اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المقسط کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

المقسط

المقسط اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المقسط کے معنی ہیں عدل و انصاف قائم رکھنے والا، جو اپنے فیصلوں میں مخلوق کے ساتھ مکمل انصاف کرنے والا۔انصاف کرنے والا: وہ دنیا اور آخرت میں عدل وانصاف کے ساتھ بندوں کے فیصلے کرتا ہے۔ وہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نہ کسی پر کسی اور کا بوجھ لادتا ہے، نہ بندے کو اس کے گناہوں سے زیادہ سزا دیتا ہے۔

وہ ہر حق دار کو اس کا حق پہنچاتا ہے-المقسط کے معنی ہیں وہ جس کا ہر کام انصاف اور توازن کا آئینہ دار ہے۔مظلوم کو ظالم سے اس کے حقوق دلوائے۔ اپنے فیصلوں میں مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے والا۔ اس کے انصاف کا یہ کمال ہے کہ وہ بعض اوقات ظالم اور مظلوم دونوں کو راضی کرتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت میں مظلوم کو (ظالم کے) ظلم کے بدلے میں ظالم کی نیکیاں دی جائیں گی۔ اور مظلوم کے گناہ ظالم کو دئیے جائیں گے۔ مظلوم کو جنت کے بنگلے و محل دکھائے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ ان کی قیمت یہ ہے کہ تو گناہ گار کو معاف کردے پھر وہ مظلوم شخص ظالم کو معاف کر دے گااور جنت میں ظالم کو اپنے ساتھ لے جائے گا۔(الدرالمنثور ص261 ج3 بحوالہ ابو یعلی وغیرہ) اس قسم کا انصاف صرف رب العالمین کی ذات ہی کرسکتی ہے۔عدل کے بہت سے مظاہر ہیں جن میں ایک حقیقی مسلمان نمایاں ہوتا ہے۔(1) سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ ا س کے ساتھ عدل کیا جائے یعنی اس کی عبادات و صفات میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ اس کا شکر ادا کیا جائے اور کفران و ناشکری سے بچا جائے۔ اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی سے بچا جائے، اسے یاد رکھا جائے اور کسی حال میں بھی بھلایا نہ جائے۔ بدقسمتی سے انسانیت نے ہمیشہ اس معاملے میں ناانصافی سے کام لیا اور اللہ کی مخلوقات کو اس کا ساجھی قرار دیا۔: ’’ بے شک شرک سب سے بھاری ظلم ہے۔‘‘ (سورۃ لقمان )(2) لوگوں کے فیصلے میں انصاف یعنی ہر حق والے کو اس کا پورا حق ملے اور اس کی داد رسی ہو۔: ’’ آپ (ﷺ) کہہ دیجیے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

(سورۃ الاعراف ) عدل و انصاف لوگوں کے درمیان اس انداز میں کرنا کہ کافر و مسلم کی بھی تمیز روا نہ رکھی جائے اگر کافر حق دار ہے تو اس کو اس کا حق دلایا جائے جیسا کہ سورۃ النساء کی آیت65 کے شان نزول میں وارد ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے حق دار سمجھا اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا جب کہ فریق مخالف نے اس فیصلے کو رشتہ داری و قرابت کا سبب جانا حالاں کہ امام کائنات ﷺ نے کسی رُو رعایت کے بغیر محض دلائل و براہین کی روشنی میں فیصلہ فرمایا تھا۔(3) بیویوں اور اولاد میں انصاف یعنی ان میں برابری کی جائے اور کسی کے ساتھ دوسرے کے مقابلے پر برتری و ایثار کا سلوک روا نہ رکھا جائے۔(4) بات میں عدل یعنی جھوٹ نہ بولے کذب اور باطل سے پرہیز کرے۔(5) عقائد و نظریات میں عدل یعنی حق اور سچائی کو تسلیم کیا جائے۔ خلاف حقیقت اور خلاف واقع باتوں کو دل میں جگہ نہ دی جائے۔(6) فیصلے میں خواہش نفس‘ عصبیت اور دشمنی آڑے نہیں آنی چاہیے۔ عدل کا یہ اتمام جس معاشرے میں ہوگا وہاں امن، سکون اور اللہ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو گا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اس نکتے کو بھی خوب سمجھ لیا تھا۔ چناں چہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی بابت آتا ہے کہ جب امام کائنات صلی اللہ علیہ سلم نے انہیں خیبر کے یہودیوں کے پاس بھیجا کہ وہ وہاں کے پھلوں اور فصلوں کا تخمینہ لگا کر آئیں۔ یہودیوں نے انہیں رشوت کی پیش کش کی تاکہ وہ کچھ نرمی سے کام لیں۔ انہوں نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم میں اس کی طرف سے نمائندہ بن کر آیا ہوں جو دنیا میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو لیکن اپنے محبوب صلی اللہ علیہ سلم کی محبت اور تمہاری دشمنی مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ میں تمہارے معاملے میں انصاف نہ کروں۔ ‘‘ یہ سن کر ان یہودیوں نے کہا: ’’اسی عدل کی وجہ سے آسمان و زمین کا یہ نظام قائم ہے۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر) عدل و انصاف کرنے والی اقوام دنیا میں عروج حاصل کرتی ہیں اور ان کے معاشرے میں امن و استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ عدل کی بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ خلیفۃ المسلمین سیدنا عمرؓ کے پاس ایک مصری شخص آیا اور کہا: ’’ آپ سے پناہ کی درخواست ہے، فرمایا تمہیں تحفظ حاصل ہے، بتاؤ کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میرا عمرو بن عاص ؓ کے بیٹے کے ساتھ گھڑ دوڑ کا مقابلہ ہوا، میں اس مقابلے میں جیت گیا اور وہ مجھے یہ کہتے ہوئے چابک سے مارتا رہا کہ میں معززین کا فرد ہوں۔ عمرو بن عاص ؓ کو پتا چلا تو اس اندیشے سے کہ کہیں میں آپ کے پاس نہ پہنچ جاؤں مجھے گرفتار کرلیا۔ اب میں وہاں سے آزاد ہوکر آپ کی خدمت میں پہنچا ہوں۔ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے گورنر مصر عمر بن عاص ؓ کو لکھا کہ ایام حج میں آپ اور آپ کے فرزند دونوں مجھے ملیں اور مصری کو کہا کہ تم اس وقت تک یہیں ٹھہرو۔ حج سے فراغت کے بعد عمر بن عاص ؓ اور ان کا بیٹا امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مصری بھی آگیا۔ سیدنا عمر بن خطابؓ نے مصری کے ہاتھ میں کوڑا دیا اور لڑکے کو مارنے کا حکم دیا تو اس نے بہت مارا۔ اس دوران امیرالمومنین فرما رہے تھے کہ معززین کے بیٹے کو خوب مارو۔ مصری نے آخر مارنا بند کیا اور کہا: ’’اب مجھے انصاف مل گیا ہے‘ میرا دل خوش ہے۔‘‘ امیرالمومنین نے عمرو بن عاص ؓ سے فرمایا: عمروؓ ! تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنانا شرو ع کیا ہے؟ جب کہ ان کی ماؤں نے تو ان کو آزاد پیدا کیا ہے۔فیصلے میں انصاف کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ نفوس میں اس سے اطمینان و سکون پھیلتا ہے۔ چناں چہ مروی ہے کہ قیصر بادشاہ روم نے سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس اپنا قاصد بھیجا وہ مدینہ میں آیا تو پوچھا: تمہارا بادشاہ کہا ں ہے؟ لوگوں نے کہا ہمارا بادشاہ نہیں ہے بل کہ ہمارا تو امیر ہے اور وہ شہر سے باہر گیا ہوا ہے۔ چناں چہ وہ شخص تلاش میں نکل کھڑا ہوا کیا دیکھتا ہے کہ مسلمانوں کا امیر ریت پر دُرّہ سرہانے رکھے سویا ہوا ہے۔ دُرّہ چھوٹی سے لاٹھی تھی جسے وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے اور نہی عن المنکر میں اسے استعمال کرتے تھے۔

قاصد نے دیکھا تو اس کے دل پر رقت طاری ہوگئی اور کہنے لگا۔ یہ شخص کہ دنیا کے بادشاہ جس سے کانپ رہے ہیں اس اطمینان سے اکیلا سویا ہوا ہے۔ وہ کہنے لگا: اے عمرؓ تم نے انصاف کیا ا س لیے تم سکون اور اطمینان میں ہو اور دنیا کے بادشاہ ظالم ہیں اس لیے وہ خائف ہیں اور ان کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔اللہ تعالی کے اس اسم المقسط کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص روزانہ اس اسم مبارک کوپڑھا کرے گاوہ انشاء اللہ شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہے گا ۔* اور اگر کسی خاص اور جائز مقصد کے لئے سات سو (۷۰۰) مرتبہ اس اسم مبارک کو پڑھے گا انشا ء اللہ وہ مقصدحاصل ہوگا۔* جو کوئی اس اسم کو روزانہ پڑھا کرے وہ انشاء اللہ شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہے گا۔* اگر کوئی شخص کسی خاص اورجائز مقصد کے لئے سات مرتبہ اس اسم کو پڑھے گا انشاء اللہ وہ مقصدپورا ہوگا۔ *جوکسی رنج میں مبتلا ہووہ ہر روز ستر ہزار باریہ اسم مبارک پڑھے انشاء اللہ رنج سے نجات پائے گا *جوکوئی اس اسم کو سوبار پڑھے گا شیطان کے شراور وسوسے سے بے خوف رہے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں عدل و انصاف کی فضا قائم کرنے اور ظلم و جبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment