اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الواحد کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الواحد

الواحد الاحد ذات و صفات میں یکتا و یگانہ۔ ایک، تنہا، اکیلا، یکتا، یگانہ، جو ازل سے یکتا واکیلا ہے اور اس کے ساتھ دوسرا کوئی نہیں، جو ایک اور لاثانی ہے اپنی ذات، صفات اور افعال میں، جس کے نہ شریک ہیں نہ اجزاء ہیں اور جو نہ کسی سے مرکب ہے۔ یہ نام اللہ عز وجل کی احدیت اور وحدانیت یعنی اس کی یکتائی اور اس کے ایک ہونے پر دلالت کرتا ہیں۔ چنانچہ وہ ایک ہے اپنی ذات میں، کوئی اس کے مشابہ نہیں۔

وہ ایک ہے اپنی صفات میں، کوئی اس کے مثل نہیں، وہ ایک ہے اپنے افعال میں، کوئی اس کا مددگار نہیں۔ وہ ایک ہے اپنی الوہیت میں، کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ ایک ہے اپنی شان عظمت وکبریاء، شان علو وبے نیازی اور شان جمال وکمال میں، کوئی اس کا ثانی نہیں۔جیساکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:“کیا تم کسی کو اس کے ہم مثل جانتے ہو۔”“اور نہیں ہے کوئی اس کے برابر۔”“نہیں ہے کوئی چیز اس کے جیسی اور وہ ہے سننے والا اور دیکھنے والا۔” سب کا معبود برحق صرف اللہ سبحانہ وتعالی ہے، اور وہ ایک ہے انیک نہیں ہے، وہ نہ دو ہے، نہ تین ہے، نہ تین کا تیسرا ہے، اور نہ اس سے زیادہ ہے۔جیساکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:“نہیں بنائو دو معبود، معبود تو صرف وہی اکیلا ہے۔”اور نہیں کہو کہ اللہ تین ہے، اس سے باز آ جائو کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے، اللہ معبود برحق تو صرف ایک ہی ہے” یقینا وہ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے، در اصل سوائے اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں” “کیا تم سچ مچ یہی گواہی دوگے اللہ کے ساتھ کچھ اور بھی معبود ہیں، تم کہ دو کہ میں تو گواہی نہیں دیتا، تم کہ دو کہ وہ تو بس ایک ہی معبود برحق ہے اور بے شک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔” انسان کی عقل اور فطرت بھی اللہ سبحانہ وتعالی کے ایک ہونے پر دلالت کرتی ہے۔جیساکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:“کیا کئی ایک الگ الگ رب بہتر ہیں یا ایک اللہ زبردست طاقتور۔”“اور اس کے ساتھ کوئی اور معبود نہیں ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے پھرتا، اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا، اللہ پاک ہے ان اوصاف سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔” “اگر ان دونوں (یعنی آسمان وزمین) میں اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے، پس اللہ عرش کا رب پاک ہے ہر اس وصف سے جو یہ مشرک بیان کرتے ہیں۔”

اللہ سبحانہ وتعالی کو ایک ماننے کا لازمی تقاضا ہے کہ صرف اسی ایک کو عبادت کا مستحق مانا جائے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے:جیساکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:“اور تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔۔۔”“آپ کہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، ہاں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جس کو بھی اپنے رب سے ملاقات کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔” قرآن مجید میں اللہ کا نام {الواحد} (22) بار آیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے “آپ کہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، وہ اکیلا ہے اور زبردست غالب ہے۔”اللہ تعالی اس کائنات کا تنہا خالق وحدہٗ لا شریک اور مالک بھی ہے۔ اللہ اپنی ذات میں ابتدا سے پاک ہے۔ ۔ اللہ وہ ذات ایسا اول ایسا پہلا جس کی ابتدا کوئی نہیں ابتداء تک دیکھنا چاہیں۔ آخر آخر کوئی سرا نظر نہیں آتا۔ وہ آ کر بھی ہے دائم بھی۔ بلا انتہا اس کی انتہائی کوئی نہیں۔ کہیں جا کر اس کا آخری کنارہ کوئی نہیں۔ تو اللہ وہ ذات ہے کہ جو دوکان میں سماتا ہے نہ مکان میں ، ماضی حال مستقبل کی بندشوں میں بندھا ہوا ہے نہ اسے زمین کی ضرورت ہے نہ آسمانوں کی ضرورت ہے۔ نہ انسانوں کا محتاج، نہ فرشتوں کا محتاج، نہ نبیوں اور رسولوں کا محتاج، نہ جنت اور جہنم کا محتاج، اپنی ذات میں اپنی بقاء کے لئے نہ کھانے کا محتاج نہ پینے کا محتاج ، تھکن سے پاک، نیند سے پاک، اونگھ سے پاک، غفلت سے پاک بیوی سے پاک ، اولاد سے پاک رشتوں سے پاک، وزارت مشاورت سے پاک، اکیلا تن تنہا اتنے بڑے نظام کا خالق مالک علم قدرت اتنا کامل اتنی پھیلی ہوئی کائنات جلتی ہوئی اڑتی ہوئی تیرتی ہوئی سے ذرہ برابر نہ غافل ہے اور نہ جاہل ہے۔

ایک دور تھا اس کائنات اور اس دھرتی پہ ایسا تھا کہ کچھ نہ تھا۔ اس سے اگلا دور آیا اس نے زمین کو بچھانا شروع کر دیا۔ ولارض مددنھا زمین بچھائی۔ اللہ نے فرمایا میں نےفرش بچھایا کوئی میرےجیسا ہےجو بنا کےدکھا دے۔”اس دن سے ڈرو جس میں تمہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔اے لوگو اپنے (اس) رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں (بھی) اور انہیں (بھی) جو تم سے پہلے گزرے ہیں پیداکیا ہے تا کہ تم (ہر قسم کی آفات سے) بچو۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا امر (حکم) ،امر کونی و شرعی دووں پر مشتمل ہے جس طرح وہ کائنات کا مدبر اعلیٰ ہے،اسی طرح وہ اس کا قاضی بھی ہے،لہذا اپنی بہترین حکمت عملی کے مطابق وہ جو کچھ چاہتا ہے اس کا فیصلہ فرماتا ہے ۔وہ اس کائنات کا حاکم مطلق بھی ہے،چنانچہ عبادت احکام اور معاملات میں بتقاضائے مصلحت ،شریعت کے احکام نافذ فرماتا ہے۔جو فرد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو عبادت میں شریعت ساز،یا معاملات میں حاکم بنا لے وہ مشرک ہے اور اس کا ایمان غیر معتبر ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الواحد سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ عبادت و بندگی میں یکتا و یگانہ بنے جیسا کہ اس کا معبود خدائی میں یکتا و یگانہ ہے۔ اور ایسے فضائل سے اپنی ذات کو آراستہ کرے کہ اس کا کوئی ہم جنس اس کے مثال نہ ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم الواحد کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کسی کا دل خلوت سے ہراساں ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس اسم پاک کو ایک ہزار ایک مرتبہ پڑھے انشاء اللہ اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا اور بارگاہ حق جل مجدہ کا مقرب ہو گا اور اگر کسی کا فرزند پیدا ہونے کی تمنا ہو تو وہ اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے اللہ تعالیٰ اسے فرزند عطا کرے گا۔

جوشخص روزانہ ایک ہزار مرتبہ اَلْوَاحِدُ الْاَحَدُ پڑھا کرے گا، اس کے دل سے انشاء اللہ مخلوق کی محبت اور خوف جاتارہے گا ۔*جس شخص کی اولا دنہ ہوتی ہووہ اس اسم مبارک کولکھ کر اپنے پاس رکھے ۔انشاء اللہ اس کو اولا صالح نصیب ہوگی ۔* جو کوئی تنہائی سے ہر اساں ہووہ باوضوایک ہزار بار اس اسم کو پڑھے ۔ انشاء اللہ اس کے دل سے خوف جاتار ہے گااور اس کے لئے عجائبات ظاہر ہوں گے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی ذات واحد پر کامل یقین رکھنے اور شرکسے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment