اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المنتقم کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

المنتقم

المنتقم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المنتقم کے معنی ہیں بدلہ لینے والا۔جو غلط کاروں کو سزا دیتا ہے۔ کافروں اور سرکشوں سے عذاب کے ذریعہ بدلہ لینے والا۔ جو سرکش اور نافرمانوں کی کمر توڑ دے اور سخت عذاب کرے، لیکن مہلت دینے اور ڈرانے وغیرہ کے بعد، تا کہ ان کو سوچنے کا موقعہ ملے۔ اور شاید کہ وہ رجوع کریں لیکن جو اللہ کی طرف رجوع نہ کرے تو پھر اس کے لئے سخت عذاب ہے۔ الغزالی)

وہ ہر ایک کو عذاب قوت برداشت کے مطابق کرتا ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اللہ کے جلالی اسماء کا مطلب وہ پاکیزہ نام ہیں، جن سے اس پاک پروردگار کی شان اور بڑائی ظاہر ہوتی ہے۔ لہٰذا ان ناموں میں ایک نام ’’الملک‘‘ بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے بادشاہ اور تمام سیاہ و سفید کا مالک۔ یعنی اس کائنات کا پالنے والا اسے پیدا کرکے ایک طرف نہیں بیٹھ گیا ہے، بل کہ وہ اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول بھی رکھتا ہے۔ کائنات میں چھوٹے سے چھوٹا عمل یا بڑے سے بڑا واقعہ اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر رو نما نہیں ہوتا۔ رات کی تاریکی میں کسی سرنگ کے اندر کوئی چیونٹی ذرا سی حرکت کرے یا دنیا میں کوئی بڑا زلزلہ یا سنامی آجائے، یہ سب کچھ اس پروردگار کے حکم اور مرضی سے ہی ہوتا ہے ۔بعض بادشاہ ایسے ہوتے ہیں، جو چند اختیارات کے مالک ہوتے ہیں۔ اصل کام اس کے وزراء کرتے ہیں۔ یا بہت سے لگائی بجھائی کرنے والے بادشاہ کے اوپر اتنا حاوی ہوجاتے ہیں کہ وہ بادشاہ سے اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتے ہیں کرا لیتے ہیں۔ بادشاہ ان کے آگے بے بس ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ایسی نہیں ہے۔ وہ ’’العزیز‘‘ بھی ہے۔ یعنی بہت زبردست اور ایسی طاقت و قوت والا، جس کے اوپر کبھی کوئی حاوی نہ ہوسکے۔ اسی لیے کائنات میں صرف اسی کا حکم اور فیصلہ چلتا ہے۔ اپنے حکم کو چلانے کے ساتھ ساتھ وہ ’’المھیمن‘‘ بھی ہے۔ یعنی ہر چیز پر گواہ اور نگراں۔ جب وہ کسی خطا کار کی پکڑ کرنے پر آتا ہے، تو یہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے بلا وجہ سزا دی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مھیمن ہونے کی وجہ سے ہر چیز کی نگرانی بھی فرما رہا ہے اور عزیز ہونے کی وجہ سے مجرموں کو سخت سزا دینے پر پوری طرح قادر بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے یہ تینوں اسماء اس کی عظمت و قوت اور ہیبت و جلال کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی جیسی ہستی سامنے آتی ہے، وہ بہت زبردست ہے۔ ایک انسان کے لیے ان میں بڑا سبق بھی ہے۔ ایک عام انسان اور بالخصوص ایک داعی ان تینوں اسماء کو اپنے سامنے رکھتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والا کوئی اچھا یا برا معاملہ پوری طرح اللہ تعالیٰ کی دسترس میں ہے۔ وہ ہر چیز دیکھ رہا ہے اور پوری طرح طاقت و قوت بھی رکھتا ہے۔ وہ جب چاہے گا پوری شان کے ساتھ انعام و اکرام سے نوازے گا اور جب اس کی مرضی ہوگی، تو پوری سختی کے ساتھ ظالم کی پکڑ بھی فرمائے گا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی شفقت اور محبت سے متعلق جو غلط فہمیاں اور غلط تصورات پائے جاتے ہیں ان کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ کچھ لوگ اللہ کی محبت اور شفقت کا غلط مفہوم لیتے ہوئے غلو کا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ خدا جو اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے وہ کس طرح انہیں جہنم میں ڈا ل سکتا ہے۔چنانچہ وہ اللہ کی رحم دلی کا لازمی نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو جہنم میں نہیں ڈالیں گے خواہ وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار، فاسق و فاجر یا مشرک و کافر کیوں نہ ہو۔اگر اس غلو کا جائزہ لیا جائے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ انتہاِئی مہربان اور رحم دل ہے۔لیکن جب ایک بچہ کسی ظلم کامرتکب ہوتا ہے تو باپ اسے تربیت دینے کے لئے اسکی تادیب کرتا اور سختی سے پیش آتا ہے۔ اگر بچہ مسلسل اپنی روش برقرار رکھے تو باپ اسے تنبیہ اور وارننگ سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ لیکن جب اس کا ظلم انتہا پر پہنچ کر ناقابل اصلاح ہوجائے تو اب باپ اس ناہنجار فرزند سے قطع تعلق کرلیتا اور موقع ملنے پر اسے سخت سے سخت سزا دیتا ہے تاکہ فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں تمیز ہوسکے۔

غور کیجئے کہ اگر باپ اپنی نام نہاد نرم دلی نبھانے میں انصاف کے تقاضے پورا کرنے سے قاصر ہو تو یہ محبت و شفقت نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے۔چنانچہ رحم دل ہونا اپنے موقع اور محل کے لحاظ سے ایک موزوں صفت ہے لیکن اگر یہ نرم دلی عدل و انصاف کے تقاضے پورا کرنے اورسرکشی کے استیصال میں آڑے آئے تو یہ ایک عیب ہے اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔چنانچہ محبت و شفقت کا مطلب گھوڑے گدھے برابر کردینا اور عدل و انصاف کو پس پشت ڈال دینا ہرگز نہیں ہے۔ایک غلط تصور اس ضمن میں یہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تو بڑے غفور اور رحیم ہیں ۔ اس بنا پر لوگ گناہوں سے معافی مانگنے میں تاخیر اور گناہ پر گناہ کئے جاتے ہیں۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ توبہ اور مغفرت کا ایک قاعدہ اور قانون ہے۔ یہ کوئی مطلق اور عام معافی کا اعلان نہیں کہ جو کچھ بھی کرو سب معاف ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت عدل و انصاف کے تقاضوں ہی کے تحت ہوتی ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم المنتقم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے بڑے دشمنوں سے کہ وہ نفس اور شیطان ہیں بدلہ لیتا رہے اور سب سے بڑا دشمن نفس امارہ ہے اس کی سزا یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی گناہ میں مبتلا ہو یا عبادت میں کوتاہی کرے تو اس سے انتقام لے بایں طور کہ اسے عقوبت و سختی میں مبتلا کرے۔ چنانچہ حضرت بایزید بسطامی کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ راتوں میں اوراد و وظائف میں مشغول رہا کرتا تھا کہ ایک رات میرے نفس نے تکاسل کیا اس کی سزا میں نے اس کو یہ دی کہ ایک برس تک اپنے نفس کو پانی سے محروم رکھا۔اللہ تعالی کےاس اسم المنتقم کے فوائد و برکات میں سے ہے جوشخص حق پر ہواور دشمن سے بدلہ لینے کی اس میں قدرت نہ ہووہ تین جمعہ تک بکثرت یَامُنْتَقِمُ پڑھے، اللہ تعالی خود اس سے انتقام لیں گے ۔ (یہ عمل ناحق ہر گزنہ کیا جائے، بہت سخت گناہ ہے)۔*

جو کوئی آدھی رات کو یہ اسم مبارک جس نیت سے پڑھے گاوہ کام انشاء اللہ سرانجام ہوگا۔ *جوکوئی عشاء یافجر کی نماز کے بعد چالیس دن تک روزانہ ایک ہزار ایک بار یَاقَھَّارُ یَامُذِلُّ یَامُنْتَقِمُ پڑھے گا تو انشاء اللہ ظالم ہلاک ہوگا۔ *جو اس اسم کو بکثرت پڑھے گا انشاء اللہ اس کی آنکھ ہر گز نہیں دکھے گی ۔ اگر کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے اس مقصد کی نیت کے ساتھ اس اسم پاک کو آدھی رات کے وقت پڑھا جائے تو وہ مقصد حاصل ہو گا۔ایک دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ایک اور صحابی سے منقول ہے اس موقع پر باری تعالیٰ کا ایک اسم المنعم بھی نقل کیا گیا ہے جو اس اسم پاک المنعم پر مداومت کرے کبھی کسی کا محتاج نہ ہو گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ظالم اور سرکش لوگوں میں شامل ہونے سے بچائے اور اطاعت والی زندگی گزارنے والا بنائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment