اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الرافع کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

اللہ تعالی کا نام الرافع کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الرافع کا معنی ہےبلند کرنے والا، جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کر دے،فرمانبرداروں کو بلند کرنے والا،ان لوگوں کو بلند کرنے والی جو دنیا میں منکسر المزاج ہیں۔منکسر المزاج ہونے کا مطلب یہ ہے کہ :’’عجزو انکسار، اپنے آپ کو فروتر سمجھنا، دوسروں کوحسب ِ مراتب احترام دینا‘‘، اس کے ایک معنی ہیں:’’حق کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا اور شریعت کے حکم کو بلاچوں وچرا تسلیم کرنا۔

دینی امور میں تواضع کے معنی ہیں: رب کی رضا پر راضی ہونا، یعنی بندہ رب کی بندگی محض اس لئے نہ کرے کہ دین کی بات اس کی رائے، خواہش، مزاج اور عادت کے مطابق ہے، بلکہ اس لئے کرے کہ وہ شارع کا حکم ہے۔ دین کے لئے عاجزی اختیار کرنا، یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کے آگے جھک جانا۔ تواضع اعلیٰ انسانی قدر ہے، اللہ تعالیٰ کو بندے کا یہ وصف بہت پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صدقے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی، معاف کرنے سے اللہ عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو کوئی اللہ کی رضا کیلئے تواضع کرتا ہے، اللہ اُسے رفعت عطا فرماتا ہے۔‘‘ (مسلم) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تواضع کا قائل بندہ اپنے دل میں کشادگی رکھتا ہے اور دوسروں کی غلطی معاف کردیتا ہے۔ ایک عَجز و انکسار اضطراری ہے، یعنی حالات کے جبرکا نتیجہ ہوتا ہے۔ شیخ سعدی نے کہا ہے: کہ فقیر اگر عاجزی اختیار نہ کرے، تو اُسے خیرات کون دے گا، یہ تو اس کی مجبوری ہے، لیکن اگر کوئی صاحبِ منصب تواضع کرے تو یہ اس کا وصف ِکمال ہوتا ہے اور اس کی خوبی قرار پاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں اسے رفعت و سرفرازی عطا فرماتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! اگر میں چاہوں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ چلیں، میرے پاس ایک فرشتہ آیا، اس کی کمر کعبے کے برابر تھی، اس نے کہا: آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: آپ چاہیں تونبوت اور بندگی کو اختیار کرلیں اور چاہیں تو نبوت اور بادشاہت کو اختیار کرلیں، تو میں نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا، انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ عاجزی کو اختیار کریں، تو میں نے کہا: میں نبوت اور بندگی کو اختیار کرتا ہوں۔‘‘ (شرح السنہ،ج۱۳)

معراج النبی ﷺ کے موقع پر جب نبی ﷺ درجاتِ عالیہ اور مراتب ِ رفیعہ میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی: ’’اے محمد! میں آپ کو شرف دینا چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اپنی عبودیتِ خاصّہ کا شرف عطا کیجئے تو اللہ تعالیٰ نے آیتِ معراج نازل فرمائی۔‘‘ (سبل الھدیٰ والرشاد، ج۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا فقر اضطراری نہیں بلکہ اختیاری تھا، چنانچہ آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے کمزوروں میں تلاش کرو، کیونکہ تمہیں انہی کمزوروں کی (دعائوں کی) برکت سے رزق عطا کیا جاتا ہے اور نصرتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔‘‘ (ترمذی) لوگوں کا ظاہری حال دیکھ کر انہیں حقیر نہیں سمجھنا چاہئے، حدیث پاک میں ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہت سے پراگندہ حال ایسے ہیں کہ انہیں دروازوں سے دھتکار دیا جاتا ہے۔ (دوسری حدیث میں ہے: ’’(ظاہری حال کو دیکھ کر) لوگ ان کی طرف نظرِ التفات نہیں کرتے۔‘‘ (اَلْمُسْتدرک) لیکن (اللہ کی بارگاہ میں ان کی محبوبیت کا عالم یہ ہے کہ) اگر وہ کسی بات کے بارے میں اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سرخرو فرماتا ہے۔‘‘ ( مسلم(فقراء صحابہ کرام صہیب، یاسر، عمار، مقداداور بلال رضی اللہ عنہم حضورؐ کی مجلس میں اکثر بیٹھا کرتے تھے۔ قریش کے سرداروں اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن وغیرہ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر آپؐ ہمارے لئے ایک وقت مخصوص کردیں، جس میں یہ خستہ حال لوگ نہ ہوں، تو ہم آپؐ کی بات سن لیں گے، لیکن ان کے ساتھ برابری کی سطح پر بیٹھنا ہماری توہین ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(۱) ’’(اے رسول!) اپنے آپ کو اُن لوگوں کے ساتھ لازم رکھیں جو اپنے رب کی رضا کیلئے صبح و شام اُس کی عبادت کرتے ہیں اور آپ اپنی نگاہِ التفات کو اُن سے نہ ہٹائیں۔‘‘ (الکہف:۲۸) (۲)’’اور (اے رسول!) آپ ان لوگوںکو دور نہ کیجئے جو اپنے رب کی رضا کے لئے صبح وشام اُسے پکارتے ہیں۔‘‘ (الانعام:۵۲) حضرت خباب بیان کرتے ہیں: (اس کے بعد) ہم جب نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوتے اور مجلس کے برخاست ہونے کا وقت آجاتا تو ہم خود کھڑے ہوجاتے اور رسولؐ اللہ کو چھوڑ دیتے یہاں تک کہ آپؐ مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے۔ ( ابن ماجہ)

حدیث پاک میں ہے: ’’رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک شخص کا گزرہوا، آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: اِس شخص کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، انہوں نے عرض کی: یہ اس قابل ہے کہ اگریہ نکاح کا پیغام دے تو اُسے قبول کیا جائے، کسی کی سفارش کرے تو اُسے مان لیا جائے اور کوئی بات کرے تو اُسے توجہ سے سنا جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپﷺ خاموش ہوگئے، پھر مسلمانوں میں سے ایک فقیر کا گزر ہوا، آپﷺ نے صحابہ سے پوچھا: اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو، انہوں نے عرض کی: یہ اس قابل ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو قبول نہ کیا جائے، کسی کی سفارش کرے تو نہ مانی جائے اور کوئی بات کہے تو اُسے توجہ سے نہ سنا جائے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: (تم جس کی تعریف کر رہے تھے اگر) اُس جیسوں سے زمین بھر جائے، تو یہ ایک (دوسرا شخص) اُن سب پر بھاری ہوگا۔‘‘رسول اللہ ﷺ دعا میں تضرع اور عجزو انکسار کامظاہرہ فرماتے، حدیث پاک میں ہے: ’’اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو نفع نہ دے، ایسے قلب سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کے اندر تیرے لئے عاجزی نہ ہو، ایسی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو قبول نہ ہو، ایسے نفس سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کبھی سیر نہ ہواور بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ وہ بدترین ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ یہ بدترین رازداں ہے اور سستی، بخل، بزدلی اور بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، عمر کی اُس منزل سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو انسان کو بے توقیر بنادے، دجال کے فتنے، قبر کے عذاب اور حیات وموت کے ہر فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! ہم تجھ سے ایسے دل کا سوال کرتے ہیں جوآہ وزاری کرنے والا اورپیکر عجز ہو، جو تیری طرف رجوع کرنے والا ہو، اے اللہ! میں تجھ سے ایسے اعمال کا سوال کرتا ہوں جو تیری مغفرت کا سبب بننے والے اور تیرے عذاب سے نجات دینے والے ہیں اورہم ہر گناہ سے سلامتی اور ہر نیکی کی توفیق مانگتے ہیں جو جنت کے حصول اور جہنم سے نجات کا وسیلہ ہوں۔

آپؐ سجدہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: ’’اے اللہ! میرا قلب اور قالب دونوں تیری بارگاہ میں سجدہ ریز ہیں، میرا دل تجھ پر ایمان لایا، تونے مجھ پر جو نعمتیں فرمائیں، میں اُن کا اعتراف کرتا ہوں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔غرض اللہ تعالی کے اس اسم الرافع کا مقصود ہے کہ عاجزی اختیار کی جائے اور تکبر سے بچا جائے ، اور اللہ تعالی کے اس اسم کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ * جو شخص ہرمہینہ کی چودھویں رات کو آدھی رات کے وقت (۱۰۰) مرتبہ یَارَافِعُ پڑھے تواللہ پاک اسے انشاء اللہ مخلوق سے بے نیاز کردیں گے اور تو نگری عطا فرمائیں گے۔* جو کوئی پیر کے دن یاجمعہ کی رات مغرب یاعشاء کے بعد چارسو چالیس (۴۴۰)مرتبہ اس اسم کا ورد کرے گا اسے مخلوق کے درمیان ایک رعب نصیب ہوگا۔* جوکوئی اسے آدھی رات یادوپہر کو سوبار پڑھے گاتو حق تعالی جل شانہ اس کو برگزیدہ کرے گا اور وہ تونگر اور بے نیاز ہوگا۔*جوکوئی اس اسم کو ہر روز بیس بار پڑھے گا انشاء اللہ مراد پائے گا ۔* جوکوئی اسے تین سوا کیا ون (۳۵۱)بار پڑھے گا مخلوق کے در میان عزیز ہوگا۔ *جواسے ستر (۷۰) بارپڑھے گا ظالموں سے امن میں رہے گا اورا نشاء اللہ سرکشوں سے محفوظ رہے کا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس اسم کی کثرت کرنے اور عاجزی اور انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔

Leave a Comment