اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المقتدر کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

المقتدر

المقتدر اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المقتدر کے معنی ہیں حکمران حقیقی۔ ہر طرح کی قدرت والا صاحب اقتداراور اللہ تعالیٰ نے فرمایاانہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیاتو ہم نے انہیں پکڑ لیا ایک غالب قدرت والے کی پکڑ۔ (القمر:42)المقتدراسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے۔

لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے۔ اور یہی معنی تقریبا مقتدر کے ہیں جیسے فرمایا : ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں۔] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔اللہ، المقتدر ہے۔ بمعنی وہ ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کرتا ہے۔ اور اس کے فیصلے کرتا ہے۔وہ مقتدر ہے۔ یعنی اس کی قدرت تمام و مکمل ہے۔ جس کے لیے کوئی کام یا کوئی چیز ناممکن نہیں۔ اَلْمُقْتَدِرُ کے معنی پوری قدرت رکھنے والا اور قدرت ظاہر کرنے والا۔ وہ عظیم ہستی جو ہر چیز پر قادر ہے، اس کی مشیت اس کائنات پر پوری طرح کارفرما ہے، اس کائنات کی ہر چیز کی ہر حرکت اس کے اشارے سے ہے، وہ ہستی جب آگے بڑھنے کا حکم دے تو یقین ہونا چاہیے کہ اس پیش قدمی کے لیے فضا سازگار ہے، حالات موافق ہیں اور کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ آیت میں دیکھیں مغفرت اور جنت کی طرف تیز دوڑنے کی ترغیب دی گئی اور کہا گیا کہ اللہ جسے چاہے اسی کو یہ فضل عطا ہوگا۔’’فرمایا دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان وزمین جیسی ہے، جو تیار کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ (الحديد:21)

اللہ کی مشیت کا عرفان جسے حاصل ہوگا وہ ضرور دوڑ کر اس زبردست پیش کش سے فائدہ اٹھائے گا، کیوں کہ جس کی مشیت اسی کا حکم، تو پھر تردد اور پس وپیش کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے! اور اس سے زیادہ سازگار اور موافق موقع اور کیا ہوسکتا ہے!اللہ تعالی قرآن میں جہاں اپنی مشیت کا ذکر کرتا ہے وہاں ترغیب وترہیب کا نہایت طاقت ور پہلو پیدا ہوجاتا ہے۔ جسے چاہے بخش دے ، جسے چاہے عذاب دے کے اندر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ایسی طاقت ور ترغیب ہے کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔جب ایسا ہے کہ وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے عذاب دے، تو پھر معافی اس کے سوا اور کس سے مانگی جائے، اور اس سے معافی کیوں نہ مانگی جائے۔جب ایسا ہے کہ وہ جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت دے، تو ہدایت حاصل کرنے کے لیے اسی کی طرف رجوع کیا جائے۔جب ایسا ہے کہ وہ جسے چاہے اپنی رحمت سے نوازے تو اس کی رحمت پانے کے لیے اسی طرف دوڑ لگادی جائے۔جب ایسا ہے کہ وہ جسے چاہے عزت کا تاج عطا کرے اور جسے چاہے ذلت میں ڈھکیل دے تو عزت کے تاج وخلعت اسی سے طلب کئے جائیں، کسی اور کے در پر کیوں کاسہ لیسی کی جائے۔جب ایسا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے جتنا چاہتا ہے دیتا ہے تو اسی کے آگے دست سوال پھیلایا جائے، اور بار بار پھیلایا جائے۔من یشاء کوئی مبہم جملہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر جھوٹی آرزوئیں پالی جائیں، یہ تو ایک واضح کھلی ہوئی الہی پکار ہے، جس کا حق ہے کہ اسے سنتے ہی دوڑ پڑیں۔اللہ کی مشیت اس کائنات کی سب سے نمایاں حقیقت ہے، اس حقیقت کے ہوتے ہوئے اللہ پر ایمان کی دعوت بہت طاقت ور ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں دعوتی مکالمات میں اللہ کی مشیت کا حوالہ بہت نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان واطاعت کی دعوت دینے اور کفر ومعصیت سے باہر نکالنے کے لیے اللہ تعالی کی مشیت کا تصور بہت طاقت ور اور نہایت موثر دعوتی وسیلہ ہے۔

اس پہلو سے ان تمام آیتوں کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے جن میں اللہ تعالی نے انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی مشیت کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں ہم وہ تین مقامات ذکر کریں گے جہاں اللہ کی مشیت کے حوالے سے قرآن مجید پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے:’’آگاہ ہوجاؤ، یہ ایک نصیحت ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کر لے۔ اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے۔‘‘(المدثر: 54 -56)’’یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے یقیناً اللہ بڑا علیم و حکیم ہے۔ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘(الإنسان: 29 -31)’’یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو۔اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔‘ان تینوں مقامات پر ٹھہر کر غور کرنے کی ضرورت ہے، الفاظ کے فرق کے ساتھ تینوں مقامات پر ایک ہی بات کہی گئی ہے، سب سے پہلے قرآن کو نصیحت قرار دے کر اس کی طرف دعوت دی گئی، پھر انسان کو اکسایا گیا کہ وہ اپنی مشیت کا درست استعمال کرکے اس دعوت کو قبول کرے، اور پھر تینوں ہی مقامات پر یہ یاد دلایا کہ اللہ کی مشیت کے بغیر انسان اپنی مشیت کا استعمال کرکے اس دعوت کو قبول نہیں کرسکتا۔ سیاقِ کلام دعوت کا ہے اس لیے یہاں اللہ کی مشیت کا ذکر انسانوں کو یہ حقیقت یاد دلا رہا ہے کہ ہدایت کا راستہ اور ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق اللہ کی مشیت کے بغیر انسانوں کو نہیں مل سکتی تھی، اور اب جب کہ خود اللہ کی طرف سے یہ ہدایت پیش کی جارہی ہے، اس کی دعوت دی جارہی ہے اور قرآن کی صورت میں ہدایت کا اس نے بھرپور انتظام کردیا ہے تو اس عظیم موقع کو غنیمت جانتے ہوئے، اور اللہ کی اس مشیت سے مدد لیتے ہوئے اپنی مشیت کو ہدایت سے فائدہ اٹھانے کے لیے وقف کردینا چاہیے۔

اللہ تعالی کے اس اسم المقتدر سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو خواہشات و لذات سے باز رکھنے پر قادر ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم المقتدر کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص سوکراٹھنے کے بعد بکثرت یَامُقْتَدِرُ کا وردکیا کرے یاکم ازکم بیس مرتبہ پڑھا کر ے انشاء اللہ اسکے تمام کام آسان ہوجائیں گے۔جو کوئی اس اسم کو پڑھے انشاء اللہ اس کا دشمن مغلوب ہوگا۔* جواس نام کو توجہ کے ساتھ پڑھتا رہے انشاء اللہ اس کی غفلت دور ہوجائے ۔ *جو شخص حقیقتاً مظلوم ہووہ مہینے کی آخر ی رات میں اندھیرے کمرے میں ننگی زمین پر دورکعت نماز پڑھے اور دوسری رکعت کے آخر یسجدے میں اَلْمُقْتَدِرُالشَّدِیْدُ الْقَوِیُّ الْقَاہِرُ پڑھ کرظالم کے خلاف دعا کرے انشاء اللہ قبول ہوگی ۔ اگر کوئی شخص اسم پاک المقتدر کو پابندی کے ساتھ پڑھتا رہا تو غفلت ہوشیاری میں بدل جائے گی اور جو شخص سو کر اٹھتے وقت یہ اسم پاک بیس بار پڑھ لیا کرے تو اس کے تمام کام حق تعالیٰ کی طرف راجع ہوں۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی مشیت کا یقین رکھنے اور اپنی قدرت کا یقین رکھتے ہوئے مرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment