اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المتعال کا معنی مفہوم فوائد وظائف

وظائف

المتعال اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ا المتعال کے معنی ہیں بلند شان والااور اللہ سبحانہ نے فرمایا:وہ (اللہ ) مخفی اور موجود اشیاء کا عالم ہے۔ وہ بہت بڑا اور عالی مرتبت ہے۔ ”“(الرعد:9)( المتعال) العلو سے ہےجس کے معنی بلند اور بر تر کے ہیں جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں وہ ذات اس سے بلند وبالا تر ہے کوئی شخص اس کا وصف بیان کرسکے بلکہ عارفین کا علم بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔

المتعال کا مفہوم یہ ہے علو اللہ تعالیٰ کا وصف ہے یعنی وہ اوپر ہوا اور بلند ہو گیا۔ کیونکہ وہ سب مخلوقات سے اوپر عرش پر مستوی ہے۔ وہ اپنی صفات اور اپنی تقدیر کے لحاظ سے بھی عالیشان ہے تبھی اس کا کوئی مماثل نہیں وہ اپنے قہر کے اعتبار سے بھی عالی ہے۔ کہ جو اپنی عزت اور علو کے ذریعے تمام مخلوقات پر غالب ہے۔المتعال کا معنی بہت بلند و بالا کے بھی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “ (الطور: ۸۲) اللہ سبحانہ رحم کرنے والے اور نیکوکار ہیں اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے جس کے اوصاف جود، کرم اور کثرت عطاء ہیں وہ اللہ ایسا محسن ہے جو اپنے بندوں پر طرح طرح کے انعامات کرتا ہے اور انواع و اقسام کے احسانات سے ان کو نوازتا ہے۔ اور ان سے ہر قسم کی ذلتیں رسوائیاں دور کرتا ہےمتعال مبالغہ کے معنوں میں ہے۔ ساتوں آسمانوں اور عرش سے بھی بلند ہے جیسے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ اپنی شان کے لحاظ سے ان تمام چیزوں سے پاک اور بلند ہے جو مخلوق سے منسوب ہیں۔اللہ کی ذات مکمل ترین ہے، اس لئے اس کا مقام بھی بلند ترین۔ وہ جس عظمت اوربلندی کامالک ہے اس کاانسان تصوربھی نہیں کرسکتا۔ انسانیت کی میزان میں اعلٰی، عظیم، متین و عزیز کی خصوصیت رکھنے والا انسان ہی بلند درجہ رکھنے کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔

) 1الاعلٰی کے معنی بالاتر کے ہیں۔
٢) العظیم کے معنی صاحب ِکثیر کے ہیں۔
٣) العلی کے معنی برتر کے ہیں۔
٤) المتعال کے معنی بلندمرتبہ کے ہیں۔
٥) المتین کے معنی قوت والا کے ہیں۔
٦) العزیز کے معنی زبردست غالب کے ہیں۔
ان صفاتِ خداوندی کا ذکر قرآنِ کریم سے ملتا ہے۔ الاعلیٰ کی صفت کا ذکر قرآن میں یوں ہے:
”جدوجہد کر اپنے رب کے نظام ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے، جو تمام نظاموں سے اعلٰی ہے”۔
العظیم اور صفت العلی کا اکھٹے قرآن کریم میں ذکرملتا ہے کہ”وہ وہی ہے سب سے برتر عظمت والا”۔
اسی عنوان کے تحت صفت المتعال کا ذکر قرآنِ کریم میں اللہ کی صفت میں ہے:”جاننے والاپوشیدہ اور ظاہر کا سب سے بڑاا وربرتر”۔اس عنوان کی صفت المتین کا ذکر قرآنِ کریم سے اللہ کی صفت کے طور پر ملتاہے:

”اللہ جوہے وہی ہے روزی دینے والا زور آور مضبوط”۔اسی کے ساتھ صفت العزیز کابھی خدا کی صفت کے طور پر قرآنِ کریم میں ذکر ہے:”بیشک تو ہی ہے زبردست بڑی حکمت والا”۔لہٰذا اللّہ کی صفت کبریائی کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کی وضاحت خود قرآن سے ملتی ہے۔”ان تمام عیبوں سے پاک اور برتر، جو اس کے متعلق جہالت کی بناء پر کی جاتی ہیں”۔عزت کے معنی بھی قوت کے ہیں۔ لیکن ایسی قوت جس کے ساتھ غلبہ بھی شامل ہو۔ اسی لیے عزیز کے معنی صاحبِ غلبہ ہوں گے۔ متانت میں بھی قوت کا مفہوم عیاں ہے۔ لیکن یہ ایسی قوت ہے، جس میں کہیں ڈھیل نہ ہو، کسر نہ ہو۔ اس لیے متین ایسا صاحبِ قوت ہوگا، جس کی تدابیر مضبوط اورمحکم ہوں۔ظاہر ہے کہ جب خدائے بلند وبرتر اس درجہ عالی مرتبت ہے، تو دنیا میں اس کی حکومت قائم کرنے والے بندے بھی کس بلندی پر ہوں گے۔ ایسی بلندی کہ کوئی دوسری قوم ان کی گردتک نہ پہنچ سکے۔ انہیں کے متعلق کہا گیا ہے۔”مت ہمت ہارو، بالکل غمگین نہ ہو۔ تم ہی سب سے برتر واعلیٰ ہو۔ اگر تم سچے مومن ہو”۔جس طرح خدا تمام موجودات میں علم، مرتبت اور رفعتِ شان کے لحاظ سے وحدہ’ لاشریک ہے۔ اسی طرح اس کے بندوں کی یہ جماعت تمام نوعِ انسان میں اپنا شریک وحریف نہیں رکھتی۔ لیکن ان کی یہ رفعت اور بلندی نہ سرکشی وتمرد کی پیدا کردہ ہوگی، نہ اسے پیدا کرنے کی موجب ہوگی۔ بڑائی وہی بڑائی ہے جو قوانینِ خداوندی کے سامنے جھکنے سے حاصل ہو۔ قیام وہی قیام ہے جس کے ساتھ سجدہ بھی شامل ہو۔ لہذا ہرقسم کی بڑائی اور عظمت اللہ کے لئے، اللہ کے دین کے لیے اوراس ملت کے لیے ہے، جو دنیا میں اس کے دین کے تمکّن کا باعث ہو۔ جب قرآنِ کریم نے یہ کہا کہ محکم اور پائیدار عزت وتکریم ، جماعتِ مومنین کے لیے ہے اور عزت بھی ایسی کہ کوئی دوسری قوم اِن کی ہمسری نہیں کرسکتی تو اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسی خصوصیت نہیں رکھتے اپنے آپ کو مومنین نہیں کہہ سکتے۔قدرت الٰہی کا ایک اہم پہلو عظمت شان اور شوکت ہے۔ یعنی جب وہ ہستی کچھ بھی کرنے پر قادر ہے تو لازماََ وہ انتہائی عظیم ، بلند اور شان و شوکت والی ذات ہے۔اس عظمت اور بلندی میں اس کی قدرت کی شانیں پوری طرح نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادشاہ ہیں بادشاہ سے مراد ایک صاحب تخت و تاج، خود مختار حکمران ہے جو کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔چونکہ اللہ فرمانروا ہیں لہٰذا وہ اپنا فرما ن یعنی حکم نامہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے اور اپنی مخلوق سے ان احکامات کو ماننے کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ سلطان ہیں یعنی مقتدر اور بااختیار حاکم چنانچہ وہ اپنی مخلوق پر ہر قسم کا تصرف رکھتے ہیں ، انہیں کسی مخالف کا خوف نہیں، انہیں کسی رعایا کی بغاوت کا اندیشہ نہیں وہ اپنی سلطنت کے ایک ایک پتے اور ہر ذرے پر مکمل اقتدار رکھتے ہیں۔اسی طرح ذات باری تعالی بڑا، بزرگ، صاحب عظمت، شاندار، جاہ و جلال والی ہستی کے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ لامتناہی شان و شوکت کے مالک ہیں۔

۳اور اسی بلندی مرتبت کی بدولت تکبر کرنے والی اور کمالِ بزرگی والی ذات بھی زات باری تعالی کی ہے۔ تکبر کرنے کا مطلب خود کو بڑا سمجھنا، اپنی صفت میں خود کو دوسروں سے برتر محسوس کرنا بھی شامل ہیں۔ تکبر اللہ کے سوا ہر دوسرے کے لئے ایک منفی اور جھوٹا دعویٰ ہے۔ اللہ اپنی ذات اور صفا ت میں ہر لحاظ سے مطلق طور پر برتر ہیں اور ان کا یہ تکبر ذاتی ہے ناکہ کسی کا عطا کردہ۔چنانچہ یہ تکبر اللہ کوزیبا بھی ہے اور ان کا حق بھی۔ کوئی دوسر ااگر تکبر کرتا ہے تو وہ خدا کی ہمسری کا دعویٰ کرتا ہے۔اللہ کی ذات بہت بلند و برتر کہ جس سے اوپر کسی کا مرتبہ نہیں ہو۔وہی اللہ مددگار، معتمد، کارساز ، کام بنانے والے اور وکالت کرنے والے ہیں۔ ایک وکیل کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ معاملے کا علم و ادراک رکھتا ہو، اس مسئلے کو حل کرنے میں ماہر ہو، اپنے مؤکل سے ہمدردی رکھتا ہو،مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہو، مسئلہ حل کرنے کی طاقت اور قدرت رکھتا ہو وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ان تما م امور میں کامل ترین صفات رکھتے ہیں ۔ چنانچہ ان سے بہتر کام بنانے والا اور اعتماد کے قابل کوئی نہیں ہوسکتا ۔ شرط یہ ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کام کیا جائے۔ اللہ تعالی کے اس اسم المتعال کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جوشخص کثرت سے یَامُتَعَالِیْ کاورد رکھے انشاء اللہ اس کی تمام مشکات رفع ہوجائیں گی۔* اور جو عورت حالتِ حیض میں کثرت سے اس اسم مبارک کاوردرکھے انشاء اللہ اسکی تکلیفرفع ہوگی ۔* جوبدکردار عورت ایام کی حالت میں اس اسم کو بہت پڑھے گی وہ اپنے فعل سے نجات پائے گی ۔* جوشخص اتوار کی رات کوغسل کرکے آسمان کی طرف منہ کرکے اس کو تین بار پڑھ کر جودعامانگے گاانشاء اللہ قبول ہوگی۔* اس کا بکثرت ذکر کرنے سے رفعت ( بلند ی ) حاصل ہوتی ہے ۔ جوحاکم کے پاس جاتے وقت یہ اسم پڑھ لے اسے محبت اورغلبہ نصیب ہوگا ۔* دشمن کی ہلاکت کیلئے سات دن تک روزانہ ایک ہزار بار پڑھنا مفید ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت المتعال کے صدقے میں بلند رتبہ عطا فرمائے اور روز قیامت سرخرو فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment