اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الحمید کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

وظائف

الحمید اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحمید کے معنی جس کی تعریف کی جائے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تم یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ (تمام مخلوقات سے )غنی ہے۔ تعریف والا ہے۔ (البقرہ : 267)اللہ ہی الحمید ہے کیونکہ سب مخلوقات اسی کی حمد بیان کرتی ہیں اور وہی حمد کا مستحق ہے کیونکہ مخلوقات پر انعام و اکرام صرف وہی کرتا ہے۔ وہ اپنے افعال، اقوال، اسماء، صفات، شریعت اور اپنے فیصلوں میں محمود ہے۔الحمید کا ایک معنی ہے اپنی ذات صفات کی تعریف کرنے والا یا تعریف کیا ہوا۔ الحمید کے معنی ہیں ’’قابل تعریف‘‘

تعریف و توصیف کے لائق، جس کی حمد و ثنا ہر زبان پر ہر حال میں جاری و ساری ہے۔ وہ اپنی ذات کے لحاظ سے، اپنے اسماء کے لحاظ سے ، صفات کے لحاظ سے اور افعال کے لحاظ سے (ہرطرح) قابل تعریف ہے۔ اس کے نام بہترین، اس کی صفات اور اس کے افعال کامل ترین اور بہترین ہیں کیوں کہ اس کے افعال اس کے فضل کے مظہر ہیں یا اس کے عدل کے۔اللہ تعالی کا اسم الحمید حمد سے مشتق ہے اورحمد، مدح اور شکر کے درمیان پائے جانے والے فرق کے بارے میں علماء کے مختلف نظریات ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ انسان جو اختیار سے نیک اعمال کرتا ہے اور جو صفات اس میں رکھے گئے ہیں، اس کے بارے میں لفظ مدح استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اونچے قد اور چہرہ کی خوبصورتی پر انسان کی مدح کی جاتی ہے جیسا کہ سخاوت اور علم پر اس کی مدح کی جاتی ہے، جبکہ حمد دوسرے (سخاوت و علم) سے متعلق ہے نہ کہ پہلے سے اور شکر صرف نعمت کے بدلہ میں کیا جاتا ہے، لہذا ہر شکر حمد ہے، لیکن ہر حمد شکر نہیں ہے، نیز ہر حمد، مدح ہے، لیکن ہر مدح حمد نہیں ہے۔قرآن اور احادیث میں حمد کے بارے میں چند نکات قابل غور ہیں:۱۔ قرآن اور احادیث میں لفظ حمد، اللہ کی ذاتی فضیلت کے طور پر استعمال ہوا ہے،جیسے: ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے کوئی اولاد نہ بنائی اور اس کا کوئی شریک ہے ۔”۔۲۔ اللہ تعالی کی حمد، اس کی معرفت اور پہچان پر موقوف ہے، اسی لیے اللہ کی حمد کی حقیقت اور اس کے کمال کا معرفت کی مقدار سے براہ راست تعلق ہے۔ اللہ کے جمال اور جلال کی معرفت جس قدر زیادہ ہوتی جائے، حمد کرنے والے کی حمد، زیادہ مکمل ہوتی جائے گی، بنابریں اللہ کی بہترین حمد، خود اللہ ہی اپنی کرسکتا ہے، جیسا کہ دعائے جوشن کبیر میں ہے: ” “، اے بہترین حمد کرنے والا اور بہترین حمد ہونے والا”۔۳۔ جن احادیث نے حمد کو “حقِ شکر” یا “تمامِ شکر” یا “وفائے شکر” میں تفسیر کیا ہے، اس سے مراد زبانی شکر ہے، یعنی اگر لفظ “حمد” معرفت کے ساتھ زبان پر جاری ہو تو زبان کا شکرکرنے کے لحاظ سے فریضہ حقیقتا ادا ہوا ہے۔

لہذا دیگر احادیث میں جو اللہ کی نعمتوں پر عملی شکر کے ضروری ہونے کی تاکید ہوئی ہے، مذکورہ تفسیر اس کی نفی نہیں کرتی، بلکہ سچی حمد موجب بنتی ہے کہ حمد کرنے والا، اللہ کی نعمتوں پر عملی طور پر بھی شکر کرے۔: قرآن کریم میں اللہ کی حمد ۴۳ آیات میں مختلف انداز میں ذکر ہوئی ہے۔ اللہ تعالی نے چودہ آیات میں اپنی حمد کی ہے۔ تیرہ آیات میں اپنی حمد کا حکم دیا ہے، (چھ بار تسبیح کے بغیر اور سات بار تسبیح کے ساتھ)۔ سولہ آیات میں انبیاء،، مومنین،، ملائکہ،،اہل جنت،، اہل قیامت،، رعد اور سب چیزوں کی زبانی اللہ کی حمد ہوئی ہے۔ سترہ آیات میں اللہ کی صفت “حمید” کا تذکرہ ہوا ہے۔روایات میں مختلف کاموں سے پہلے یا بعد میں اللہ کی حمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسے خطبہ پڑھنے کی ابتداء میں، اہم بات شروع کرتے ہوئے، کھانے پینے کے بعد، نیند سے جاگنے کے بعد، چھینک لینے کے بعد، نئے کپڑے پہنتے ہوئے، آئینہ میں چہرہ دیکھتے ہوئے، بیت الخلاء سے فارغ ہونے کے بعد، سواری پر بیٹھتے ہوئے، روزہ افطار کرتے ہوئے، عقد کا خطبہ پڑھتے ہوئے، ہر حال میں اور کچھ دیگر موقعوں پر جن کا روایات میں ذکر ہوا ہے۔اللہ کی حمد اور تنزیہ کرنے کا جو حق ہے، وہ کیسے ادا کیا جائے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ کسی چیز کی لائق ثناء تب ممکن ہے کہ اس چیز کی کنہ کا علم حاصل ہو اور واجب الوجود کے بارے میں ایسا نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ اللہ تعالی کی ذات اور جلال و کمال کے صفات کی حقیقت، جیسی ہے وہی سوچ میں آجائے اور واضح ہے کہ انسان کی سوچ اس حد تک پہنچنے سے عاجز ہے۔لہذا اگرچہ حمد کرنے والوں کی طرف سے کچھ باتیں حمد کے طور پر متعارف اور عادت کے مطابق وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں اور اللہ کی اچھی صفات سے تعریف کی جاتی ہے، لیکن درحقیقت یہ اللہ کی مکمل حمد نہیں ہے، کیونکہ جو اللہ کی حقیقی حمد ہے، لوگ اس کا علم نہیں رکھتے…

آپؑ کا یہ ارشاد لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ لوگوں کے ذہن نے جو صفات اپنی مرضی سے بنائی ہیں وہ باطل ہیں اور جیسا وہ سمجھتے ہیں حقیقت ویسی نہیں ہے۔: کیسے حمد کرنے والے اللہ کی حمد کرسکتے ہیں جبکہ مدح کرنے والا شخص تب کسی شخص کی صحیح مدح کرسکتا ہے کہ اس کے وجودی کمالات پر احاطہ کیے ہوئے ہو، اسی لیے جاہل ہرگز عالم کی صفات بیان نہیں کرسکتا، اسی طرح ہر مخلوق اللہ کی حمد و مدح اپنی حدِمعرفت تک کرسکتی ہے اور کیونکہ اللہ کی ذات کے کمالات کا مکمل علم، خود اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے تو صرف وہ خود ہی اپنی حمد اسی طرح کرسکتا ہے جیسے حمد کرنے کا حق اور جیسے وہ لائق حمد ہے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ جملہ منقول ہے: “” اے اللہ …میں تیری ثناء نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی ثناء کی ہے”، دوسرے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہی چیز ممکن ہوتی ہے جو محدود ہو، لیکن اگر کوئی چیز بے حد اور بے انتہا ہوجائے تو اس کے آخر تک نہیں پہنچا جاسکتا، حضرت جعفر صادق ) بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں: ” “، “تیری مدح کی کوئی انتہا نہیں ہے”، لہذا جب اللہ کی مدح کی کوئی انتہا نہیں تو مدح کرنے والے کیسے اس کی مدح تک پہنچ سکتے ہیں۔ لہذا حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے کلام کو ملا کر یہ نتیجہ ملتا ہے کہ نہ اللہ کی مدح کی انتہا ہے اور نہ اللہ کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الحمید سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ ہمیشہ حق کی تعریف کرنے والا رہے۔ صفات کمالیہ کے ساتھ اپنی ذات کو آراستہ کرے یا اپنے اعمال حسنہ اور اخلاق حمیدہ کی بناء پر خدا اور خدا کی مخلوق دونوں کی نظروں میں ایسا ثابت ہو کہ اس کی تعریف کی جائے۔

اللہ تعالی کے اس اسم الحمید کے فوائد و برکات میں سے ہے جو شخص اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھے اس کے افعال پسندیدہ ہوں گے اور اگر کسی شخص پر فحش گوئی اور بد زبانی غالب ہو کہ اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے پر قادر نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اس اسم پاک کو کسی پیالہ پر لکھے یا بعض حضرات کے قول کے مطابق اس اسم پاک کو اس پیالہ پر نوے بار پڑھے ور ہمیشہ اسی پیالہ میں پانی پیتا رہے انشاء اللہ فحش گوئی اور بدزبانی سے محفوظ رہے گا۔* جوشخص (۴۵) دن تک متواتر (۹۳) مرتبہ تنہا ئی میں پڑھا کرے اسکی تمام بری خصلتیں دور ہو جائیں گی انشاء اللہ ۔ *جوکوئی اس اسم مبارک کوبہت پڑھے گا پسند یدہ افعال ہوگا۔* جوفحش اور بری باتیں کرنے کا عادی ہواور اس سے نہ بچ پاتاہووہ پیالہ پر اس اسم مبارک کولکھے پھر نوے(۹۰) بار پڑھ کردم کرے اور ہمیشہ اس پیالہ میں پانی پیا کرے انشاء اللہ فحش گوئی سے امان پائے گا ۔* اگر کوئی گونگا اس اسم کو گھول کر پیئے زبان سے صاف باتیں کرے ۔* جوفجر کے بعد ننانوے (۹۹)باریہ اسم مبارک پڑھ کر ہاتھ پردم کرکے چہر ے پر پھیریاللہ تعالیٰ اسے عزت ونصرت اور انشاء اللہ چہر ے کا نور عطافرمائے گا۔* جو اس اسم کو فرض نماز کے بعد سوبار پڑھنے کا معمول بنا ئے انشاء اللہ صالحین میں سے ہوجائے گا ۔* سورۃ فاتحۃ کے بعد یہ اسم لکھ کرکسی مریض کو پلا نے سے شفاہوگی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی مدح و ثناء اپنی استطاعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment