اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الخافض کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

اللہ تعالی کا نام الخافض کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الخافض اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں ایک نام ہے جس کا معنی ہے کہ کافروں کو ذلیل و خوار کر کے یا ان کو اپنی درگاہ سے دور رکھ کر پشت کرنے والا۔ الخافض کے معنی ہیں پست کرنے والا،وہ ذات جو کفار کو بد بختی کے ذریعے پست کرتی ہے۔ نافرمانوں کو پست کرنے والا،پست اور ذلیل کرنے والی۔ جو دنیا میں مغرور تھے،فاروق اعظم اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

یعنی قیامت اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو آتش جہنم میں نگونسار کر دے گی اور اولیاء اللہ کو جنت میں سر بلندو سرفراز کرے گی۔جس کی صورت یوں ہے کہ جب صور پھونکنے سے تمام دنیا فنا ہوجائے گی چالیس برس اسی سنسانی کی حالت میں گزر جائیں گے پھر حق تعالی کے حکم سےدوسری بار صور پھونکا جائے گا اور پھر زمین آسمان اسی طرح قائم ہوجائیں گے اور مردے قبروں سے زندہ ہوکر نکل پڑیں گے اور میدانِ قیامت میں اکھٹے کردیے جائیں گے اور آفتاب بہت نزدیک ہوجائے گا جس کی گرمی سے دماغ لوگوں کے پکنے لگیں گے اور جیسے جیسے لوگوں کے گناہ ہوں گے اتنا ہی زیادہ پسینہ نکلےگا اور لوگ اس میدان میں بھوکے کھڑے کھڑے پریشان ہوجائیں گے ،جو نیک لوگ ہوں گے ان کے لیے اس زمین کی مٹی مثل میدے کے بنادی جائےگی،اس کو کھاکر بھوک کا علاج کریں گے اور پیاس بجھانے کو حوض کوثر پر جائیں گے پھر جب میدان قیامت میں کھڑے کھڑے دق ہوجائیں گے اس وقت سب مل کر اول حضرت آدمؑ کے پاس پھر اور نبیوں کے پاس اس بات کی سفارش کرانے کے لیے جائیں گے کہ ہمارا حساب کتاب اور فیصلہ جلدی ہوجائےسب پیغمبر کچھ کچھ عذر کریں گے اور سفارش کا وعدہ نہ کریں گے،سب کے بعد ہمارے پیغبر ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر وہی درخواست کریں گےآپﷺ حق تعالی کے حکم سے قبول فرماکرمقام محمودمیں (کہ ایک مقام کا نام ہے)تشریف لے جاکر شفاعت فرمائیں گے، حق تعالی کا ارشاد ہوگا کہ ہم نے سفارش قبول کی، اب ہم زمین پر اپنی تجلی فرماکر حساب کتاب کیے دیتے ہیں، اول آسمان سے فرشتے بہت کثرت سے اترنا شروع ہوں گے اور تمام آدمیوں کو ہر طرف سے گھیر لیں گےپھر حق تعالی کا عرش اترےگا اس پر حق تعالی کی تجلی ہوگی اور حساب کتاب شروع ہوجائے گا اور اعمال نامے اڑائے جائیں گے

ایمان والوں کے داہنے ہاتھ میں اور بے ایمانوں کے بائیں ہاتھ میں وہ خود بخود آجائیں گے اور اعمال تولنے کی ترازو کھڑے کی جائے گی ،جس سے سب کی نیکیاں اور بدیاں معلوم ہوجائیں گی اور پل صراط پر چلنے کا حکم ہوگاجس کی نیکیاں تول میں زیادہ ہوں گی وہ پل سے پار ہوکر بہشت میں جا پہنچے گا اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے اگر اللہ تعالی نے معاف نہیں کیے ہیں تو وہ دوزخ میں گر جائے گا اور جس کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے ایک مقام ہے اعراف جنت ودوزخ کے بیچ میں وہ وہاں رہ جائے گا، اس کے بعد ہمارے پیغمبرﷺ اور دوسرے حضرات انبیاءؑ اور عالم اور ولی اور شہید اور حافظ اور نیک بندے گنہگار لوگوں کو بخشوانےکےلیے شفاعت کریں گے، ان کی شفاعت قبول ہوگی،اور جس کے دل میں ذرا سا بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ سے نکال کر بہشت میں داخل کردیا جائے گا اس طرح جو لوگ اعراف میں ہوں گے وہ بھی آخر کو جنت میں داخل کردیے جائیں گےاور دوزخ میں خالی وہی لوگ رہے جائیں گے جو بالکل کافر ومشرک ہیں اور ایسے لوگوں کو کبھی دوزح سے نکلنانصیب نہ ہوگا،جب سب جنتی اور دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے ہوجائیں گے اس وقت اللہ تعالی دوزخ اور جنت کے بیچ میں موت کو ایک مینڈھے کی صورت میں ظاہر کرکے سب جنتیوں اور دوزخیوں کو دکھلاکراس کو ذبح کرادیں گے اور فرمائیں گے کہ اب نہ جنتیوں کو موت آئےگی نہ دوزخیوں کو آئے گی، سب کواپنے اپنے ٹھکانوں پر رہنا ہوگا،اس وقت نہ جنتیوں کے خوشی کی کوئی حد ہوگی اور نہ دوزخیوں کے صدمےاور رنج کی کوئی انتہا ہوگی ۔

جس دن سب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گےاس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے،چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑجائیں گےان سے کہا جائے گاکہ کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا،لو پھر اب مزہ چکھو اس عذاب کا کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے،دوسری طرف جن لوگوں کے چہرے چمکتے ہوں گےوہ اللہ کی رحمت میں جگہ پائیں گے وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ حضرت ابن عباس رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ بے شک قیامت کے روز تم ننگے پاؤں ،ننگے بدن بے ختنہ جمع کیے جاؤگے یہ فرماکر قرآن مجید کی آیت جس طرح ہم نہ پہلی بار تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم اسے دوبارہ پیدا کردیں گے)تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ سب سے پہلے قیامت کے روزابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔اس روز کافروں کا حشربیان کرتے ہوتے ارشاد باری تعالی ہے اور قیامت کے روز ہم ان کواندھے گونگے اور بہرے کرکے چہروں کے بل چلائیں گے۔اللہ تعالی کے دین سے دنیا میں جن لوگوں نے آنکھیں پھیریں اور مالک حقیقی کی آیات سن کر قبول کرنے اور اقرار کرنے کے بجائے سب سنی ان سنی کردی ان کی آنکھوں اور کانوں اور زبانوں کی طاقتیں سلب کرلی جائیں گی اور گونگے بہرے ہوکر اٹھیں گے، یہ ابتدائے حشر کا ذکر ہے پھر آنکھیں اور زبانیں اور کان کھول دیے جائیں گے تاکہ محشر کے حالات اور اس کی سختیاں دیکھ سکیں اور حساب کتاب کے موقعہ پر ان سے جواب سوال کیا جاوے۔اس روز کفار کی نیکیاں بے وزن ہوں گی ارشاد باری تعالی ہے کہ کہہ دو : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ ہیں جو اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں،یہ وہ لوگ ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی ساری دوڑ دھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں،یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مالک کی آیتوں کا اور اس کے سامنے پیش ہونے کا انکار کیا اس لیے ان کا سارا کیا دھرا غارت ہوگیا ؛چنانچہ قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن شمار نہیں کریں گے،یہ ہے جہنم کی شکل میں ان کی سزا؛کیونکہ انہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی اور میری آیتوں اور میرے پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا۔

اللہ تعالی کے اس اسم الخافض سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنی کسی بھی حالت پر اعتماد نہ کرے اور نہ اپنے علوم اعمال میں سے کسی چیز پر بھروسہ کرے اور اس چیز کو پست و مغلوب کرے جس کو اللہ نے پست کرنے کا حکم دیا ہے مثلاً نفس و خواہش، اس چیز کو بلند کرے جس کو اللہ نے بلند کرنے کا حکم دیا ہے جیسے دل اور روح۔ منقول ہے کہ ایک شخص کو لوگوں نے ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ تم اس مرتبہ پر کیونکر پہنچے؟ اس نے کہا کہ میں نے اپنی ہوا یعنی اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے فضا کی ہوا کو میرے لئے مسخر کر دیا۔ جو شخص تین روزے رکھے اور چوتھے روز ایک نشست میں اس اسم پاک الخافض کو ستر ہزار بار پڑھے وہ دشمنوں پر فتح پائے گا۔جو شخص اس اسم پاک کو آدھی رات کے وقت یا دوپہر میں سو مرتبہ پڑھے حق تعالیٰ اسے مخلوق میں برگزیدہ اور تونگر اور بے نیاز بنائے گا۔ جوشخص روزانہ پانچ سومرتبہ یَاخَافِضُ پڑھا کرے گا ۔اللہ تعالی اس کی حاجتیں پوری اور مشکلات دور فرمادیں گے۔ *جوشخص تین دن تک مسلسل روزے رکھے اور چوتھے روز ایک ہی مجلس میں بیٹھ کر (۷۰) بار یَاخَافِضُ پڑھے انشا ء اللہ دشمن پر فتحیاب ہوگا۔ * جو اسے ایک ہزار بار پڑھے گاانشاء اللہ تمام دشمنوں سے محفوظ رہے گا ۔ *جوکوئی اس اسم کوبہت پڑھے حاکم وقت اس سے رضا مندر ہے ۔* اگر کوئی مشکل پیش آئے توہر نماز کے بعد ایک ہزار چار سو اکیاسی ( ۱۴۸۱) بار اس کا پڑھنا بہت مفید ہے ۔ *جوکوئی ظالم سے ڈرتاہواس اسم کو ستر ( ۷۰) بار پڑھا کرے اس کے ظلم سے بچارہے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قیامت کی رسوائیوں سے بچنے اور قیامت کے روز نیکیوں کے بے وزن ہونے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔

Leave a Comment