اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الوہاب کا معنی مفہوم اور وظائف

الوہاب

اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں سے ایک الوہاب ہے اس کا معنی ہے ،بغیر بدلہ کے بہت دینے والا۔ اللہ تعالیٰ کی ہم پر بےشمار نعمتیں ہیں جن کو ہم شمار بھی نہیں کرسکتے- اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں“اور اگر اللہ کے احسانات گننے لگو تو شمار نہیں کرسکو گے” (ابراہیم:34 ) اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو۔(البقرہ ۱۷۲:۲) ۔

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں ۔ اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔ہم مسلمانوں کواس بات پرفخر اورشرف حاصل ہے کہ ہم اس اللہ واحدوصمد کے بندے وغلام ہیں جس سے نہ کوئی پیدا ہوا اورنہ وہ کسی سے پیدا ہوا ، اورنہ کوئی اس کا ہمسر ہے ، اوروہ ہمارا رب وپروردگار ہے ، اس کے علاوہ ہمارا کوئی رب نہیں ، اسی لیے ہم اپنے رب کریم کے احکام واوامر کوبجالانے میں کسی بھی قسم کی حیل وحجت سے کام نہیں لیتے بلکہ جوکچھ بھی ہمارا رب ہمیں حکم دیتا ہے ہم اسے انتہائی عاجزی وانکساری کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں ، کیونکہ ہمیں علم ہے کہ ہمارا رب حکیم ہے جس کی حکمت سے زيادہ کسی کی حکمت نہیں ہوسکتی ، اورہمیں علم ہے کہ وہ رحیم ہے جس کے سوا کوئی رحم کرنے والا نہیں ہے وہ اپنی حمدوتعریف کے ساتھ پاک ہے ، اسی لیے ہم اس سے ایسی محبت کرتے ہیں جوہم پراس کے ہر اس حکم کی اطاعت لازم کرتی ہے جس کا وہ ہمیں حکم دیتا ہے اگرچہ اس حکم میں ہم پرمشقت ہی کيوں نہ ہو ، ہم اس کے دیے گئے حکم کی بجاآوری میں فخر اورسعادت وراحت محسوس کرتے ہیں ۔اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ دراصل اس کے شکر، توحید کے اقرار اور عبادت کا جذبہ پیدا کرتا ہےاور یہی اخروی کامیابی کا حقیقی سبب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔‘‘ (الاعراف : 69)

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھی اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:’’ تصور کرو اس موقع کا جب اللہ فرمائے گا کہ “اے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی، میں نے روح پاک سے تیری مدد کی، تو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تو میرے حکم سے مٹی کا پتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا، تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا، پھر جب تو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکر حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادو گری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا ‘‘ ہمارے نبی کریمﷺ سے فرمایا:’’بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بے شک دی) اور راستے سے ناواقف دیکھا تو سیدھا راستہ دکھایا اور تنگدست پایا تو غنی کر دیا۔‘‘غزوہ احزاب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یاد کرواللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں ‘‘نبی کریمﷺ نے انصار سے کہا میں نے تمہیں بے راہ نہیں پایا تھا، سو اللہ نے تمھیں میرے ذریعے سے ہدایت بخشی اور تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم تنگ دست تھے میرے ذریعے سے اللہ نےتمھیں غنی کر دیا۔ ایک دفعہ صحابہ کرام اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ آپﷺ نے ان کے بیٹھنے کا سبب پوچھا تو انھوں نے کہا اللہ نے ہمیں اسلام کی جو ہدایت بخشی اور ہم پر جو دوسرے احسانات کیے ہیں ہم ان کا تذکرہ کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی طرف سےانسان کے لیےتحفہ ہے۔ اس اسم مبارک الوہاب سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنا مال بغیر کسی غرض اور بلا کسی عوض کے لالچ کے خرچ کرے۔ اللہ تعالی کے اس اسم خاص الوہاب کے وائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص فقر وفاقہ میں گرفتار ہووہ کثرت سے اس اسم مبارک کو پڑھا کرے یا لکھ کراپنے پاس رکھے یا چا شت کی نماز کے آخر ی سجدہ میں چالیس مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھا کرے توانشاء اللہ فقر وفاقہ سے اسے حیرت انگیز طور پر نجات ملے گی ۔ *اور اگر کوئی خاص حاجت درپیش ہوتو گھر یامسجد کے صحن میں تین بار سجدہ کرکے ہاتھ اٹھا ئے اور (۱۰۰) مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھے انشاء اللہ تعالیٰ حاجت پوری ہوجائے گی ۔* جوسات ( ۷) بار اس اسم کو روز پڑھے گا مستجاب الدعوات ہوگا۔ *جو عشاء کی نماز کے بعد چودہ سو چودہ ( ۱۴۱۴) مرتبہ پڑھے گا اسے رزق کی فراخی نصیب ہوگی ۔* جوکوئی فقر وفاقہ سے پریشان ہووہ اس اسم کی کثرت کرے اللہ تعالی اسے ایسی راحت عطافرمائے گا کہ حیران رہ جائے گا ۔*جو چاشت کی نماز کے بعد سجد ہ کی آیت پڑھ کر سجدہ میں سات بار (اَلْوَھَّابُ ) پڑھے گا مخلوق سے بے پرواہوجائے گا ۔ *جو کوئی رزق کی فراخی چاہتا ہو چاشت کے وقت چار رکعت نماز پڑھے پھر سلام کے بعد سجدے میں جاکر ( اَلْوَھَّابُ ) ایک سوچار بار اور اگر فرصت نہ ہوتو پچاس بار پڑھے مالدار ہوجائے گا۔ *جواسے عشاء کے بعد ساڑھے گیارہ سوبار پڑھے مقروض نہ رہے گا ۔* حفاظت ایمان کیلئے ہرنماز کے بعدسات بار یہ آیت پڑھنامجرب ہے۔* برکت کیلئے یاوھابُ الْکَرِیْمُ ذَاالطَّوْلِ پڑھنا مفید ہے ۔

ہرچیز میں برکت کیلئے یاوھابُ الْکَافِیْ پڑھنا مفید ہے ۔ جو کوئی فقر و فاقہ کی تکلیف و مصیبت جھیل رہا ہو تو اسے چاہئے کہ اس اسم پاک کو پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے حق تعالیٰ اسے اس مصیبت سے اس طرح نجات دے گا کہ وہ حیران رہ جائے گا اور جو شخص اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے وہ اس کا ایسا ہی اثر پائے گا اور جو شخص نماز چاشت کے بعد سجدہ کی کوئی آیت پڑھے۔ اور پھر سجدہ میں سر رکھ کر سات بار یہ اسم پاک پڑھے تو مخلوق سے بے نیاز و بے پرواہ ہو جائے گا اور اگر کسی کو اپنی کوئی حاجت پوری کرانی ہو تو وہ آدھی رات کو اپنے مکان یا مسجد کے صحن میں تین بار سجدہ کرے اور پھر ہاتھ اٹھا کر اسم کو سو بار پڑھے انشاء اللہ اس کی حاجت ضرور پوری ہو گی۔ مولانا شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ فراخی رزق کے لئے چاشت کے وقت چار رکعت نماز پڑھی جائے نماز سے فراغت کے بعد سجدہ میں جا کر ایک سو چار مرتبہ یا وہاب پڑھا جائے اور اگر اتنا وقت نہ ہو تو پچاس مرتبہ پڑھ لیا جائے انشاء اللہ رزق میں وسعت و فراخی ہو گی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر کرنے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment