اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المقیت کا معنی مفہوم فوائد وظائف

وظائف

المقیت اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المقیت کے معنی نگران، غذا بہم پہنچانے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگرانی کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو غذا دیتا ہے۔روزی اور توانائی دینے والا، جوپوری مخلوق کو اس کی غذا پہنچاتا ہے ہر موجود کو اس کی غذا پہنچاتا ہے اور انہیں با آسانی رزق مہیا کرتاہے۔المقیت : اصل میں اس کو کہتے ہیں جو مخلوقات کو خور و نوش کی اشیاء پہنچائے اپنی حکمت اور مرضی سے جس کو جس قدر چاہے رزق پہنچائے۔مقیت بمعنی محاسب اور جزا دینے والا بھی ہے

ابن جریر رحمہ اللہ تعالی نے اس کے معنی میں کئ ایک اقوال نقل کئے ہیں:المقیت : حفیظ حفاظت کرنے والا ، شہید گواہ ، حسب کفایت کرنے والا ، اورالقا‏ئم ہرچيز کی تدبیرکرنے والا۔اللہ تعالی مقیت ہے یعنی وہ ہرچيز کی حفاظت کرنے والا اورہر چیزپرشاہد اور قادر ہے ۔ المقیت بدن و روح کے لئے قوت (غذا) پیدا کرنے والا اور انہیں قوت دینے والا۔ توالمقیت : کا معنی حفیظ اورقدرت والا اور ہر چیز پرشاھد ہے ، اوروہی ہے جو مخلوق کی روزی اتارتا اور ان کی روزی تقسیم کرتا ہے ۔رزق صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آسمان وزمین کے خزانوں کا مالک صرف وہی ہے ، مخلوق کو ‘چاہے کوئی بھی ہو‘ بندوں کے درمیان تقسیم ِرزق کا وکیل نہیں بنایا گیا ،اورطلب رزق کے لیے کوشش اورمحنت کرنا توکل کے منافی نہیں ،اللہ تعالی جسے چاہتا ہے ،جیسے چاہتا ہے ، جتنا چاہتا ہے اورجب چاہتا ہے رزق دیتا ہے ،اللہ تعالی ہی روزی دینے والاہے ، اسی نے بندوں کے بیچ رزق کی تقسیم کی ہے، اوررزق‘ مال اوراولاد میں محصور نہیں بلکہ اللہ پر ایمان سب سے بڑا، سب سے اچھا اورکامل ترین رزق ہے ،اسی طرح عافیت رزق ہے ، عمل صالح رزق ہے ، صلہ رحمی رزق ہے ، بارش رزق ہے اور پھل رزق ہے ۔ایک حدیث قدسی میں اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے”جو چیز تجھے جنت کے قریب کرسکتی ہے اس کا میں نے تجھے حکم دے دیا ہے ،اورجو چیزتجھے جہنم کے قریب کرسکتی ہے اس سے میں نے روک دیاہے ۔ یقینا روح القدس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی بھی جان اس وقت تک فوت نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اپنی روزی پوری نہ کرلے ،اورسارا رزق کھا نہ لے ، تو تم اللہ کا تقوی اختیار کرتے ہوئے روزی کا حصول اچھی طرح کرو، اورتم میں سے کسی کو روزی کا لیٹ اورکم ہوجانا اس بات پر نہ ابھارے کہ تم اللہ کی نافرمانی کرکے روزی حاصل کرنے لگو ، کیونکہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اللہ تعالی کی اطاعت اورفرمانبرداری کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔“

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:”اللہ نے مادررحم پر فرشتے کو مسلط کررکھا ہے ،فرشتہ کہتا ہے :اے میرے رب ! نطفہ ہوچکا ہے ،اے میرے رب علقہ (گوشت کا لوتھڑا) ہوچکا ہے ،اے میرے رب مضغہ ( بشکل بوٹی ) ہوچکا ہے، جب اللہ تعالی بندے کی تخلیق کا فیصلہ کرنا چاہتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں : میرے رب مردہوگا یا عورت ہوگی ۔بدبخت ہوگا یا نیک بخت ہوگا ،رزق کیا ہوگا ، عمر کتنی ہوگی ۔ یہ سب اس وقت لکھ دیاجاتا ہے جبکہ وہ شکم مادرمیں ہوتا ہے ۔“ جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ کے علاوہ کسی غیر کی نوازش سے رزق آتا ہے یا رزق کی تقسیم میں کسی مخلوق کا دخل ہے تو اس نے ایسے عمل کا ارتکاب کیاجس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔اللہ تعالی کے اسم المقیت : کا معنی ممد بھی ہے ، وہ اللہ سبحانہ وتعالی حیوانات کا مدبر ہے یہ کہ انہیں پیدا کیااوران میں سے اوقات گزرنے کے ساتھ کچھ نہ کچھ حلال کرتا اوراس کے عوض میں اس کے علاوہ کردیتاہے ، تو انہیں ہروقت وہ چيز دیتا ہے جوکہ اس کے قائم ودائم رہنے کا سبب بنتا ہے تو جب ان میں سے کچھ ختم کرنے کا ارادہ کرے تو وہ چيز جو اس کے بقا کا سبب ہے اسے روک لیتا ہے تو وہ ھلاک ہوجاتی ہے ۔اوربعض روایات میں المقیت کے بدلے المغیث کا لفظ آیا ہے ، اور المغیث کی تفسیریہ کی گئ ہے کہ وہ اپنے بندوں سختیوں میں جب اسے پکارتے ہیں تو ان کی مدد کرتا ہے ، اور ان کی اس دعا کو قبول کرتا اور انہیں اس سختی سے نجات دیتا ہے ۔ابن قیم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں اور وہ اپنی ساری مخلوق کا مددگار ہے اوراسی طرح وہ مظلوم کی بات کوسنتا ہے ۔

اللہ تعالی کے اس اسم المقیت سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اس نے یہ جان لیا کہ وہی قوت پیدا کرنے والا ہے اور قوت دینے والا ہے تو اب اسے چاہئے کہ وہ اس کے ذکر (یعنی یاد الٰہی) کے سامنے اپنے قوت کا ذکر (یعنی اپنی غذا کا فکر) بھول جائے کیونکہ حقیقی قوت تو اسی کا ذکر اور اسی کی یاد ہے جیسا کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ان سے جب قوت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ حی الذی لایموت (ایسا زندہ جو نہیں مرتا) کا ذکر ہے۔ نیز بندہ کو چاہئے کہ وہ قوت اور قوت اپنے مولیٰ کے علاوہ اور کسی سے نہ مانگے ارشاد ربانی ہے۔ کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے ہمارے پاس جس کے خزانے نہ ہوں اور ہم اسے اپنے اندازہ مقرر کے مطابق ہی اتارتے ہیں۔ نیز بندہ کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر متعلق کو قوت دے جس کا وہ مستحق ہے تاکہ دوسروں کو نفع پہنچانا گمراہوں کی ہدایت کرنا اور بھوکوں کو کھانا کھلانا اس کا طرہ بن جائے۔ قشیری فرماتے ہیں کہ قوت مختلف نوع کے ہوتے ہیں ایک تو یہی ظاہری غذا اور خوراک کہ جس پر انسان کی زندگی کا مدار سمجھا جاتا ہے لیکن بعض بندے تو ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عبادات کی توفیق کو ان کے نفس کا قوت، مکاشفات کے صدور کو انکے دل کا قوت اور مداومت مشاہدات کو ان کی روح کا قوت بنا دیتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نیک بندہ کو اپنی طاعت و عبادات میں مشغول کرتا ہے اور طرح کہ وہ اپنی خواہشات نفس سے بالکل قطع نظر کر کے پورے حضور اور صدق و اخلاص کے ساتھ صرف اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کسی ایسے شخص کو مقرر فرما دیتا ہے جو اس کی خبر گیری اور خدمت کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اس کی ضروریات زندگی خود بخود پوری ہوتی رہتی ہیں لیکن جب کوئی بندہ اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی خواہش کی تکمیل کو اسی کے بل بوتہ پر چھوڑ دیتا ہے اور اس کے اوپر سے اپنی عنایت و مدد کا سایہ اٹھا لیتا ہے۔

اللہ تعالی کے اسم المقیت کے فوائد و برکات میں سے ہے* جوشخص خالی آبخورے میں سات مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھ کر دم کر ے گا ‘ اور اس میں خود پانی پیئے یاکسی دوسرے کو پلائے یاسونگھے گا توانشاء اللہ مقصد حل ہو جائے گا۔* اگر روزہ دار ا سے مٹی پر پڑھ کر یالکھ کر اس کو ترکر کے سونگھے تو قوت اور غذائیت حاصل ہو۔* اگر مسافر کوزہ پر سات بار پڑھ کر پھر اس سے پانی پیاکر ے تو وحشت سفر سے مامون ہو۔* جس کی آنکھ سرخ ہواور درد کرتی ہو وہ اس اسم کو دس بار پڑھ کردم کرے۔جوکسی کو غریب دیکھے یاخود اس کو غریبی آئے یاکوئی لڑکا بدخوئی کرے یابہت روئے سات بار خالی آبخورے پر یہ اسم مبارک پڑھ کر اوراس میں پانی ڈال کرخود پئے اور دوسروں کو پلائے انشاء اللہ فائدہ ہوگا۔* اگر روز ہ دار کو ہلا کت کا خوف ہوتو سوبار پھول پرپڑھ کر اسے سو نگھے انشاء اللہ قوت پائے گا اور ہرروز روزہ رکھ سکے گا ۔*جواسے اسم (القائم ) کے ساتھ ملا کر ہرنماز کے بعد سات بار پڑھے گا سودائمی امراض سے انشاء اللہ شفاء پائے گا ۔*جواس اسم کو ہر روز ساتبارپانی پردم کرکے پئے گا انشاء اللہ غیب سے روزی پائے گاکبھی بھوکا نہ رہے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں المقیت نام کے صدقے ظلم سے بچائے اور رزق کی فراوانی عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment