اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المقدم کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

al muqadim

المقدم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المقدم کے معنی ہیں سب سے اول ۔رسول اللہ ﷺ ان الفاظ کے ساتھ دعا کیا کرتے تھےکہ اے اللہ میری مغفرت فرما۔ میں جو گناہ کر چکا ہوں اور جو گناہ ابھی نہیں کیے اور میں نے جو گناہ چھپ کر کیے اور میں نے جو گناہ علانیہ کیے اور میں نے ( اپنی جان کے اوپر) جو اسراف و زیادتی کی ہے۔ اور جس کا مجھ سے زیادہ تجھے علم ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔

تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں میں سے جس کو آگے بڑھانا چاہے اور ان کے درجات بلند کرنا چاہے وہی کر سکتا ہے جیسے انبیا و شہداء و صدیقین وغیرہ اور اپنے دشمنوں کو جب چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔ یعنی ان کو شکست دیتا ہے۔ اس کے دشمن چاہے کافر ہوں یا فاسق و فاجر ہوں۔ المقدم اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے۔المقدم کے معنی ہیں آگے بڑھانے والا، جو عزت و شرف ، علم و عمل میں اپنے نیک بندوں کو آگے بڑھانے والا ہے۔آگے بڑھانے سے مُراد بندے کی ترقی درجات لی جائے گی۔ وہ (اللہ) جو سب سے بڑھ کر عِزّت و توقیر والا ہے، اعلیٰ و ارفع ہے، مرتبہ و شان و شوکت والا ہے، وہی ہے جو اپنے بندوں کو بھی مقدم کرنے والا ہے اور آگے بڑھاتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالی ہی ہے جوکہ کسی چیز کوبھی جس کا حکما اورفعلا مقدم کرنا ضروری ہوجس طرح اورجیسے اسے پسند ہو مقدم کرتا ہے ، اورجسے وہ مقدم کرے وہی مقدم اورجسے مؤخر کرے وہی مؤخر ہے ، وہ اللہ تبارک وتعالی جسے مؤخرکرنا ضروری ہو اسے مؤخر کرتا ہے ، پھر بھی ہے کہ اللہ تعالی جوبھی کرتا ہے اس میں اصلاح اور حکمت ہے اگرچہ ہم پر اس کی اصلا ح اور حکمت واضح نہ بھی ہو ۔وہ اللہ سبحانہ وتعالی ہی ہرایک چیز کو اس کے منزل ومرتبہ پر اتارتا اور جوچاہے مقدم کرے اورجو چاہے مؤخر کرے ، اس نے مخلوقات کوپیدا کرنے سے بھی پہلے اس کی تقدیر کو مقدم کیا ، اور اپنے اولیاء میں سے جسے پسند فرمایا اسے اپنے دوسرے بندوں پر مقدم کردیا ، اورمرتبہ ودرجات کے اعتبار سے مخلوق کوایک دوسرے سے بلندی عطا کی ، اورکچھ کواپنی توفیق سے سابقین کا کے مقام ومرتبہ پر پہنچا دیا ، اور جس کوچاہا اس کے مرتبہ میں کمی کردی اور اسے مؤخر کردیا ، اور کسی چيز کو اس کے وقوع سے مؤخر کردیا کیونکہ اس کے علم میں اس کا انجام تھا اور اس میں کوئ حکمت پائ جاتی تھی ، تو اللہ تعالی جسے مؤخر کردے اسے کوئ مقدم کرنے والا نہیں اورنہ ہی جسے اللہ تعالی مقدم کردے اسے کوئ مؤخر کرسکتا ہے ۔

اورتقدیم دو چیزوں پر مشتمل ہے التقدیم الکونی : اورالتقدیم الشرعی ؛ تقدیم الکونی : مثلا ، مخلوقات میں سے بعض کی تقدیم ، اور اسباب کوان کے مسبب اورشروط ان کےمشروط سے مقدم کرنا ۔اورتقدیم الشرعی : مثلا ، بعض انبیاء کی دوسرے انبیاء پر فضیلت ، اور انبیاء کی باقی ساری مخلوق پر فضیلت اوراسی طرح بندوں کی ایک دوسرے پر فضیلت ، تو یہ سب کچھ اللہ تعالی کی حکمت کے تابع ہے ۔ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :اور وہ اللہ تعالی ہی مقدم ومؤخر ہے ،تو یہ دونوں صفتیں افعال کی تابع ہیں ، اور یہ دونوں صفتیں ڈاتی ہیں جوکہ ذات کے علاوہ کسی غیر کے ساتھ قائم نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ جس کو چاہے جو چاہے عطا کر دے منقول ہے کہ: جب کوئی نوجوان اپنے مالک عَزَّوَجَلکی بارگاہ میں توبہ کرتاہے تو فَرِشتے ایک دوسرے کو خوشخبریاں دیتے ہیں۔ دیگر فَرِشتے پوچھتے ہیں : کیا ہوا؟ تو اُن کو کہا جاتاہے کہ ایک نوجوان نے خواب ِ غَفلت سے بیدار ہو کر اپنے پَروَردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کر لی ہے ۔ پھر ایک اِعلان کرنے والااِعلان کرتا ہے:’’اس نوجوان کی توبہ کے اِستِقبَال میں جَنَّتوں کو سجا دو۔‘‘ (الروض الفائق، ص۱۵۵) مَنقُول ہے کہ جب کوئی نوجوان گناہوں کی وجہ سے روتا ہے اور اپنے مالک و محبوب ِحقیقی کی بارگاہ میں خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے :یااللہ ! میں نے بُرائی کی۔ تو اللہ ارشاد فرماتاہے: میں نے پَردَہ پَوشی کی۔بندہ عرض کرتاہے:میں نادِم ہوں۔جواب ملتاہے :میں جانتاہوں۔پھر عَرض کرتاہے:میں توبہ کرتا ہوں۔ جواب آتا ہے: میں قُبول کرتاہوں ،اے نوجوان ! جب تُو توبہ کرکے تَوڑ ڈالے تو ہم اری طرف رُجُوع کرنے سے حیا نہ کرنااور جب دوسری مرتبہ توبہ توڑ دے تو تیسری مرتبہ ہم اری بارگاہ میں حاضر ہونے سے شرمِندَگی تجھے نہ روکے اورجب تیسری مرتبہ بھی توبہ توڑدے تو چوتھی مرتبہ میری بارگاہ میں لوٹ آنا،(کیونکہ)میں ایسا جوَّاد ہوں جوبُخل نہیں کرتا،ایسا حَلِیم ہوں جو جلد بازی نہیں کرتا،میں ہی نافرمانوں کی پَردَہ پَوشی کرتا اور تَائِبِین (توبہ کرنے والوں ) کی توبہ قُبول کرتاہوں

میں خطائیں معاف کرتااور نَدامت کرنے والوں پر سب سے زیادہ رَحم کرتا ہوں کیونکہ میں سب سے بڑھ کر رَحم کرنے والا ہوں۔ کون ہے جو ہمارے دروازے پر آیا اور ہم نے اُسے خالی واپس لَوٹادیا؟ کون ہے جس نے ہم اری جناب میں اِلتجا کی اور ہم نے اُسے دُھتکار دیا؟ کون ہے جس نے ہم سے توبہ کی اور ہم نے قُبول نہ کی ؟ کون ہے جس نے ہم سے مانگا اور ہم نے عطا نہ کیا؟ کو ن ہے جس نے گناہوں سے معافی چاہی اور ہم نے اُسے دھتکار دیا؟ کیونکہ میں سب سے بڑھ کر خطاؤں کو بخشنے والا، سب سے بڑھ کر عَیْبَوں کی پردہ پوشی کرنے والا، سب سے بڑھ کر مصیبت زَدوں کی مدد کرنے والا، گریہ وزاری کرنے والے پر سب سے زیادہ مہربان اور سب سے زیادہ غیبوں کی خبر رکھنے والا ہوں۔ اے میرے بندے! میرے درپہ کھڑا ہوجا،میں تیرا نام اپنے دوستوں میں لکھ دوں گا، وقت ِسحر میرے کلام سے لطف اندوز ہو میں تجھے اپنے طلب گاروں میں شامل کردوں گا، میری بارگاہ میں حاضری سے لذت حاصل کر میں تجھے لذیذ (پاکیزہ)شراب پلاؤں گا، غیروں کو چھوڑ دے، فقر کو لازم پکڑ لے، سَحری کے وقت عاجزی واِنکِساری کی زبان کے ساتھ مُنَاجات کر۔ (الروض الفائق، ص۱۵۵) حضرتِسَیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اے ابنِ آدم! جب تو مجھ سے دعا مانگے اور مجھ سے آس لگائے تو میں تجھے تیرے عُیُوب کے باوجود بخشتا رہوں گا اورمیں بے پروا ہوں ، اے اِبنِ آدم! ا گر تیرے گناہ آسمان کی بلندی کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گامجھے کوئی پروا نہیں ،اے اولادِ آدم! اگر تو زمین کو خطاؤں سے بھردے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ کسی کو میرا شریک نہ کیا ہو تو میں زمین بھر تیری بخشش کروں گا۔ ‘‘ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ…الخ ، ۵/۳۱۸، حدیث:۳۵۵۱)

اللہ تعالی کے اس اسم المقدم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ نیکیوں میں پیش قدمی اختیار کر کے اپنے آپ کو آگے کرے یعنی دوسروں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو افضل بنائے اور ان لوگوں کو آگے کرے جو اللہ رب العزت کی بارگاہ عزت کے مقربین میں سے ہیں یعنی ان کو عزیز رکھے اور نفس اور شیاطین کو اور ان لوگوں کو جو بارگاہ کبریائی کے ٹھکرائے ہوئے ہیں پس پشت ڈالے، نیز اپنے تمام امور و اعمال کو ضابطہ و قاعدہ کے مطابق انجام دے۔ مثلاً پہلے وہ کام اور عمل کرے جو سب سے زیادہ ضروری ہو اور جسے خدا نے سب سے مقدم کیا ہو اور سب سے بعد میں اس عمل کو اختیار کرے جو سب سے کم ضروری ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم المقدم کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص جنگ کے وقت کثرت سے یَامُقَدِّمُ پڑھتا رہے گا اللہ تعالی اسے پیش قدمی کی قوت یقیناًعطا فرمادیں گے اور دشمنوں سے محفوظ رکھیں گے۔ اور جو شخص ہروقت یَامُقَدِّمُ کاورد رکھے گا انشاء اللہ وہ اللہ تعالی کامطیع اورفرمانبر دار بن جائے گا ۔* جواس کو نودفعہ شیر ینی پر پڑھ کر کسی کو کھلا ئے گا توانشاء اللہ وہ اس سے محبت کرے گا۔غلط اور ناجائز مقصد کے لئے یہ عمل کرنا حرام ہے اور سخت نقصان دہ ہے۔اگر کوئی شخص معرکہ جنگ میں اس اسم پاک المقدم پڑھے یا اسے لکھ کر اپنے پاس رکھے تو اسے کوئی گزند نہیں پہنچے گا اور جو شخص اس اسم پاک کو بہت پڑھتا رہے تو اس کا نفس طاعت الٰہی کے لئے فرمانبردار و مطیع ہو جائے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے نام المقدم کے صدقے قیامت کے دن اول درجہ کے لوگوں میں شامل فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment