کی کنجیاں ہیں ۔ جو شخص بھی ریاضت و روزہ سے اس اسم کی تلاوت میں مشغول ہوتا ہے تو موکل اس پر نازل ہو کر اس کی حاجت پوری کرتے ہیں ۔اگر جمعہ کے روز اس اسم کو لکھ کر پاس رکھے اور اس اسم کی تلاوت کرتے رہیں تو عجائبات کا ظہور ہو ۔ابوالحسن شاذلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب رزق اور برکت کی طلب ہو تو یہ اسماء “الرزاق الوھاب الفتاح الغنی المغنی”مخمس میں لکھ کر اور اپنی حاجت اس کے وسط میں لکھ کر پھر آیت شریف “حسبنا اللہ و نعم الوکیل “کو ۳۱۳ مرتبہ ورد کریں اور ہر سینکڑے پر دعا کریں مشک و عنبر کا بخور روشن کرے اور نقش مخمس کو عمامہ میں رکھے یا اپنے سیدھے بازو پر باندھ لے اس ورد کو ۸ یوم تک جاری رکھیں انشاء اللہ غیبی مدد ہوگی ۔ہر وہ کام جس کا حل بظاہر مشکل نظر آرہا ہو اس اسم پاک کی برکت سے آسانی سے حل ہوجاتا ہے ۔ بعد از نماز فجر دونوں ہاتھوں کو سینے پر رکھ کر ستر بار یا فتاح کا ورد کرے اس سے دل صاف و شفاف ہوجاتا ہے زنگ میل دور ہوجاتا ہے نوروصفائی قلب کے لئے از حد موزوں ہے ۔

امام بونی رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق یہ اسم سائلوں کے لئے مناسب ہے ۔ جو بھی فرد کثرت سے اس اسم کا ورد کرے اللہ تعالیٰ فتح و نصرت عطا فرمائے ۔اور جو شخص دو رکعت نماز اس ترکیب سے ادا کرے کہ قرات سے پہلے اور پیچھے تسبیح پڑھے اور رکوع سے کھڑے ہو کر بھی تسبیح پڑھے اور سجدے کے بعد بھی تسبیح پڑھے اور پہلی رکعت میں سورہ یس اور دوسری رکعت میں تبارک الذی پڑھے پھر دعا کرے حاجت پوری ہوگی ۔اگر کوئی کسی مشکل کو سلجھانا چاہے تو بعد از عشاء ۱۷۰ مرتبہ اس اسم کو پڑھے ۔کسی شخص پر اگر کوئی ناگہانی مصیبت آن پڑی ہو یا کسی مصیبت کے آنے کا خوف ہو یا کوئی مہم درپیش ہو تو اسے چاہئے کہ جمعہ کی رات کو غسل کرکے پاک کپڑے پہنے اور اس کے بعد چار رکعت نماز نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ۱۰۰ مرتبہ افوض امری الی اللہ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ۱۰۰ مرتبہ الا الی اللہ تصیر الاموتیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ۱۰۰ مرتبہ نصر من اللہ و فتح قریب اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ۱۰۰ مرتبہ انا فتحنا لک فتحا مبینا اور سلام کے بعد اسی طرح بیٹھے اور ۱۰۰ مرتبہ پڑھے غفرانک ربنا والیک المصیرپھر سجدے میں جا کر سو مرتبہ پڑھے استغفراللہ واتوب الیہ عاملین کاملین کا تجربہ ہے کہ سجدے سے سراٹھانے سے قبل حاجت پوری ہوجاتی ہے ۔اگر کوئی شخص ۱۸ شب و روز میں ۸۰۷۹۳ (اسی ہزار سات سو ترانوے ) مرتبہ اس اسم کا ورد کرے تو فتح و کشادگی حاصل ہو عالم الغیب سے فتوح کا متواتر اظہار ہو لیکن بعد ختم ریاضت بطور مداومت ۵۰۰ مرتبہ اپنے ورد میں رکھے۔* جوشخص نماز فجر کے بعد دونوں ہاتھ سینہ پر رکھ کر (۷۰) مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھا کر ے گا۔ انشا ء اللہ اس کادل نورایمان سے منور ہوجائے گا اور قلب میں طہارت پیدا ہوگی ۔

جو کوئی اپناہاتھ سینے پررکھ کرنماز فجر کے بعد اکہتر (۷۱)بار یہ اسم پڑھے گااس کا دلپاک اور منور ہو جائے گا اور حق کے راستے کا حجاب اس سے ہٹا لیا جائے گا اور اسے انشا ء اللہ تمام امور میں آسانی اور رزق میں برکت عطا کی جائے گی ۔* اگر کندذہن چینی کی رکابی پراس کو لکھ کر زبان سے چاٹے تو ذہین ہوجائے گا ۔ *جواسے سات بار پڑھے گادل کی تاریکی جاتی رہے گی ۔* جواس کا بکثرت وِردر کھے اس کے دل کی کدورت دور ہوجائے گی اورفتو حات کے دروازے اس پر کھل جائیں گے۔ جو شخص نماز فجر کے بعد اپنے سینہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر ستر بار اس اسم کو پڑھے تو اس کے دل کا میل جاتا رہے گا اور اسے قلب و باطن کی بہت زیاد صفائی حاصل ہو گی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس اسم مبارک کے فوائد و برکات حاصل کرنے اور قلب و باطن کی صفائی کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment