اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المتکبر کا معنی مفہوم اور وظائف

وظائف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں ایک اسم متکبر بھی ہے جس کے معنی ہیں بڑی عظمت والا یا حد سے زیادہ بزرگی والا باالفاظ دیگر وہ ذات جو تمام مخلوقات ظاہری وباطنی کے مقابلے میں سب سے عظیم تر ہو اور کل مخلوقات اس کے سامنے ہیچ اور حقیر ہو ۔ اس سے مراد وہ ذات بھی ہے جو کل مخلوقات پر حکمراں بھی ہو اور نگہباں بھی ۔ اور اس کے سامنے کسی کو بھی لب کشائی اور چوں چرا کا کوئی حق نہ ہو اور ظاہر سی بات ہے کہ ایسی ذات بجز خدا تعالیٰ کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس لئےاللہ کے سوا کسی کو بھی اظہار بڑائی اور اظہار تکبر کا کوئی حاصل نہیں ہے ۔

اس لئے حدیث قدسی میں حق تعالیٰ نے خود ہی ارشاد فرمایا ہے کہ بڑائی میرا تہہ بند اور عظمت میری چادر ہے ۔ جو شخص اسے مجھ سے چھیننا چاہے یعنی جو میرے ہوتے ہوئے خود بڑائی کا اظہار کرنے لگے میں اسے ضرور دوزخ میں ڈالوں گا اس اسم مبارک میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی پوشیدہ ہے جو شخس اللہ تعالیٰ کی عظمت ، رفعت ، جلال اور رتبے کو صحیح معنی میں پہچان لے اور صحیح طور سے ان کی بلندی اور کبریائی کو سمجھ لیگا وہ خود بخود عاجزی اور انکساری والی راہ اختیار کرلے گا۔اللہ تعالی کا یہ نام المتکبر ، تکبر سے نکلا ہے . لفظ تکبر کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ایک یہ فی الحقیقت کسی کے افعال حسنہ زیادہ ہوں اور وہ ان میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہو۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ صفت تکبر کے ساتھ متصف ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا : غالب زبردست بڑائی۔ دوم یہ کہ کوئی شخص صفات کمال کا دعوی کرے لیکن فی الواقع وہ صفات حسنہ عاری ہو اس معنی کے لحاظ سے یہ انسان کی صفت بن کر استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے ؛
متکبروں کا کیا بڑا ٹھکانا ہے۔ تو معنی اول کے لحاظ سے یہ صفات محمود میں داخل ہے اور معنی ثانی کے لحاظ سے صفت ذم ہے ۔یہ سمجھ لینے کے بعد اب جان لیں کہ اللہ تعالی کی صفت متکبر کا معنی ہے کہ ‘: جس کی عظمت وکبریائی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے متکبر ہونا صفت ہے لیکن مخلوق کے لیے یہ مذمت کا سبب ہے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے۔ جو ان کو اوڑھنے کی کوشش کرے گا میں اس کی کمر توڑ دوں گا اور اس کو دوزخ میں پھینک دوں گا ( المتکبر) کے معنی ہیں اپنی بڑائی اور برتری کا احساس رکھنے والا، یہ احساس اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے اندر ہو تو باطل ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی ایسی بڑائی حاصل نہیں ہے جو اس کی ذاتی ہو بلکہ جس کو بھی کوئی بڑائی حاصل ہے وہ اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہے۔

البتہ اللہ تعالیٰ کے لیے تکبر زیبا اور بر حق ہے اس لیے کہ اس کی بڑائی ذاتی اور ازلی و ابدی ہے۔ اس کے اس احساس ہی کا یہ اثر ہے کہ وہ اپنی خدائی اور بادشاہی ہی کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے اس شعور کی تعبیر دوسرے آسمانی صحیفوں میں یوں کی گئی ہے کہ تمہارا خداوند خدا غیور ہے۔ جس طرح تم یہ گوارا نہیں کرتے کہ تمہاری بیوی کسی غیر کی بغل میں سوئے اسی طرح وہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ اس کا بندہ کسی غیر کی بندگی کرے۔ میرے نزدیک قرآن نے جو مضمون لفظ متکبر سے ادا کیا ہے دوسرے آسمانی صحیفوں میں وہی مضمون ’ غیور ‘ سے ادا کیا گیا ہے۔اللہ ہر برائی، نقص، عیب اور ظلم سے اعلیٰ ہے۔ وہ مخلوقات کی صفات سے بھی اعلیٰ ہے۔ متکبر، کبریائی والے اور عظمت والے کو کہتے ہیں۔ یہ وصف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ کسی اور کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ وصف اللہ سے چھیننے کی کوشش کرے لہذا جو بندہ بھی تکبر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر انسان کے اندر عنصر آتش ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ تکبر کا مادہ ہوتا ہے اور جب یہ مادہ حد سے زیادہ ہوجاتا ہے تو انسان کے اندر ایک مذموم عادت پیدا ہوجاتی ہے جو اسے سرکشی پر مجبور کرتی ہے اور اسی وقت وہ آپے سے باہر ہو کر صفت خداوندی کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے ۔انسان جو ایک مشت خاک اور ایک حرام نطفہ سے وجود میں آیا ہے اس میں صف خداوندی کا مقابلہ کرنے کی اہلیت کیسے پیدا ہو سکتی ہے اسے چاہئے کہ اپنی اصلیت اور حیثیت اور اوقات کو کبھی فراموش نہ کرے وہ اس دنیا میں ترقیوں کے منازل طے کرتا ہوا کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوجائے لیکن خالق کون و مکان کے سامنے اس کی حیثیت ایک ذرے سے زیادہ نہیں ہے صاحب عقل انسان تواضع اور عاجزی کا چلن اختیار کرتا ہے اور یہی چلن اس کو دنیا میں بڑائی عطا کرتا ہے ورنہ اس دنیا میں جب بھی کسی انسان نے فرعونیت اور قارونیت کا راستہ اختیار کیا ہے اور شداد جیسا تشدد اور نمرودیت والی راہ پکڑی ہے اللہ نے اسے دنیا ہی میں ذلیل وخوار کیا ہے اور مچھر جیسے حقیر اور بے حیثیت جانوروں کے ذریعہ انہیں ذلت و منکبت عطا کی ہے اور ایسی ذلت عطا کی ہے جو کہ قیامت تک قابل ذکر سمجھی جائے گی ۔

عقل و فہم کا تقاضہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اونچی پروز کے لئے انسان جیتے جی پیوند زمین ہوجائے اور عاجزی و انکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے پھر دیکھئے کہ اللہ رب العزت اس کو کس طرح عزتین اور عظمتیں عطا کرتا ہے اور کس طرح اسے دنیا میں محبوبیت اور مقبولیت کا وہ مقام اعلیٰ عطا کرتا ہے جو اس کے فضل و کرم کے بغیر مل جانا ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس نام کے اوصاف سے اپنے آپ کو متصف بنانے کی صور ت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کا جائزہ لے اور غور کرے اس کی بساط کیا ہے ؟ اور رحمن و رحیم کے مقابلے میں اس کی حیثیت عرفی کیا ہے ؟ اسے خود اندازہ ہوجائے گا کہ وہ اختیار رکھتے ہوئے بھی کس قدر مجبور و بے بس ہے اور علم و عقل رکھتے ہوئے بھی کس قدر چھوٹا ہے بری بیماریاں تو بڑی ہوتی ہیں انسان کی اگر ڈاڑھ میں درد ہوجائے تو اسی وقت اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کے اختیارات اور خود اعتباری کی حیثیت کیا اور کتنی ہے ۔المتکبر کے معنی اور مفہوم سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس اسم کے فوائد و ثمرات کی طرف آتے ہیں ) اَلْمُتَکَبِّرُ (بڑائی اور بزرگی والا) (۶۶۲)* جوشخص کثرت سے اس اسم مبارک کاوردرکھے گا ‘ اللہ تعالی اسے عز ت وبڑائی عطا فرمائیں گے۔* اور اگر ہرکام کی ابتداء میںیہ اسم مبارک بکثرت پڑھے توانشا ء اللہ اس میں کامیاب ہوگا ۔*شبِ زفاف میں بیوی کے پاس جاکر قبلِ مبا شرت دس بار ذکر کرے تو اولا دِ نرینہ نیک بخت ہو۔ *جو بغیر تھکے اسے کثرت سے پڑھتارہے اسے بلند قدر ومنزلت نصیب ہوتی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔* کسی کوبے حیائی سے روکنے کیلئے اس کا دس بار اس پرپڑھنا بہت مفید ہے۔*

جواس اسم مبارک کو ہر کام کے آغاز سے پہلے کثرت سے پڑھے گااس کے کا م میں کوئی رکا وٹ نہیں آئے گی ۔ *جو اس کو اکیس مرتبہ پڑھے گا تو انشاء اللہ خواب میں کبھی نہیں ڈرے گا ۔ *جواس کو چھ سو باسٹھ دن تک چھ سوباسٹھ(۶۶۲) مرتبہ روزانہ پڑھے گا صاحب صولت وسیا ست ہوگا ۔ *جودشمن سے ڈرتا ہواس اسم کی مداومت کرے تودشمن بد گوئی سے باز آجائے گا۔دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment