اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الرزاق کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

وظائف

رزاق اللہ کا ایک نام ہے جو اللہ کے ننانوے صفت صفاتی ناموں میں شامل ہے۔ یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ‘رزق دینے والا’ یا رزق پہنچانے والا کے ہیں۔ اس نام کی بہت برکت ہے۔اللہ کے نام رزاق کو سمجھنے کے لئے، ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ رزق کے ذرائع کیا ہیں.کون سے رزق میں آپ کے لئے کونسا فائدہ ہے. لہذاوہ الررزاق ہے، وہی ہے جو آپ کو رزق دیتا ہے، اورلیتابھی ہے- وہ ہر ایک کو اس کےرزق کا ذریعہ فراہم کرتا ہے: مسلم اور غیر مسلم، عورت اور مرد، انسان اور جانور اور پودوں. اورجو زمین پر سب کچھ ہے-

اللہ فرماتا ہے-اور وہ لوگ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ) جو عمل وہ کرتے رہے ہیں اللہ انھیں ان کا بہتر بدلہ اور اپنے فضل سے زیادہ بھی دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا کرتا ہےاللہ کریم نے انسانی زندگی کو شکم ِ مادر میں وجود کے ساتھ ہی حرکت سے مشروط کر دیا ہے جو اس کی زندگی کی اساس کے لیے لحد تک ضروری ہے۔انسان کو اشرف المخلوقات کے درجہ پر فائز کیا تو اس کی زندگی کی خصوصیات بھی بدل دی گئیں۔اسے عطا ہونے والا یا تو حلال ہوگایا پھر حرام ہوگا۔ابھی ہم نے آپ کو بتایا کہ رزاق کامعنی رزق پیدا کرنے والا اور مخلوقات کو رزق پہنچانے والا۔ رزق اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس سے فائدہ اٹھایا جائے پھر اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ظاہری اور باطنی باطنی وہ ہے جس سے نفس کو اور دل کو فائدہ پہنچے جیسے علوم معارف وغیرہ اور ظاہری وہ ہے جس سے بدن کو فائدہ پہنچے مثلاً کھانے پینے کی چیزیں اور اسباب یعنی کپڑا وغیرہ۔اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر چیز کا ذخیرہ فرمادیا تاکہ زمین میں رہنے والی مخلوق قیامت تک اپنی ضروریات پوری کرتی رہے اس میں پہاڑ ،سمندر،صحراء اورہر چیز شامل ہے اس میں اس بات کا بھی خیال رکھاگیا کہ کسی ایک علاقے کی بجا ئے مختلف چیزوں کو زمین کے مختلف طبقات میں رکھا جائے تاکہ تمام لوگ ایک دوسر ے کے ضرورت مند ہوں اور آپس میں رابطہ رکھنے کی ضرورت محسوس کرتے رہیں ،اس لیے سائلین کا معنٰی حاجت مند بھی کیاگیاہے۔اللہ تعالیٰ نے زمین ،سمندر اورپہاڑوں میں اس طرح خزانے چھپادئیے ہیں کہ ہر دور کے انسان اپنی کوشش اورصلاحیت کے مطابق نکالتے رہیں گے اور ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ لیکن پھر بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بناتے ہیں جو سب سے بڑا گناہ اور جرم ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’بھلا وہ کون ہے؟ جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایاپھر اس کے ذریعہ سبز وشاداب باغ اُگائے جن کااُگانا تمہارے بس میں نہیں تھاکیا اللہ کے ساتھ کوئی الٰہ ہے؟

بلکہ یہ لوگ حق سے پھرنے والے ہیں اور کون ہے؟ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا چلائے اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں اور دودریائوں کے درمیان پردہ حائل کر دیا۔ کیااللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ‘‘(النمل:20۔21)کائنات میں موجود ہر چیز کو رزق دینے والا چونکہ اللہ ہی ہے اس لئے ارشاد باری تعالی ہے ’’کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق نہیں اُٹھائے پھرتے، اللہ ہی انہیں اور تمہیں رزق دیتا ہے وہ سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔‘‘روزی کے بارے میں تسلّی دی جا رہی ہے کہ ہر انسان غور کرے کہ کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق جمع نہیں کرتے مگر انہیں بھی ’’ اللہ تعالیٰ‘‘ رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی عطا کرتا ہے، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے یعنی وہ تمہارے وطن میں ہی نہیں بلکہ تم جہاں بھی ہوتے ہو تمہارا حال جانتا ہے اور تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے ۔ رزق کی فراہمی کے بارے اپنے رب کا یہ اصول یاد رکھو کہ زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق’’ اللہ ‘‘ کے ذمّہ ہے وہ سب کے رہنے سہنے کی جگہ اور ان کے مرنے کا مقام بھی اس کے علم میں ہے اس نے سب کچھ کھلی کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ ’’اور زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمہ ہے اور وہ اس کے قیام اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ۔سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے ۔‘‘ (ھود:6)آیت میں ذکر کیا گیا لفظ ’’دابۃ‘‘ ہر جاندار کوکہا جاتا ہے لیکن یہاں خطاب انسانوں سے کیا جارہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کاذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے والی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہروہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا ، پانی ،خوراک اور رہن سہن کی ضروریات شامل ہیں۔

یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس نے اپنا دسترخوان اتنا وسیع بنایا ہے کہ ہر کھانے والے کو اس کی خوراک مل رہی ہے گوشت کھانے والے درندے کو گوشت مل رہا ہے اور دانہ دُنکا لینے والے کو دانہ دنکا صبح وشام میسر ہے۔ چند جمع کرنے والوں کے سوا باقی کھانے والے صبح وشام تازہ خوراک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے البتہ حکم ہے کہ اللہ کا رزق تلاش کیا کرو۔ اس کے لیے محنت ومشقت کرنا لازم ہے لیکن رزق کی کمی وبیشی کاانحصار انسان کی محنت پر نہیں۔اگر رزق محنت کی بنیاد پر دیا جاتا تو معذور اور لاچار بھوکے مر جاتے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے مطابق ہے جس کے تحت وہ لوگوں کا رزق بڑھاتا اور گھٹاتا رہتا ہے۔ اگر کہیں قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے طے شدہ اصول کے مطابق ہوتی ہے جس کا سبب بنیادی طور پر انسان ہی ہوا کرتا ہے۔ بے شک وہ قحط سالی پانی کی قلت اور بارش کی کمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ وہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الزاق سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اس بات پر کامل یقین و اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی بھی ذات رزق دینے کے قابل نہیں ہے لہٰذا وہ رزق کی توقع صرف اللہ تعالیٰ سے ہی رکھے اور اپنے تمام امور اسی کی طرف سونپے ، اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے لوگوں کو جسمانی اور روحانی رزق پہنچاتا رہے یعنی جو محتاج و ضرورت مند ہوں ان پر اپنا مال خرچ کرے۔ جو کہ کم علم اور گمراہ ہوں انہیں تعلیم دے اور ان کی ہدایت کرے اور ہر مسلمان کے لئے دعائے خیر کرتا رہے وغیرہ وغیرہ کسی عارف سے پوچھا گیا کہ آپ کے کھانے پینے کا انتظام کیسے ہوتا ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ جب سے مجھے اپنے خالق کا عرفان حاصل ہوا میں نے کبھی بھی اپنے رزق کا فکر نہیں کیا اسی طرح ایک عارف سے پوچھا گیا کہ قوت غذا کیا ہے؟ انہوں نے کہا وہ پاک ذات یعنی اللہ ایسا زندہ ہے جس کے لئے موت نہیں ہےکا ذکرقوت غذا ہے ۔اللہ تعالی کے اس اسم بابرکت الرزاق کے فوائدو برکات میں سے ہے کہ * جوشخص نماز صبح سے قبل اپنے مکان کے چاروں کونوں میں دس دس مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھ کردم کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر رزق کے دروازے انشا ء اللہ کھول دیں گے اور بیماری ومفلسی اس کے گھر میں ہرگز نہ آئے گی ۔* یہ عمل قبلہ کی داہنی جانب سے شروع کیا جائے اور منہ قبلہ کی طرف ہی رہے ۔* جواس اسم کو نہار منہ بیس مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائے اللہ تعالیٰ اسے ایساذہن عطا فرماتاہے جو باریکیوں اور مشکلا ت کو سمجھ لیتا ہے ۔*جوفجر کے فرض وسنت کے درمیان اکتالیس دن تک ساڑھے پانچ سومرتبہ یہ اسم روزانہ پڑھے گاوہ دولت مند ہوگا ۔* اس میں فجر کی نماز جماعت سے پڑھنا اور اسم مبارک کے اول وآخر گیارہ گیارہ باردرودشریف پڑھنا شرط ہے ۔ جوعشاء کی نماز کے بعد سرننگا کرکے (یَارَزَّاقُ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ یَارَزَّاقُ ) گیارہ بار اول وآخر درودشریف کے ساتھ اکتالیس روز پڑھے گا اس کیلئے رزق کے دروازے کھل جائیں گے ۔ *جوکوئی اس اسم کو پانچ سو پینتالیس(۵۴۵) بار روزانہ پڑھے گا ، رزق اس کا کشا دہ ہوگا ، اورکوئی دشواری اور درماندگی نہ آئے گی ۔* جواس اسم کو روزانہ تنہائی میں ایک ہزار بار پڑھے گا انشاء اللہ خاص روحانی مقام پائے گا ۔

جوہر نماز کے بعد اس کے پڑھنے کا معمول بنا ئے گا غیب سے روزی پائے گا ۔* جوشخص اس اسم کو سترہ بار اس شخص کے سامنے پڑھے جس سے کوئی حاجت ہوانشاء اللہ وہ حاجت پوری ہوجائے گی ۔*جو اس اسم کو سو بار قیدی کی رہائی کیلئے پڑھے گا اسے خلاصی ملے گی ، اور اگر بیمار کی صحت کیلئے پڑھے گا اسے شفاملے گی انشاء اللہ ۔ جو شخص صبح صادق کے طلوع کے بعد اور نماز فجر سے پہلے اپنے گھر کے چاروں کونوں میں اس اسم پاک کو دس دس مرتبہ پڑھے اس طرح کہ داہنی طرف سے پڑھنا شروع کرے اور منہ قبلہ کی طرف سے نہ پھیرے تو اس گھر میں رنج ومفلسی کا گزر نہیں ہو گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس اسم بابرکت الرزاق کے ذریعے رزق میں برکت مانگنے اور رزق حلال کے حصول کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

Leave a Comment