اسلامک معلومات

اللہ تعالی کا عزرائیل سے دلچسپ سوال

اللہ تعالی کا عزرائیل

اللہ تعالی کا عزرائیل سے دلچسپ سوال: موت ایک اٹل حقیقت

اللہ تعالی کا عزرائیل سے دلچسپ سوال : موت اس دھوتی پر تمام مخلوقات کا آخری انجام ہے۔ اس دنیا میں ہر زی روح کی انتہا موت ہے۔ اللہ تعالی نے موت فرشتوں پر بھی لکھ دی۔ چاہے وہ جبرائیل علیہ السلام ہوں یا میکائیل علیہ السلام ۔حتی کہ ملک الموت بھی موت کے منہ میں چلا جائے گا ۔ فرمان باری تعالی ہے کہ اس دھرتی پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ صرف اللہ کی ذات باقی رہے گی۔

اللہ تعالی کا سوال

ایک مرتبہ اللہ تعالی نے عزرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا اے عزرائیل آج تک تم نے جتنے لوگوں کی روح قبظ کی اس میں سے سب سے زیادہ رحم تمہیں کس پر آیا۔

عزرائیل علیہ السلام کا جواب

حضرت عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے پروردگار ایک موت ایسی ہے جو کبھی نہیں بھولتی ۔ اور اس موت کا غم ایسا ہے جو تنہائی میں بھی میرے ساتھ رہتا ہے۔ ایک کشتی مردوں اور عورتوں سے بھری سمندر میں سفر کر رہی تھی ۔ آپ نے حکم دیا اس کشتی کو فنا کر دوں تو میں نے کشتی کو پاش پاش کردیا ۔ تو نے فرمایا سب مردوں اور عورتوں کی روحیں قبض کر لو۔ لیکن ایک عورت اور اس کے بچے کو چھوڑ دے تو میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی۔ اور ایک تختے پر ماں اور اس کا بچہ رہ گئے ۔ اور وہ تختہ سمندر کے کنارے پہنچ گیا ۔لیکن پھر تیرا حکم آیا اے عزرائیل ماں کی روح قبض کر لو اور بچے کو چھوڑ دو ۔ اے باری تعالی تو خوب جانتا ہے یہ حکم سن کر میرا کلیجہ کانپ گیا۔

مجھے اس شیر خوار بچے کو اس کی ماں سے الگ کر کے اتنی تکلیف پہنچ رہی تھی۔ اب اس واقعے کو ایک مدت گزر چکی ہے لیکن وہ بچہ ابھی بھی یاد آتا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا کیا تو جانتا ہے وہ بچہ اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے۔ اے عزرائیل سن جب تم نے ماں کی روح قبض کی اور بچے کو اکیلا چھوڑ دیا تو ہم نے سمندر کی ایک موج کو حکم دیا۔ کہ اس بچے کو آرام سے ایک جزیرے میں ڈال دے۔

جزیرے پر کیا ہوا؟

اس جزیرے میں ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا۔ صاف شفاف پانی کے چشمے اور پھلوں کے درخت تھے۔ محض اس بچے کی خاطر ہم نے اس جزیرے میں خوشنما پرندے بھیجے ۔ ہم نے اسے ہر خوف اور خطرے سے محفوظ کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ وہ بے یارومددگار بچہ پرورش پا گیا۔ اے عزرائیل اب تو جانتا ہے وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ عزرائیل علیہ السلام نے سجدہ کرتے ہوئے کہا اے میرے پروردگار تو ہی جانتا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا وہ بچہ نمرود بن گیا اور اسی نے میرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جھونک دیا ۔ اور اب وہی خدائی کا دعوہ کرتا ہے ۔اور بے شک اب وہ سب کے لئے عبرت کا نشان ہے

Leave a Comment