اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام العليم کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

العليم

العليم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔وہ ذات، جو پو شیدہ وسربستہ رازوں کو جانتی ہو، خشکی وتری سمندر کے اندر کی ساری چیزوں کو جانتی ہو، درخت سے کوئی پتہ گرتا ہو تو وہ اس کے علم میں ہو، زمین کی تہوں میں کوئی دانہ ہو تو وہ اسے بھی جانتا ہو۔العليم کے معنی ہیں ’’علم رکھنے والا‘‘بہت زیادہ علم رکھنے والا، ہر اول اور آخر کو جانتا ہے جوہر چیز کو ہر وقت جاننے والا ہے۔ جس کا علم ظاہر اور باطن کو محیط ہے۔

وہ چھپائی ہوئی باتیں بھی جانتا ہے اور ظاہر کی ہوئی بھی، واجبات سے بھی باخبر ہے اور ممکنات ومحالات سے بھی، وہ ماضی سے بھی واقف ہے ، حال سے بھی اور مستقبل سے بھی چنانچہ اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور وہ جاننے والا اور قدرت والا ہے۔العلیم اس کو کہتے جو ظواہر و باطن ، مخفی اور اعلانیہ ،عالم بالا اور عالم زیریں پر ، ماضی حاضر اور زمانہ مستقبل کا علم رکھتا ہو اور غیب اور موجود کا علم بھی اسے ہو، اللہ سبحانہ ملحدوں کے لایعنی اقوال سے پاک ہے۔ جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اشیاء کے واقع ہونے سے پہلے ان کا علم نہیں رکھتا۔ اور جب کوئی چیز وجود میں آتی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہوتا ہے۔ کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے وہ اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی آواز سے کہا۔ کہ میرا رب بھولتا نہیں ہے (طہ ۵۲)۔اللہ تعالی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اس پر زمین وآسمان میں حرکات وسکنات اور اقوال وافعال طاعات ومعاصی میں سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے 🙁 کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ تعالی کے علم میں ہے یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے بیشک یہ امر تو اللہ تعالی پر بالکل آسان ہے ) الحج / 70 اور اللہ تعالی نے اپنے علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اور اسے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے 🙁 اور آپ کسی حال میں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے بھی قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہمیں سب کی خبر ہوتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو اور آپ کے رب سے آسمان وزمین میں کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ ہی اس سے چھوٹی اور نہ ہی بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے ) اور اللہ تعالی اکیلا ہی علام الغیوب ہے آسمان وزمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اس کا علم رکھتا ہے ۔

جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے 🙁 بے شک میں آسمان وزمین کے غیب کا علم رکھتا ہوں اور جو تم ظاہر کر رہے ہو اور چھپا رہے ہو وہ بھی میرے علم میں ہے ) اور اللہ تبارک وتعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے اور اس کے علاو غیب کی کنجیاں کسی اور کے پاس نہیں جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اس آیت میں فرمایا ہے 🙁 اور اللہ تعالی ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ان کو اس کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا اور وہ جو کچھ سمندروں اور خشکی میں ہے اس کا علم بھی اس کے پاس ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور زمین کے تاریک حصوں میں کوئی دانہ نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے اور اللہ وحدہ ہی یہ جانتا ہے کہ قیامت کب قائم ہو گی اور بارش کے نزول کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور جو کچھ ماں کے رحم میں ہے اور انسان کے عمل وقت اور جگہ اور اس کی موت کا علم بھی اللہ تبارک وتعالی کے پاس ہی ہے ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد مبارک ہے 🙁 بےشک اللہ تعالی ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش نازل فرماتا ہے اور جو کچھ ماں کے پیٹ میں ہے اسے بھی جانتا ہے اور کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور نہ ہی کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا بیشک اللہ تعالی علم والا اور خبر رکھنے والا ہے ) القمان / 34اور اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے ہمارا کوئی بھی معاملہ اس سے پوشیدہ نہیں ۔اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے 🙁 اور تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے ) الحدید

اور اللہ تبارک وتعالی ہمارے سارے اعمال پر مطلع ہے ہمارے اچھے اور برے اعمال کو جانتا ہے پھر اس کے بعد وہ ہمیں اس کی خبر بھی دے گا اور قیامت کے دن ان اعمال کا بدلہ بھی ۔جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے 🙁 کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی آسمانوں وزمین کی ہر چیز کو جانتا ہے تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ ہی زیادہ مگر وہ جہاں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا بیشک اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے ) المجادلۃ / 7 اور اللہ وحدہ ہی غیب اور حاضر، سری اور جہری اشیاء کو جانتا ہے ۔جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے متعلق فرمایا ہے :(ظاہر وپوشیدہ کا وہ علم رکھنے والا ہے سب سے بڑا اور بلند وبالا ) الرعد / 9 اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے 🙁 اور اگر تو اونچی بات کہ تو وہ تو ہر ایک پوشیدہ تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے ) طہ / 7 کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس شخص نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ میرا حال خوب جانتا ہے تو اب اس کے لئے ضروری ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے کسی مصیبت و بلا میں مبتلا کرے تو وہ اس پر صبر کرے اور جو کچھ عطا کرے اس کا شکر ادا کرے اور اس سے اپنی خطاؤں کی بخشش و معافی کا خواستگار ہو۔ بعض کتابوں میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ (بندوں سے) فرماتا ہے اگر تم یہ نہیں جانتے کہ ہر حالت میں تم پر میری نظر رہتی ہے اور میں تمہیں دیکھتا ہوں تو پھر تمہارے ایمان میں کمی ہے اور اگر تم یہ جانتے ہو کہ میں تمہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہوں تو پھر کیوں تم مجھے دیکھنے والوں میں سب سے حقیر سمجھتے ہو؟ یعنی (دوسروں سے تو تم ڈرتے ہو اور شرم کرتے ہو کہ کہیں وہ تمہیں برائی اور تمہارے کسی جرم کو دیکھ نہ لیں لیکن کسی بھی برائی اور جرم کے وقت مجھ سے نہ ڈرتے ہو اور نہ شرم کرتے ہو جب کہ تمہاری ایک ایک حرکت میری نظر رہتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ (نعوذ باللہ) میرے مقابلہ پر تم دنیا والوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہو۔

اللہ کے علاوہ سب میں علم عطائی ، محدود اور حادث ہے، بندوں میں معلومات کی سطح الگ الگ ہوتی ہیں، کسی کی کم کسی کی زیادہ، عام آدمی کے مقابلہ میں علماء کا علم زیادہ ہوتا ہے، خیر القرون کا علم بعد والوں کے مقابلہ میں زیادہ راسخ تھا، اور ان میں صحابہ کا علم غیر صحابہ سے زیادہ گہرا اور زیادہ مستحکم تھا، صحابہ سے زیادہ علم انبیاء و رسل کا علم ہے، اور انبیاء و رسل میں سب سے زیادہ علم محمد رسول اللہ ﷺ کا علم ہے، مخلوقات میں کسی کا علم آپ کے علم جیسا نہیں ہے، آپ ﷺکا علم سب سے فائق تر ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو علم اولین و علم آخرین سے نوازا ہے، جو شخص نبی ﷺ کے علم کی صفت میں یہ مانتا ہو کہ آپ کا علم اللہ کا عطاء کردہ ہے، اللہ کے علم کے مقابلہ میں آپ ﷺ کا علم محدود اور حادث ہے تو وہ اللہ کی صفت علم میں شرک کا مرتکب نہیں ہوتا۔اللہ تعالی کے اس اسم مبارک العلیم کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص اس اسم کو بہت زیادہ پڑھتا ہے حق تعالیٰ اسے اپنی معرفت بہت زیادہ عطا کرتا ہے اور جو شخص نماز کے بعد یا عالم الغیب سو مرتبہ کہے حق تعالیٰ اسے صاحب کشف بنائے گا اور اگر کوئی چاہے کہ اسے کسی پوشیدہ چیز کا علم ہو تو اسے چاہئے کہ وہ عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں یہ سو مرتبہ کہہ کر سوئے انشاء اللہ اس پر اس چیز کی حقیقت آشکارا ہو جائے گی۔* جوشخص کثرت سے ’’ یَاعَلِیْمُ ‘‘ کاوردکرے گا اللہ تعالیٰ اس پر انشاء اللہ علم ومعرفت کے دروازے کھول دیں گے،اور اس کاحافظہ قوی ہوگا ۔* جو شخص رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا کی تلاوت کرے گا انشاء اللہ اس کے علم میں بے حدا ضافہ ہوگا۔* جوکوئی اس اسم کو دل میں پڑھے صاحب معرفت ہوجائے اور اگر فرض نماز کے بعد ڈیڑھ سو (۱۵۰) بار پڑھے گا صاحب یقین ہوجائے گا ۔

*جوکوئی نماز کے بعد سو( ۱۰۰) بار (یَاعٰلِمَ الْغَیْبِ ) پڑھے اللہ تعالی اس کو صاحب کشف بنا دے گا ۔ *جواستخارہ کرنا چاہے شب جمعہ کونماز کے بعد سوبار مسجد میں یہ اسم مبارک پڑھ کر سورہے مطلوبہ حال سے آگاہی پائے گا۔جو کوئی نامعلوم امردریافت کرنا چاہے،اول دورکعت نماز پڑھے پھر دردوشریف،پھر (سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّامَاعَلَّمْتَنَآ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ )ستر ( ۷۰) بار پڑھ کر یَاعَلِیْمُ عَلِّمْنِیْ یَا خَبِیْرُاَخْبِرْنِیْ یَا مُبِیْنُ بَیِّنْ لِّیْ سو سوبار پڑھ کر اپنا مطلب تصور کرکے لیٹ جائے اگر نیند نہ آئے توا ٹھ کرکسی مجمع میں چلا جائے وہاں لوگوں کی باتوں سے بطریق اشارہ معلوم ہو جائے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے اس اسم مبارک کی برکت سے علم کے حاصل کرنے اور اس کے ساتھ ہمیں علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔

Leave a Comment