اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الغفار کا معنی مفہوم اور وظائف

وظائف

اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک نام الغفار ہے ۔اس کا معنی ہے در گزراور پردہ پوشی کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ’’عفو‘‘ بھی ہے۔ جس کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ مجرم، خطاکار اور سزا و عذاب کے مستحق کو معاف کرنے والا اور اس کی نافرمانیوں، خطاؤں اور گناہوں سے درگزر کرنے والا۔ جرم ، غلطی اور نافرمانی کے باوجود سخت برتاؤ کے بہ جائے نرمی و محبت سے پیش آنے والا۔

”یہی وجہ ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چُھپائے گا، اسے ذلّت و رسوائی سے بچائے گا تو اﷲ کریم روزِ قیامت اس کے گناہوں کو چُھپا لیں گے”اگر وہ شخص غلطیوں کا عادی نہیں ہے ، اور نہ ہی وہ جرائم میں اشتہاری مشہور ہے تو پھر اس کی پردہ پوشی کرنا جائز ہے، اسے وعظ و نصیحت کی جائے اور دوبارہ غلطی کرنے سے خبردار کیا جائے۔لیکن اگر وہ جرائم اور گناہوں کا عادی ہے، تو پھر ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ اس کی اطلاع ایسے افراد یا اداروں تک پہنچائی جائے جو اسے ایسی سزا دیں جس سے وہ غلطیوں اور جرائم سے باز آ جائے۔اور اگر غلطی کا تعلق لوگوں کے حقوق سے ہو، مثلاً: کسی گھر سے چوری کر رہا ہو، یا دکان میں نقب لگا رہا ہو، یا کسی عورت سے زنا کر رہا ہو تو پھر اس کی پردہ پوشی کسی صورت میں جائز نہیں ہے؛ کیونکہ ایسی صورت میں اس کی پردہ پوشی سے لوگوں کی حق تلفی ہو گی، اس میں انسان کی پاکدامنی داغ دار ہو گی اور یہ خیانت کے زمرے میں آئے گا، اسی طرح اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے کسی شخص کو قتل کیا ہے یا کسی مسلمان کو زخمی کیا ہے تو پھر بھی اس کی پردہ پوشی درست نہیں ، اس سے بھی متاثر مسلمان کی حق تلفی ہو گی، بلکہ اسے چاہیے کہ متعلقہ اداروں تک یہ بات پہنچا کر اپنی گواہی درج کروائے، تا کہ مظلوم مسلمان کو اس کا حق مل سکے،رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” بے شک اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا ہے درگزری کو پسند کرتا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:” درگزری کو لازم پکڑ اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے اعراض کر۔ ”مزید فرمایا:” اور تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے۔ ”ایک اور جگہ فرمایا:

” اگر تم کسی نیکی کو علانیہ کرو یا پوشیدہ یا کسی برائی سے درگزر کرو پس یقینا اللہ تعالیٰ مکمل معاف کرنے والا اور مکمل قدرت رکھنے والا ہے۔اللہ رب العزت نے عفو و درگزری پر آمادہ کیا اور رغبت دلائی ہے۔درگزر ” ان افعال میں شامل ہے جن کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلیتا اور اس کے ہاں جو ثواب ہے اس کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ درگزر کرنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں شامل ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ بندوں کو عذاب دینے پر قدرت رکھنے کے باوجود عفو درگزر سے کام لیتے ہیں۔”فرمایا:اور معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے اللہ قصوروں کا معاف فرمانے والا مہربان ہے۔ ”جزاء چونکہ عمل کی جنس ہے اس لیے جب تو کسی سے درگزر کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ سے درگزر کرے گا اور جب تو کسی کی غلطی معاف کرے گا تو اللہ تعالیٰ تیری غلطیوں پر معافی کی قلم پھیر دیں گے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے درگزر کرنے اور غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھنے اور غصہ پی جانے پر ابھارا ہے کیونکہ ایسا کام جہاد بالنفس اور اعلیٰ عبادت میں داخل ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو پچھاڑنے والے طاقت ور نہیں بلکہ طاقت ور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر کنٹرول رکھے۔ ”دوسری حدیث میں فرمایا” سب سے زیادہ اجر والا گھونٹ اللہ تعالیٰ کے ہاں غصہ کا گھونٹ ہے جسے بندہ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے پی جاتا ہے۔ ”ابوداؤد میں حدیث ہے:”

جو شخص غصہ کو نافذ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود اسے روک لیتا ہے اور پی لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جس حور کو وہ چاہے پسند کرلے۔ ”یعنی اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے درمیان مشہور کردیں گے اور اس کی تعریف کریں گے اور اس کے ذریعہ فخر کریں گے حتیٰ کہ اسے کوئی بھی حور لینے کا اختیار دیا جائے گا یہ محفوظ جنت میں جانے اور بلند درجات تک پہنچنے کی خوشخبری اور کنایہ ہے۔ غصہ پر قابو پانا نفس امارہ (یعنی برائی پر ابھارنے والے نفس) کے خلاف کھلی جنگ ہے لہٰذا جس نے اس کی پیروی ترک کردی جنت اس کا ٹھکانہ اور حور اس کی جزا ہے۔اتنی پیاری تعریف، اتنی خوبصورت ثناء اور اتنا زیادہ بدلہ محض غصہ کو کنٹرول کرنے پر ہے اور اگر اس کے ساتھ عفو و درگزری یا مدمقابل پر احسان بھی مل جائے پھر تو سونے پہ سہاگہ ہے۔مصطفی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ” اللہ تعالیٰ صدقہ کے مال میں کمی نہیں کرتا درگزر کرنے کی وجہ سے بندے کو عزت میں ہی زیادہ کرتا ہے اور جو کوئی اللہ کے لیے فروتنی (تواضع انکساری) اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا کریں گے۔”اس کے دو مطلب ہیں)…اپنے ظاہر پر ہی محمول ہے یعنی جس نے عفو و درگزر سے کام لیا وہ لوگوں کے دلوں میں با عزت اور با شرف بن جائے گا۔(۲)…آخرت میں اجر اور عزت دینا مراد ہے۔بسا اوقات دونوں مطلب ہی مراد لیے جاتے ہیں یعنی دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی اجر و ثواب کا مستحق۔چنانچہ ایسا انسان ظالم سے نرمی و بردباری سے پیش آتا ہے اور اپنے دشمن پر غصہ نکالنے پر قدرت رکھنے کے باوجود خاموش رہتا ہے اور غصہ پی جاتا ہے۔ نیز جو بیوقوفی کرتا ہے اس سے اعراض کرتا ہے اور وہ شخص ان سب افعال کی بنیاد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی اور ثواب پر بھی رکھتا ہے۔رب کائنات کا فرمان ہے:” اور جو معاف کردے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بلاشبہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔”ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے:

جس نے قصاص ترک کردیا اور اپنے اور ظالم کے درمیان عفو و درگزر کے ذریعہ درستی کرلی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے یعنی اس کام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے اجر سے نوازے گا کیونکہ یہ اعلیٰ اخلاق کی علامت اور بڑے اچھے کاموں میں سے ہے۔ اَلْغَفَّارُ ( (۱۲۸۱)* جوشخص نماز جمعہ کے بعد (۱۰۰) مرتبہ اس اسم مبارک کو پڑھے گا انشاء اللہ اس پر مغفرت کے آثار ظاہر ہونے لگیں گے اور ہر تنگی رفع ہوگی اور بے شمار رزق حاصل ہوگا ۔* اور جوشخص نماز عصر کے بعد روزانہ ’’ یَاغَفَّارُ اِغْفِرْلِیْ ‘‘ پڑھے گا اللہ تعالی اسکو انشاء اللہ بخشے ہوئے لوگوں کے زمرہ میں داخل کریں گے ۔* جوکوئی ( یَاغَفَّارُ ) کی مداومت کرے گا اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ‘ اور اس کے نفس کی بری خواہشات دور ہوں گی ۔ *جو یَاغَفَّارُ اِغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جمعہ کی نماز کے بعد سوبار پڑھے گا اللہ تعالی اس کو بخش دے گا اور آخرت میں لطف ومغفرت کا حق دار ٹھہر ائے گا۔*جواس اسم کو جمعہ کے بعد سوبار پڑھے گا تو مغفرت کے آثار پیدا ہوں گے تنگی دفع ہوگی اور بے گما ن رزق ملے گا۔* غصہ کرنے والوں پریہ اسم پڑھا جائے توان کا غصہ زائل ہوجاتاہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں عفو و درگزر کرنے اور قیامت کے دن ہمارے گناہوں سے درگزر اور پردہ پوشی فرمائے ۔ آمین ۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔

Leave a Comment