اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا نام الحق کا معنی مفہوم فوائد وظائف

اللہ تعالی کا نام الحق کا معنی مفہوم فوائد وظائف

الحق اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحق سچا، جس کی ذات اور وجود اصلاً حق ہےاللّٰہ ہی حق سچ ہے۔ ایسی ذات جو سچ ہے جس کا وجود ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ سے رہے گا۔ وہ اپنی ذات اور صفات میں حق ہے اور وہ باطل سے پاک ہے۔ تمام مخلوق باطل ہے کیونکہ وہ مخلوق کا وجود عارضی ہے اور اسی کا دیا ہوا ہے۔ اسی طرح مخلوق کی صفات بھی عارضی کمزور اور باطل ہیں۔

اللہ اپنی ذات و صفات میں کتابت مثال لا شریک اور حق ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:پس بلند شان ولا ہے اللہ ،جو سچا بادشاہ ہے۔ (المومنون:116)اللہ اپنے اسماء اور صفات میں سچا ہے۔ وہ واجب الوجود ہے۔ اس کی صفات، تعریفات کامل و مکمل ہیں اور وہ ایسا حق ہے کہ کسی کو اس کی انکار کی جرات نہیں اس کے وجود پر صریح اور واضح ثبوت دلالت کرتے ہیں۔ الحق کا ایک معنی شہنشاہی کے ساتھ قائم اور خدائی کے لائق۔حق کے لغوی اور اصطلاحی معنی ہیں کہ حق کا: مادہ ”ح۔ ق ۔ق” ہے۔ کسی چیز کا اس طرح موجود ہو جانا، واقع ہو جانا اور ثابت ہو جانا کہ اس کے واقع ہونے پر اس کے وجود سے انکار نہ کیا جا سکے، اسے حق کہتے ہیں۔ کسی شے کا موجود ہونا اسی وقت ثابت ہوگا، جب شے کا ہمارے حواس احاطہ کر لیں، یعنی شے ٹھوس شکل اختیار کر لے۔ چنانچہ تحقیق کے معنی ہیں کپڑے کو نہایت مضبوطی کے ساتھ تعمیری انداز میں بننا۔ نیز ہر اُس موجود چیز کو حق کہتے ہیں، جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔قرآن کریم میں، حق کا لفظ ظن کے مقابل آیا ہے کہ”ظن، حق کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں دیتا” ۔اس لئے اتباع، حق کی کرنی چاہیے ظن کی نہیں۔ دین یکسر حق ہے اس میں ظن کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ دوسرے مقام پہ ہے کہ ”اللہ خود اپنے قوانین کے ذریعے حق ہے” ۔ایک اور جگہ فرمایا کہ”اس کا رسول حق ہے”۔دیگر جگہ پہ ہے کہ”اس کی طرف سے بھیجا ہوا قرآن حق ہے” ۔سورة یونس میں ہے کہ” اللہ کے وعدے (قوانین) حق ہیں” ۔دین اسلام کے بارے میں کہا کہ”اس کا دین حق ہے”۔کائنات کے بارے میں کہا کہ”یہ کائنات بالحق پیدا کی گئی ہے”۔چونکہ حق، ظن و شکوک سے بلند ہوتا ہے اور وہ ایک ٹھوس تعمیری واقعہ کی شکل میں سامنے موجود ہوتا ہے، اس لئے ظہور نتائج کو بھی اَلْحَآقَّةُ 69/1 کہا گیا ہے۔حق کوئی ذہنی، نظری، تصوراتی یا محض عقیدے کی چیز نہیں ہے۔

اس دنیا سے متعلق کوئی عقیدہ حق ثابت نہیں کہلا سکتا، جب تک اس کے تعمیری نتائج ایک ٹھوس حقیقت بن کر سامنے نہ آ جائیں۔”جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے ، وہ (قرآن) الحق ہے”۔اس لئے حق کے بالمقابل ظن وقیاس کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ قرآن سے بھی یہی وضاحت ملتی ہے کہ ”یقینا ظن وقیاس ، حق ویقین کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتے”۔جیسا کہ بتایا گیا ہے حق کوئی ذہنی ، نظری، تصوراتی یا محض عقیدہ کی چیز نہیں۔ یہ عقائد اور نظریات کے تعمیری نتائج کا نام ہے، جو ٹھوس شکل میں سامنے آجائیں اور اپنی صداقتوں کے لئے خارجی دلائل کے محتاج نہ ہوں۔ اِس دنیا سے متعلق کوئی عقیدہ حق ثابت نہیں کہلاسکتا، جب تک اِس کے تعمیری نتائج ایک ٹھوس حقیقت بن کر سامنے نہ آجائیں۔ اِس کے بالمقابل باطل کے بنیادی معنی کسی چیز کا جاتے رہنا ہوتے ہیں۔ جب کسی چیز کو کسوٹی پر پرکھا جائے، اور وہ اُس پر پوری نہ اُترے تو اُسے باطل کہتے ہیں۔ قرآن میں ہے کہ”حق آگیا ہے اور باطل تباہ ہو گیا۔ باطل ہوتا ہی تباہ ہونے والا ہے” ۔ حق اسے کہتے ہیں جو ثبات رکھتا ہو اور جو ثبات نہیں رکھتا وہ باطل ہے۔ مثلاً آپ کی بات امر واقع کے مطابق ہے توواقع کو حق اور آپ کی بات کو سچ کہتے ہیں۔ اگر آپ کی بات امر واقع کے مطابق نہیں ہے تو آپ کی بات کو جھوٹ اور غیر واقع کو باطل کہتے ہیں۔ لہذا حق اور باطل وجود و عدم کی طرح ہے۔ حق وجود کا نام ہے اور باطل نابودی کا نام ہے۔باطل کہتے ہی اُسے ہیں، جو باقی رہنے والا نہ ہو۔ وہ اُس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک میدان میں حق نہیں آتا۔خود قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ”حق آگیا ہے اور باطل تباہ ہو گیا۔ باطل ہوتا ہی تباہ ہونے والا ہے” اس حکم کے مطابق باطل ختم ہونے والا ہے باطل کا انجام نابودی ہے چاہے وہ حق کے لباس میں ظاہر ہو یا حق کو باطل میں ملاوٹ کرنے کے بعد، حق جیسے ہی ظاہر ہوتا ہے باطل اپنا کھوٹا سکہ خود بخود ظاہر کردیتا کہ ہم باطل ہیں ۔

باطل کی مثال اس سایہ کی طرح ہے جو سورج کے غائب ہونے پر تو لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے لیکن سورج کے نکلنے سے اس کے وجود تک کسی کو بھی گمراہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ ہر ایک کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اصلی کون ہے اور سایہ کس کا ہے ۔ حق و باطل کو افراد و اشخاص سے نہ پہچانو بلکہ پہلے حق کو پہچان لو پھر حق کے پیرو کار خود بخود سمجھ میں آجائیں گے ۔اسی لئے امیر المؤمنین حضرت علی نے فرمایا ہے: ” ” حق کو پہچانو اہل حق اور صاحب حق خود بخود پہچان لئے جائیں گے ۔اللہ تعالی کے اس اسم الحق سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اس نے جان لیا کہ اسی کی ذات حق ہے تو اب وہ اس کے مقابلہ میں مخلوق کی یاد اور مخلوق کی طلب بھول جائے۔ نیز اس اسم کا تقاضہ یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اقوال و افعال اور احوال میں حق بات اور حق چیز ہی کو اپنے اوپر لازم کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم الحق کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کسی کی کوئی چیز گم ہو گئی تو ایک کاغذ کے چوروں کونوں پر اس اسم پاک کو لکھے اور کاغذ کے بیچ میں اس چیز کا نام لکھے اور پھر آدھی رات کے وقت اس کاغذ کو ہتھیلی پر رکھ کر اور آسمان کی طرف نظر کر کے حق تعالیٰ سے اس اسم پاک کی برکت اور اس کے وسیلہ کے ذریعہ اس چیز کے حصول کی دعا کرے۔ انشاء اللہ یا وہ چیز جوں کی توں مل جائے گی یا اس کا کچھ حصہ حاصل ہو جائے گا اور اگر کوئی قیدی آدھی رات کے وقت ننگے سر ہو کر اس اسم پاک کو ایک سو آٹھ مرتبہ پڑھے تو حق تعالیٰ اسے رہائی نصیب کرے گا۔جوشخص چوکور کاغذ کے چاروں کونوں پر اَلْحَقُّ لکھ کر سحر کے وقت کاغذ کو ہتھیلی پر رکھ کر آسمان کی طرف بلند کرکے دعاکر ے انشاء اللہ گمشدہ شخص یاسامان مل جائے گا اور نقصان ومصائب سے محفوظ رہے گا ۔

جو روز انہ ایک ہزار بار اس کا ورد کرے اس کے اخلاق اچھے ہوجائیں گے اور اس کی طبیعت کی اصلاح ہوجائے گی انشاء اللہ ۔ *جو روزانہ ( لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ ) پڑھے گا اللہ تعالی اسے فقرسے غنا عطا فرمائیں گے اور انشاء اللہ اس کے معاملات آسان ہوجائیں گے ۔ *اگر مریض پڑھے تو اسے صحت عطافرمائیں گے ۔ *جوکوئی اس اسم کوبکثرت پڑھے گا مخلوق میں عزیز ہوجائے گا ۔* اگرقید ی آدمی رات کو سرننگا کرکے ایک سو آٹھ(۱۰۸) با ر یہ اسم مبارک پڑھے توانشاء اللہ قید سے خلاصی نصیب ہوگی۔دعا ہےکہ اللہ تعالی ہمیں حق و باچل میں فرق کرنے اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment