اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام مالک الملک کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

مالک الملک

مالک الملک اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے ۔اس کا معنی ہے اقتدار کا مالک ۔مالک الملک صرف اللہ تعالیٰ ہے جس کی بادشاہتیں ہمیشہ رہیں گی اس کے خزانے کبھی ختم نہ ہوں گے ۔ملک۔ یعنی قادر ملک الملک کے معنی ہوئے قدرت دینے والا۔ اصطلاح میں کسی پر مضبوط قبضہ رکھنے کو ملک کہا جاتا ہے۔ ملک الملک بادشاہوں کا مالک۔ عالم اجسام کا نام ملک اور عالم ارواح یا عالم انوار کا نام ملکوت ہے، اجسام پر ظاہری سلطنت بندوں کو عطا ہوجاتی ہے مگر عالم ارواح پر رب تعالیٰ کی سلطنت ہے یا ظاہری قوانین و دیگر سلاطین بھی جاری کرتے ہیں مگر تکوینی قانون جیسے موت وحیات، خوش نصیبی، بد نصیبی، یہ رب تعالیٰ کے ہی ہیں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہمیشہ سے زمین وآسمان پر قائم ہے

اسی کے لئے اعلی صفات اور بلندی وپاکیزگی ہیں۔ وہ ہرعیب سے پاک اور تمام قسم کی خوبیوں کا مالک ہے۔جس طرح وہ ساتوں آسمان اس کے اختیار وقدرت میں ہیں ،ان میں جس طرح چاہتا تصرف کرتا ہے اسی طرح ساتوں زمیں پر بھی اسی کی بادشاہت ہے ۔ بظاہرزمین پر ہمیں انسانوں میں بھی ملکوں کے بادشاہ وحاکم نظر آتے ہیں مگر وہ وقتی بادشاہ ہیں حقیقی بادشاہ تو زمین وآسمان کا خالق اللہ رب العالمین ہی ہے ،وہی خالق کائنات زمین پر جسے چاہتا ہے بادشاہت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے ::آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔یہ آیت بتلاتی ہے کہ لوگوں کی بادشاہت زائل ہونے والی ہے ،آج کسی کو اللہ بادشاہ ہونے کا موقع دیتا ہے تو کل اس کی جگہ کسی اور کو مقررکردیتاہےجبکہ خود ہمیشہ سے بادشاہ ہے ۔ وہ زمین وآسمان میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے اور اپنی تدبیرسے سارے جہان کا نظام چلاتا ہے ۔تواریخ اور مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سے دنیا بنی اس وقت سے لیکرآج تک کوئی ایسا انسان نہیں گزراجو ازآدم تاایں بادشاہ بنابیٹھا ہو، اس کی بادشاہت ختم نہ ہوئی ہو۔بہت بڑی سچائی یہ ہے کہ انسان کی زندگی محدود ہے ، وہ اپنے حصے کی دنیا کاٹ کر اللہ کے حکم سے مرجاتا ہے ، موت کی وجہ سے پھر اس انسان کا دنیاوی رشتہ کٹ جاتا ہے ، وہ بادشاہ رہا ہوتو اس کی بادشاہت ختم ، زمین وجائیداد کا مالک رہا ہو تو اس کی ملکیت ختم بلکہ مال ومنال کے ساتھ تمام انسانوں سے اس کا رشتہ منقطع ہوجاتا ہے بھلا اس حقیقت کا انسان دنیا کا حقیقی بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے ؟

اس بات کو ایک مثال سے یوں بھی سمجھیں کہ سلمان کو سعودی عرب کی بادشاہت نصیب ہوئی تو اس کے دو احوال ہوسکتے ہیں ۔ ایک حال تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی زندگی میں ہی اس کی بادشاہت ختم ہوجائےگی یا دوسرا حال یہ ہوگا کہ موت سے اس کی بادشاہت ختم ہوجائے ۔ یہ دوحالت دنیا کے تمام گزشتہ حاکم وبادشاہ کی رہی ہے اور آئندہ بھی یہی حالت سارے دنیاوی بادشاہ وحاکم کی رہے گی ۔جس کو چاہے دے دے، جس سے چاہے چھین لے۔ بادشاہوں کا بادشاہ جن کو وہ اپنے امرونہی سے چلاتا ہے (الزجاج) جس طرح چاہے اپنے ملک میں اپنی مرضی چلائے، معدوم کرے، فنا کرے یا باقی رکھےسارے جہان کا مالک۔ شاذلی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اے شخص ایک دروازہ پر ٹھہر یعنی صرف اللہ کے دروازہ پر آ، تاکہ تیرے لئے بہت سے دروازے کھولے جائیں اور صرف ایک بادشاہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی گردن جھکا تاکہ تیرے سامنے بہت سی گردنیں جھکیں ارشاد ربانی ہے آیت ( (ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کے خزانے نہ ہوں ہمارے پاس (سارے جہاں کا حقیقی بادشاہ، بلا شرکت غیر تمام کائنات کا مالک، قادر مطلق، مختار کل، ہر چیز میں مکمل حق تصرف رکھنے والا، علم وحکمت اور عدل ورحمت کی بنیاد پر اپنے ارادہ ومشیئت سے از خود فیصلے لینے والا، اور اپنے ہر حکم کو بلا روک ٹوک نافذ کرنے والا۔ اللہ سبحانہ وتعالی کی صفت “ملک” تمام ذاتی اور فعلی صفات کمال کو مستلزم ہے۔ اللہ تعالی سب کا مالک ہے اور سب اس کی ملکیت ہیں، وہ سب کا حاکم ہے اور سب اس کے محکوم ہیں، وہ ہر ایک سے بے نیازہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالی تمام قدری، شرعی اور جزائی احکام کا مالک ہے، وہ سب کی تقدیر وتدبیر کا مالک ہے، وہ سب کی موت وحیات، صحت ومرض، فقر وغنی کا مالک ہے، وہ ہر خیر وشر، نفع وضرر اور امر ونہی کا مالک ہے، وہ ہر ایک کی توفیق اور رشد وہدایت کا مالک ہے، وہ سب کی دنیا وآخرت، حساب وکتاب اور جزا وسزا کا مالک ہے۔

اللہ تعالی بادشاہوں کا بادشاہ اور سب سے عظیم بادشاہ ہے، اس کی بادشاہت ہمیشہ رہنے والی ہے، اسے کسی وزیر یا مشیر وغیرہ کی ضرورت نہیں، وہ جیسے چاہتا ہے بغیر کسی شراکت ونزاع کے اپنی سلطنت چلاتا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے، وہ جسے چاہتا ہے حکومت وبادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جیسے صرف اللہ تعالی حقیقی بادشاہ ہے اور اس کی بادشاہت میں کوئی اور اس کا شریک نہیں ویسے ہی صرف اللہ تعالی حقیقی معبود ہے اور اس کی عبادت میں کوئی اور اس کا شریک نہیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:“وہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔” قرآن مجید میں اللہ کا نام “الملك” 5 بار، “المليك” ایک بار اور “المالك” دو بار وارد ہوا ہے۔“وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں جو بادشاہ اور نہایت پاک وبے عیب ہے۔ “بے شک متقی وپرہیزگار لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے، مجلس حق وعزت میں قدرت والے بادشاہ کے پاس۔”آپ کہ دیجئے اے اللہ! (تمام جہان کی) بادشاہت کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے” زمین وآسمان کے سارے خزانے بھی اسی کے ہیں ،انسان کی نہ زمین اپنی ہے، نہ سونے چاندی اپنے ہیں حتی کہ اس کا اپنا جسم وبدن بھی اپنا نہیں ۔ذرا غور کریں اور اللہ کی بادشاہت پر ایمان پختہ کریں۔ انسان کاپورا جسم اللہ کا دیا ہوا ہے پھر اس جسم کے تمام عضو اور تمام حرکات وسکنات پر اللہ کی بادشاہت ہے۔ آنکھوں سے دیکھنے پر اللہ کی بادشاہت ہے، کانوں سے سننے پر اللہ کی بادشاہت ہے، ناک سے سونگھنے اور سانس لینے پر اللہ کی بادشاہت ہے ، ہاتھ وپیر سے حرکت کرنے ، دل ودماغ سے سوچنے اور سونے جاگنے تمام چیزوں پر اللہ کی بادشاہت ہے۔

انسان بادشاہ کیا مجبور محض ہے۔ اس کو ہرلمحہ اپنے خالق ومالک کی مہربانی چاہئے ورنہ اس کے جسم کا کوئی کل پرزہ کسی کام کا نہیں ۔ اللہ چند لمحوں کے لئے آنکھوں سے بصارت چھین لے اندھا بن جائے گا، کانوں سے سماعت لے لے بہرہ ہوجائے گا ، دل ودماغ سے سوچ وفکر سلب کرلے پاگل ہوجائے گا اور جسم سے روح نکال لے مردہ قرارپائے گا۔پاک ہے وہ پروردگار جو ہمیں گوناگوں نعمتوں سے نوازاہے مگر کم ہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرتے ہیں اور اس کا کہا مانتے ہیں ۔ اللہ تعالی کے اس اسم مالک المک کے فوائد برکات میں سے ہے کہ* جوشخص یَامَالِکَ الْمُلْکِ کو ہمیشہ پڑھتا رہے گا اللہ تعالی اس کو غنی اور لوگوں سے بے نیاز فرما دیں گے اور وہ کسی کامحتاج نہ رہے گا ۔* جوبادشاہ کسی ملک کو فتح کرنا چاہتا ہووہ اس اسم کو بہت پڑھے انشاء اللہ کا میاب ہوگا۔* جو (یَامَالِکَ الْمُلْکِ یَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ) بہت پڑھے گااگر وہ فقیر ہوگا تو غنی ہو جائے گا۔ یہ اسم کمال جمال رکھتا ہے۔* جوبادشاہ اپنی حکومت کا استحکام چاہتا ہووہ اس اسم کو بکثرت پڑھے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی بادشاہت کے صدقے علم و عمل والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment