اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الوارث کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الوارث

الوارث اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الوارث کے معنی ہیں سب کے بعد موجود رہنے والا۔باقی تمام وارثِ مال و اولاد فنا ہونے والے ہیں۔ بادشاہ، نواب، سرمایہ دار، وڈیرے، زمیندار، دولتمند سب فانی ہیں۔ ان کی وراثت عارضی ہے۔ بالآخر تمام چیزوں کا وارث وہی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ موجودات کے فنا ہو جانے کے بعد باقی رہنے والا اور تمام مخلوقات کا مالک جو تمام کائنات کی کبھی نہ ختم ہونے والی ملکیت کا حامل ہے انسان عارضی ملکیت کا حامل ہوتا ہے جب اس کی موت واقع ہو جاتی ہے وہ کچھ نہیں رہتا۔

وارث سے مراد ہے موجودات کے فنا ہو جانے کے بعد باقی تمام املاک اپنے مالکوں کے فنا ہو جانے کے بعد اس کی طرف رجوع کریں گی، لیکن یہ مطلب وارث کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے ہے ورنہ تو حقیقت میں کائنات کی ایک ایک چیز کا علی الاطلاق ازل سے ابد تک ملکیت میں بغیر کسی تبدل و تغیر کے وہی مالک ہے۔ تمام ملک و ملکوت بالشرکت غیرے اسی کے لئے ہیں اور وہی سب کا حقیقی مالک ہے چنانچہ ارباب بصائر ہمیشہ یہ نداء آیت گوش ہوش سے سنتے ہیں)لہٰذا بندہ کو چاہئے کہ وہ اپنے مال و میراث کے فکر میں نہ رہے بلکہ یہ جانے کہ یہ سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے جانا ہے ۔اللہ وہ ذاتِ کبریا جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا‘ جس کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ کوئی انتہا ‘ جو ہر شئے کا خالق اور پروردگار ہے‘ اور کویٴ اس کا خالق نہیں‘ نا کویٴ اس کا بیٹا ہے نا بیٹی‘ ساری کائنات اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں‘ جسے ہر شے اِلٰہ مانتی ہے اور جس کی تمام مخلوق عبادت کرتی ہے‘ جس میں تمام صفاتِ الہیہ پنہا ہے اور جو واجب لوجود ہے جو لا محدود وسعتوں والا ہے ‘ لا محدود حکومت والا ہے ‘ لا محدود خزانوں کا مالک ہے ‘ لا محدود برکتوں والا ہے ۔۔۔۔۔ اس نے اپنی لا محدود عقل و فہم‘ علم و حکمت سے اپنا ذاتی نام ’’ اللہ ‘‘ رکھا ہے اور ہمیں بتا یا ۔اللہ وہ ذاتِ کبریا کی ذات کی طرح‘ اسم ’’ اللہ ‘‘ میں بھی لا محدود وسعت ہے‘ لا محدود برکت ہے‘ لا محدود خزانے ہیں اور اسکی لا محدود علم ، حکمت ، عظمت ، قدرت …. غرض کہ تمام لا محدود صفات الہیہ پنہا ہے۔ قرآن و احادیث میں یا کسی اور ماخذ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے جتنے اسماء صفات کے ذکر ملتا ہے یہ اسم ’’ اللہ ‘‘ عزت و جلال اور رتبہ میں سب سے بڑھ کر ہے۔

اللہ اس اسم مبارک میں تمام صفاتِ الہیہ یعنی اسمائے حسنہ کی ساری کی ساری صفات مجتمع ہیں۔ اس کے علاوہ کویٴ بھی ایسا اسم نہیں جو تمام صفات کو ظاہر کرے بلکہ اسم ’’ اللہ ‘‘ کے علاوہ ہر صفاتی نام صرف ایک ایک صفت کو ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً رحمن سے رحمت ‘ رزاق سے رزاقیت اور رب سے ربوبیت وغیرہ وغیرہ صفات ظاہر ہوتی ہے۔ ربوبیت و رزاقیت ظاہر کرنے کے لئے رحمن نہیں بولا جائے گا اور نہ ہی رب یا رزاق بولنے سے رحمت کی صفت واضح ہوگی لیکن ربوبیت‘ رزاقیت اور رحمت وغیرہ تمام صفات کے لئے ’’ اللہ ‘‘ بولا جائے گا۔اللہ کے علاوہ دوسروں پر بھی بعض اسمائے صفات کا اطلاق ہوتا ہے ‘ جیسے رحیم‘ حکیم‘ عزیز وغیرہ لیکن ’’ اللہ ‘‘ صرف اور صرف ذاتِ واحد کے لئے بولا جائے گا۔اگر انسان صرف اسم ذات ’’ اللہ ‘‘ کو سمجھ لے تو شرک و کفر کا قلعہ قمع کرنے کیلئے یہی کافی ہے۔کیونکہ جب وہ اپنی پوری فہم و ادراک کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ نام ’’ اللہ ‘‘ لے گا تو اسکے دل و دماغ میں توحیدیت کا رنگ سما جائے گا ۔اللہ زبان پہ آتے ہی اس کے قلب کا تعلق اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے جُڑ جائے گا اور اس کی عقل سلیم یہ گواہی دے گی کہ؃ اس کائنات کا خالق‘ رازق اور مدبر صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ ( توحید ربوبیت)؃ تمام اقسام کی عبادات صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔( توحید الوہیت)؃ اسماء حسنہ یعنی اللہ تعالیٰ کے صفات جو قرآن و احادیث میں بیان ہویٴ ہیں‘ بغیر کسی تاویل و تحریف کے صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔(توحید صفات)توحید ربوبیت‘ توحید الوہیت اور توحید صفات ہر لمحہ ہمارے دل و دماغ میں رچی بسی رہے اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر لمحہ تدبر و تفکّر کریں ۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسی لئے تدبر و تفکّر کرنے پہ اتنا زور دیا ہے۔ ہم تدبر و تفکّر کرکے ہی توحید کو صحیح طرح سمجھ سکتے ہیں۔آج مسلمانوں میں شرک بدعت عام ہے۔ اگر لوگ تھوڑی سی غور و فکر کرلیں تو کم از کم شرک کے ظلمتوں سے نکل سکتے ہیں۔ اس کے لئے کویٴ علامہ بنے کی ضرورت نہیں۔ ایک عام مسلمان اپنے روز مرہ کی زندگی جن اسلامی شعائر کو اپنائے ہوئے ہے صرف اُسے سمجھتے ہوئے سر انجام دے تو شرک سے نکلنے کے لئے یہی کافی ہوگی۔جیسےہر مسلمان اپنے کام کے آغاز’’ بسم اللہ ‘‘ سے کرتا ہے ۔۔ ۔ شروع اللہ کے نام سے ۔۔ابتدا بابرکت نام اللہ کے ۔اب اگر ’’ بسم اللہ ‘‘ کہتے ہی وہ ایک لمحے کو سونچے اور سمجھے کہ میں کس کے نام سے شروع کر رہا ہوں؟یہ اللہ کون ہے؟کونسا اللہ ؟اس اللہ کی حقیقت کیا ہے ؟آخر اللہ کے نام سے ہی کیوں؟تو اسے خود ہی جواب ملے گا اور وہ خود ہی کہہ اُٹھے گا اللہ! جس نے مجھے اس کام کو کرنے کی توفیق دی ہے۔ جو میرا رب ہے۔ جو خالق ‘ مالک ‘ رازق ہے۔ جو یکتا ہے اور اکیلے ہی اس کائنات کا نظام چلا رہا ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔۔تو یہ اسکے ’ توحید ربوبیت ‘ سمجھنے کے لئے کافی ہو گی۔اسی طرح جب وہ نماز میں تکبیر تحریمہ ’ اللہ اکبر ‘ کہتے ہوئے ایک لمحے کو اپنے ذہن میں سونچے کہ ہم کس کی عبادت کرنے جارہے؟وہ کیسا ہے؟اس سے ہمارا کیا رشتہ ہے؟آخر اسکی عبادت ہی کیوں؟ تو یہ دل پکار اُٹھے گی اللہ کی ‘ جو سب سے بڑاہے ۔ جس نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔تو پھر اور کسی کی عبادت کیوں ؟ یہ ’توحید عبادت‘ سمجھنے کے لئے کافی ہے۔اور اگر اب بھی نہیں سمجھ آیٴ تو ’’ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘ تک پہنچتے پہنچتے ’توحید عبادت‘ سمجھ میں آ جانی ہی چاہئے۔نماز کے بعد کی مسنون دعائیں‘ آیت الکرسی‘ تسبیحات وغیرہ پڑھنا اور روز مرہ کی بے

شمار دعائیں ’توحید صفات‘ سمجھنے کے لئے کافی ہیں‘ اگر انسان عقل سلیم کو کام میں لگائے۔بازار م بازار میں پڑھنے کی دعا:’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کاکوئی شریک نہیں ٗ اقتدار اسی کا ہے وہی شکرو تعریف کا مستحق ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اس کے لیے موت نہیں ۔ ساری بھلائی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے او روہ ہر چیز پر قادر ہے ‘‘ (ترمذی) اگر سمجھ لیا جائے تو اس میں توحید کے ہر اقسام شامل ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الوارث سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ان اعمال میں اپنی زندگی صرف کرے جو باقیات صالحات میں سے ہیں جیسے تعلیم و تعلم اور صدقہ جاریہ وغیرہ۔ دین کے علوم معارف کو پوری سعی و کوشش کے ساتھ زیادہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرے۔ تاکہ صحیح معنی میں انبیاء کا وارث قرار پائے۔اللہ تعالی کے اس اسم الوارث کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ جوشخص طلوعِ آفتاب کے وقت سومرتبہ یَاوَارِثُپڑھے گا انشاء اللہ ہررنج وغم اور سختی ومصیبت سے محفوظ رہے گا اور خاتمہ بالخیر ہوگا۔ *اور جوشخص مغرب وعشاء کے درمیان ایک ہزار مرتبہ پڑھے ہر طرح کی تکلیف وپریشانی سے انشاء اللہ محفوظ رہے گا اور حیرت دفع ہوگی ۔* بے اولاد شخص کثرت سے اس کا ورد کرے تو اولادملے گی ۔*جوکوئی اس اسم کو کثرت سے پڑھتارہے گااس کے مال میں برکت ہوگی اس کے سب کام بر آئیں گے اور وہ امن میں رہے گا اور انشاء اللہ اس کی عمردراز ہوگی۔* جس لڑکی کا رشتہ نہ آتا ہووہ ہرنماز کے بعد سوبار یاوارث پڑھے تو جلد رشتہ آجائے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت الوارث کے صدقے بقا والی نعمتیں عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment