اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الوالی کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الوالی

الوالی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الوالی کے معنی ہیں سرپرست و متصرف کرنے والا۔جوکل کائنات کا انتظام و انصراف کرتا ہے ہر شے پر نگرانی رکھتا ہے اور کائنات میں کسی بھی لمحہ وقوع پزیر ہونے والے واقعات پرقدرت رکھتا ہے۔اَلْوَالِیْ کا معنی ہےکہ متولی اور متصرف۔ تمام اشیاء کا مالک اور اپنی مرضی سے ان میں تصرف کرنے والا اور اس کی تدبیر کرنے والا۔ کارساز و مالک۔

اللہ تعالی اس الوالی لفظ ولی سے نکلا ہے لفظ ولی بڑا مشہور اور عام اِستعمال ہونے والا لفظ ہے۔ عربی زبان کا لفظ ہے اور مذکر ہے لغوی طور پر اِس کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً (1) مالک‘ آقا‘ صاحب‘ سردار‘ وارث‘ سرپرست‘ محافظ‘ مربی (2) دوست‘ مددگار‘ متصرف‘ قابض (3) محبوبِ الٰہی‘ مقربِ خدا‘ بزرگ دین‘ پیر و مرشد‘ زاہد‘ پارسا‘ پرہیزگار‘ نیک بخت‘ عارف‘ صابر‘ شاکر‘ عابد اور سالک وغیرہ۔ لفظ ولی اور اِس کی جمع اولیاءکے معنی‘ قرآنِ مجید میں آیاتِ مبارکہ کے سیاق و سباق کے مطابق دیکھے جاتے ہیں۔ کہیں ولی کے معنی دوست کے آتے ہےں کہیں مددگار‘ کہیں سرپرست اور کہیں اللہ کا مقرب اور مقبول بندہ جسے عرفِ عام میں ولی اللہ کہتے ہیں۔قرآنِ مجید اور اَحادیث مبارکہ نے اللہ اور اِنسان کا اَیسا تعلق بیان کیا ہے کہ اگر اِنسان قوانین خداوندی کی پابندی اور اِطاعتِ نبی کو شیوہ¿ زندگی بنا لے تو اللہ اُس کا‘ اور وہ اللہ کا ولی بن جاتا ہے۔ (یعنی دوست اور اِس طرح قوانین کی اِطاعت سے اُس بندہ خدا کے ہاتھوں رَبِّ ذوالجلال والاکرام کے کائناتی پروگرام کی تکمیل ہوتی ہے اور کائنات میں حُسن و نکھار پیدا ہوتا ہے اولیاءاللہ کسی خاص زبان‘ ملک‘ قوم‘ رنگ و نسل اور خاندان سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ جو بھی قوانینِ خداوندی کی پابندی کرتا ہے اور محبت ِ مصطفی اور اِتباع رسول کو اِختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ولی بن جاتا ہے۔قرآنِ مجید میں رَبِّ ذوالجلال والاکرام نے مختلف آیاتِ قرآنیہ میں ولی اور اولیاءکا تذکرہ فرمایا ہے۔ جس جگہ محض دوست کے معنوں میں یہ لفظ اِرشاد فرمایا گیا ہے وہاں مومن کافر سبھی کے لئے اولیاءکا لفظ اِرشاد فرمایا ہے مثلاً اِرشاد خداوندی ہے۔(1) ”اور کافر ایک دوسرے کے دوست ہیں“ (الانفال: 73)(2) ”اور اِیمان والے مرد (آپس میں) اور اِیمان والی عورتیں (آپس میں) ایک دوسرے کے دوست ہیں“ (التوبة: 71)(3) ”بے شک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں“ (الجاثیہ: 19)

ان تین آیاتِ مبارکہ میں اولیاءکا لفظ کافروں‘ ظالموں اور مومنوں کے لئے فرمایا گیا۔ اِن تینوں مقامات میں اولیاءجو ولی کی جمع ہے۔ دوست‘ ساتھی‘ رفیق‘ حمایتی‘ مدد گار کے عام معنوں میں اِرشاد ہوا ہے۔اولیاءاللہ جہاں اِرشاد فرمایا گیا ہے‘ وہاں اُن کے اَوصاف کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے مثلاً ”سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم“ (یونس: 62) ”وہ جو اِیمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں“ (یونس: 63) یعنی عقیدہ کے لحاظ سے پکے سچے مومن اور محبِ رسول ہیں اور تقویٰ و پرہیز گاری کا تاج پہنے ہوئے ہیں جن کے اَعمال و اَخلاق اَچھے ہیں‘ رزق بھی حلال ہے۔ اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِنعام ہے۔”اُنہیں دُنیا اور آخرت کی زندگی میں خوش خبری ہے“ (یونس: 64)۔یہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں مسلمان اولیاءاللہ کہتے ہیں قرآنِ مجید میں ایک مقام پر اِس اَنداز میں اولیاءاللہ کی پہچان کروائی گئی ہے: ”بے شک اُس کے اولیاءتو پرہیزگار ہی ہیں۔“ (الانفال: 34)لفظ ولی مشترک ہے یہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ اور مومنین سب کے لئے بولا جاتا ہے۔ بلکہ دوست کے معنوں میں ظالموں‘ کافروں، منافقوں‘ یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے یہاں تک کہ شیطان کے پجاریوں کے لئے بھی لفظ ولی اور اَولیاءبولا جاتا ہے۔ اِرشادِ خداوندی ہے:”اِیمان والے (اللہ تبارک وتعالیٰ) کی راہ میں لڑتے ہیں اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں“”شیطان کے دوستوں سے لڑو“ (النسآئ: 76)

ایک مقام پر فرمایا: ”اور بے شک شیاطین اپنے دوستوں (یعنی کافروں) کے دِلوں میں (وسوسے) ڈالتے ہیں“ (الانعام: 121)عرف عام میں ولی یا ولی اللہ اُسے کہا جاتا ہے جو نیک‘ بزرگ‘ پارسا آدمی ہو۔ ولیوں کی ولایت تین طرح کی ہوتی ہے۔(1) وھبی ولایت‘ (2) عطائی ولایت‘ (3) کسبی ولایت, وھبی ولایت وہ ہوتی ہے جو کسی خوش بخت کو پیدائشی طور پر نصیب ہوتی ہے جیسے حضرت سیّدہ بی بی مریم علیہا السلام، حضرت ابو الحسن خرقانیؒ ۔عطائی ولایت وہ ہوتی ہے جو کسی خوش نصیب کو چلتے چلتے بعنایت ِخداوندی ملتی ہے جیسے حضرت فضیل بن عیاضؒ اور بشر حافیؒ وغیرہم۔کسبی ولایت وہ ہوتی ہے جو کسی خوش نصیب کو شب و روز مجاہدے اورعبادات کرنے اَوراد و وظائف کے پڑھنے اور رسولِ کریم کی اِتباع کے بعد حاصل ہوتی ہے۔سورة الفرقان میں اللہ نے اپنے بندوں کی تعریف کرتے ہوئے اُن کے یہ اَوصاف بیان فرمائے ہیں: (1) وہ زمین پر آہستگی‘ عاجزی اور انکساری سے چلتے ہیں‘ (2) جب جاہل اُن سے کج بحثی کرتے ہیں تو وہ بس سلام کہہ دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اُنہیں راہ ہدایت نصیب ہو جائے‘ (3) وہ اپنی راتیں اپنے ربِّ کریم کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہوئے گزارتے ہیں‘ (4) اللہ کے عذاب سے پناہ چاہتے ہیں‘ (5) وہ فضول خرچ نہیں ہوتے‘ (6) وہ کنجوس نہیں ہوتے بلکہ‘ (7) درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں (ہر اچھے کام میں خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا فضول خرچی نہیں ہوتا) ، (8) وہ اللہ تعالیٰ (معبودِ برحق) کے سوا کسی معبودِ باطل کی عبادت نہیں کرتے‘ (9) جس جان کی حرمت اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے اُس کو ناحق قتل نہیں کرتے‘ (10) بدکاری نہیں کرتے‘ (11) جھوٹی گواہی نہیں دیتے‘ (12) بے ہودہ باتوں کو نہ سُنتے ہیں‘ نہ بے ہودہ کام کرتے ہیں اور اگر کہیں اَیسا واقعہ ہو تو وہاں سے بڑی شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں‘ (13) جب اُنہیں رَبِّ کائنات کی آیاتِ مبارکہ یاد دِلائی جاتی ہیں تو اَندھے اور بہرے بن کر نہیں سُنتے بلکہ غور و فکر کرتے ہیں‘ (14) اللہ سے اپنی بیویوں اور اَولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک کا سوال کرتے ہیں۔ اور (15) پرہیز گاروں کی پیشوائی کے طالب ہوتے ہیں۔ (الفرقان آیت نمبر 63 سے آیت نمبر 74 تک)

معلوم ہوا ایک باہوش عاقل و بالغ کے لئے شریعت کی حدود و قیود کی پابندی کرنا فرضِ عین ہے اور جو شخص عاقل‘ بالغ‘ باہوش ہو اور شریعت کی حدود و قیود کی توہین کرتا ہو وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کا ولی نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالی کے اس اسم الوالی کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس کا یا اس کے علاوہ کسی اور کا گھر معمور و آباد ہو اور بارش و دیگر آفات سے محفوظ رہے تو اسے چاہئے کہ کوزہ آب نا رسیدہ پر یہ اسم پاک لکھے اور اس کوزہ میں پانی ڈال کر اس کوزہ کو گھر کی دیوار پر مارے، گھر اور در و دیوار محفوظ و سلامت رہیں گے۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ اسم پاک الوالی کو تین سو مرتبہ پڑھنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر کسی شخص کی تسخیر کی نیت سے یہ اسم پاک گیارہ مرتبہ پڑھا جائے تو وہ شخص اس کا مطیع و فرمانبردار ہو جائے گا۔* جوشخص کثرت سے یَاوَالِیْ کاوردرکھے گا وہ ناگہانی آفتوں سے انشاء اللہ محفوظ رہے گا۔* جوآدمی کورے آبخورے پر یہ اسم مبارک لکھ کر اس میں پانی بھر کر مکا ن میں چھڑ کے گا تو وہ مکان بھی انشاء اللہ تما م آفتوں سے محفوظ رہے گا۔* اگرکوئی شخص کسی کو مسخر کرنا چاہے تو گیارہ مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھے انشاء اللہ وہ فرمانبر دار ہوجائے گا۔* اس اسم مبارک کی کثرت بجلی کی کڑک سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔* جو کوئی اس اسم کوبہت پڑھے مخلوق میں انشاء اللہ ذی مرتبہ ہوگا۔* اس اسم کا ذکر ان لوگوں کے لئے بہت مفید ہے جن کو لوگوں پر بالا دستی حاصل ہومثلاً حاکم وافسر وشیخ وغیرہ ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے دوستوں اور مقرب لوگوں کی فہرست میں شامل فرمائے ۔ آمین ۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment