اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الرحیم کا مجرب عمل

الرحیم کا مجرب عمل

اللہ تعالی کے دو اسم و صفت رحمن اور رحیم ، قرآن اور سورہ الحمد کی ابتدا میں لفظ “اللہ” کے بعد قرار پائے ہیں۔ ان دو ناموں میں ایسی وسعت اور عمومیت ہے کہ دیگر اسمائے پروردگار سے زیادہ وسیع اور عام ہیں اور دیگر صفات ایک طرح سے انہی دو ناموں کی طرف پلٹے ہیں حتی غضب اور انتقام جو بظاہر ان دو اسم و صفت کے مدمقابل ہیں، وہ بھی انہی کی طرف پلٹے ہیں۔

رحمن اور رحیم “رحمت” سے ماخوذ ہیں۔ ظاہری طور پر “رحمن” صیغہ مبالغہ ہے، فعلان کے وزن پر اور رحیم صفت مشبہہ ہے، فعیل کے وزن پر۔ان دونوں کے معنی واحد نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر ایسا ہو تو ایک معنی کو دو لفظوں میں دہرانے کا کوئی مقصد ہی نہیں بنتا، لہذا دونوں میں فرق پایا جاتا ہے، دو فرق یہ ہیں۱۔ رحمن، رحمت کی کثرت اور فراوانی کے معنی میں ہے، جب کہا جاتا ہے: رحمن، تو اس کا مطلب “کثیرالرحمۃ” اور “وسیع الرحمۃ” ہے۔ البتہ رحمن کو جو صیغہ مبالغہ کہا جاتا ہے اللہ کے بارے میں صحیح نہیں ہے، ، اور رحیم، “دائم الرحمۃ” کے معنی میں ہے۔جب ان دو خصوصیات کو مدنظر رکھا جائے تو رحمن یعنی “کثیرالرحمۃ” مومن کو بھی شامل ہوتا ہے اور کفار کو بھی، لیکن رحیم یعنی “دائم الرحمۃ” صرف مومنین سے مختص ہے۔ کثیرالرحمۃ” یعنی اللہ کی رحمت کائنات کی سب مخلوقات کو شامل ہوتی ہے، نہ صرف مادیات کو، بلکہ مجرّدات کو بھی جیسے ملائکہ، اور رحیم یعنی دائمی رحمت جو مومن انسانوں سے مختص ہے۔۲۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ رحمن دنیا سے مختص ہے اور رحیم آخرت سے مختص ہے ۔رحمن دنیا میں “کثیرالرحمۃ” کے معنی میں ہے اور اس رحمت کا تسلسل آخرت سے متعلق ہے۔ بعض سلف کی تفسیروں سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ «الرَّحْمَٰنِ» سے مراد دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا اور «الرَّحِيمِ» سے مراد آخرت میں رحم کرنے والا ہے۔ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «رحمٰن» اسے کہتے ہیں کہ جب اس سے جو مانگا جائے عطا فرمائے اور «رحیم» وہ ہے کہ جب اس سے نہ مانگا جائے وہ غضبناک ہو۔“ ترمذی کی حدیث میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوتا ہے ۔

رحمٰن اور رحیم اللہ تعالیٰ کے دو صفاتی نام ہیں ، رحمٰن کا معنٰی ہے: نعمتیں عطا کرنے والی وہ ذات جو بہت زیادہ رحمت فرمائے اور رحیم کا معنی ہے : بہت رحمت فرمانے والا۔یاد رہے کہ حقیقی طور پرنعمت عطا فرمانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے کہ وہی تنہا ذات ہے جو اپنی رحمت کا بدلہ طلب نہیں فرماتی، ہر چھوٹی، بڑی ، ظاہری، باطنی، جسمانی، روحانی، دنیوی اوراخروی نعمت اللہ تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے اور دنیا میں جس شخص تک جو نعمت پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہے کیونکہ کسی کے دل میں رحم کا جذبہ پیدا کرنا، رحم کرنے پر قدرت دینا، نعمت کو وجود میں لانا، دوسرے کا اس نعمت سے فائدہ اُٹھانا اور فائدہ اٹھانے کے لئے اَعضاء کی سلامتی عطا کرنا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ نے ’’ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ کے بعد اپنے دو اوصاف رحمٰن اور رحیم بیان فرمائے،اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ وہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہے ،تو اس سے (سننے اور پڑھنے والے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کی وجہ سے اس کا) خوف پیدا ہوا،تو ا س کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے دو اوصاف رحمٰن اور رحیم ذکر کر دئیے گئے جن کے ضمن میں (اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی) ترغیب ہے یوں ترہیب اور ترغیب دونوں کا بیان ہو گیا تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی طرف اچھی طرح راغب ہو اور اس کی نافرمانی کرنے سے رکنے کی خوب کوشش کرے۔ قرآن مجید میں اور مقامات پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عذاب دونوں کو واضح طور پر ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ :میرے بندوں کو خبردو کہ بیشک میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں۔

اوربیشک میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’:گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا، بڑے انعام(عطا فرمانے) والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کی طرف پھرنا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر مومن جان لیتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کتنا عذاب ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اور اگر کافر جان لیتاکہ اللہ تعالیٰ کے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک نہ ہو اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو رحمٰن کہنا جائز نہیں جبکہ رحیم کہا جا سکتا ہے جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی رحیم فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ :بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔اللہ تعالی کے نام اَلرَّحِیْمُ کا معنی ہے بڑا مہربان۔* جو شخص روزانہ ہرنماز کے بعد سومرتبہ ’’ یَارَحِیْمُ ‘‘ پڑھے گااس کے قلب کی غفلت اور نسیان دفع ہوجائے گا ، اور تمام دنیوی آفتوں اور عملِ مکروہ سے انشاء اللہ محفوظ رہے گا اور تمام مخلوق اس پر مہر بان ہوجائے گی ۔ * اور اگر اس کومشک وزعفران سے لکھ کر کسی محفوظ جگہ بدخلق آدمی کے گھر میں دفن کردیا جائے تواس میں حیاء ، ترحم اور مسکنت پیدا ہوجائے گی ۔

جو ہر روز سو (۱۰۰) بار پڑھنے کا معمول بنا ئے اسے اللہ تعالی کی رحمت نصیب ہوتی ہے اور لوگوں کے قلوب اس کیلئے نرم ہوجاتے ہیں ۔ *جواس کا کثرت سے ورد کر تاہے وہ مستجاب الدعوات بن جاتاہے اور زمانے کے مصائب سے محفوظ رہتاہے۔*جوکوئی ہرروزیہ اسم پانچ سو(۵۰۰) بار پڑھے گا دولت پائے گا اور اللہ تعالی کی مخلوق اس پر مہر بان وشفیق ہوگی۔* جواسے صبح کی نماز کے بعد پانچ سو پچپن (۵۵۵) بار پڑھتا رہے وہ ہر حاجت سے غنی رہے گا ۔ *جو یَارَحْمٰنَ الدُّنْیَاوَرَحِیْمَھَا اکتالیس ( ۴۱) روزتک پڑھے گا اس کی حاجت پوری ہوگی۔*جو شخص اسے روزانہ سو (۱۰۰) بار پڑھے اس کے دل کی قساوت دور ہوجاتی ہے ۔* جس کی کوکسی ناگوار کام کا اندیشہ ہووہ (اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ) کو کثرت سے پڑھے انشاء اللہ محفوظ رہے گا۔* اگر اسے لکھ کر پانی سے دھوکر پانی کسی درخت کی جڑمیں ڈالا جائے تو پھل میں برکت ہوتی ہے ۔ یارحیم ۔ * ہر روز فجر کی نماز کے بعد 100 مرتبہ ورد کرنے سے آپ پر ہر شخص مہربان ہوجائے گا اور محبت و شفقت سے پیش آئے گا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس رحمت والے نا م کے ذریعے اللہ تعالی کی رحمت حا صل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment