اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المبدی کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المبدی کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

المبدی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المبدی کے معنی ہیں پہلی بار پیدا کرنے والا۔وہ جس نے بغیر کسی مادے اور شکل کے کائنات کو پیدا کیا۔ کائنات کی ابتدا ء کو قرآن کریم کی اس آیت سے واضح کیا جا سکتا ہے:’’ وہ ( اللہ) آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ۔‘‘ (سورۃ الانعام:101) ،پھرکائنات کے توسیع ہونے کے عمل کو بیان فرمایا ۔’’ آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایاہے اور یقیناہم کشادگی کرنے والے ہیں۔‘‘( سورۃ الذٰریٰت:47). کائنات کے اس خاتمے کا ذکر قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں: ’’جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دئیے جاتے ہیں۔جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے۔

یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کر کے(ہی) رہیں گے۔‘‘ (سورۃ الانبیاء :104)سٹیون ہاکنگ “وقت کا سفر”اس باب میں مزید کہتے ہیں کہ ا ٓئن سٹائن کے عمومی اضافیت کے نظریے نےخود یہ پیشین گوئی کی ہے کہ مکاں-زماں کا آغاز بگ بینگ کی اکائیت پرہواتھااور اس کا اختتام عظیم چرمراہٹ اکائیت پر ہو گایا بلیک ہول کے اندر ہی ایک اکائیت پر ہو گا (اگر کوئی مقامی خطہ مثلاً ستارہ زوال پذیر ہوا) اس میں گرنے والا ہر مادہ اکائیت کے باعث تباہ ہو جائے گا اوراس کی کمیت کا محض تجاذبی اثر ہی باہر محسوس کیا جاتا رہےگا، دوسری طرف کوانٹم اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے کہ مادے کی کمیت اور توانائی بالآخر بقیہ کائنات کو لوٹا دی جائے گی اور بلیک ہول اپنے اندر کی اکائیت کے ساتھ بھاپ کی طرح اڑے گااور پھر غائب ہو جائے گا۔یہ پیشین گوئی کرنے کے لیے کہ کائنات کس طرح سے شروع ہوئی ہو گی ہمیں ایسے قوانین کی ضرورت ہے جو وقت کے آغاز پر لاگو ہو سکیں اگر عمومی اضافیت کا کلاسیکی نظریہ درست تھا تو میرے اورراجر پن روز کی ثابت کردہ اکائیت کی تھیورم یہ ظاہر کرتی ہے کہ وقت کا آغاز لا متناہی کثافت اور لا متناہی مکانی – زمانی خم سے ہوا ہو گا، ایسے نقطے پر تمام معلوم قوانینِ سائنس ناکارہ ہو جائیں گے ، یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ اکائیتوں پر لاگو ہونے والے نئے قوانین تھے ! مگر ا یسے قوانین کو وضع کرنا اور وہ بھی اسی بڑے طرزِ عمل والے نقاط پرخاصہ مشکل ہو گا اور مشاہدے سے ہمیں اس سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں ملے گی کہ وہ قوانین کیسے ہوتے ہوں گے.اگر اقلیدسی مکان – زمان لا متناہی فرضی وقت تک پھیلا ہوا ہے تو کلاسیکی نظریے کی طرح ہمیں اس میں بھی کائنات کی بنیادی حالت کے تعین میں اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا، خدا ہی جانتا ہو گا کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا مگر ہم اس سوچ کے لیے کوئی خاص جواز فراہم نہیں کر سکتے کہ کائنات ایسے نہیں بلکہ کسی اور طریقے سے شروع ہوئی تھی، دوسری طرف تجاذبی کوانٹم نظریے نے ایک نئے امکان کو پیدا کر دیا ہے جس میں مکان – زمان کی کوئی حد نہیں ہے ، لہذا اس کی ضرورت نہیں ہے کہ حد کے طرزِ عمل کی وضاحت کی جائے ، کوئی ایسی اکائیت ہوئی ہی نہیں جہاں سائنس کے قوانین ناکارہ ہو جائیں اور نہ ہی مکان – زمان کا کوئی ایسا کنارہ ہو گا جس پر خدا سے درخواست کرنی پڑے یا کوئی نیا قانون بروئے کار لانا پڑے جو مکان – زمان کی حدود کو متعین کر دے ، کہا جا سکتا ہے

’کائنات کی حد یہ ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں ہے ‘ کائنات مکمل طور پر خود کفیل ہو گی اور کسی بیرونی چیز سے متاثر نہیں ہو گی، یہ نہ تخلیق ہو گی، نہ تباہ ہو گی، یہ بس موجود ہو گی۔میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ مکاں اور زماں کا کسی حد کے بغیر متناہی ہونا محض ایک تجویز ہے ، اسے کسی اور اصول سے اخذ نہیں کیاجا سکتا اور سائنسی نظریوں کی طرح اسے بھی ابتدائی طور پر جمالیاتی یا ما بعد الطبیعاتی وجوہات کےلیے پیش کیا جا سکتا ہے،مگر اصل آزمائش یہ ہے کہ آیا یہ خیال ایسی پیشین گوئیاں کرتا ہے جو مشاہدے سے مطابقت رکھتی ہوں.مجموعۂ تواریخ میں ہر تاریخ نہ صرف مکان – زمان کی تشریح کرے گی بلکہ کائنات کا مشاہدہ کر سکنے والے انسانوں جیسے نامیوں سمیت اس میں موجود ہر شئے کی تشریح کرے گی۔سائنس کے قوانین بے کار ہو جاتے ہیں، مگر فرضی وقت میں اکائیتیں یا حدود نہیں ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ جسے ہم فرضی وقت کہتے ہیں در حقیقت زیادہ بنیادی ہو، اور جسے ہم حقیقی وقت کےنام سےپکارتے ہیں محض ایک تصور ہو جو ہم نے کائنات کی تشریح میں مدد حاصل کرنے کے لیے ایجاد کیا ہو، مگر پہلے باب میں میرے موقف کے مطابق ایک سائنسی نظریہ محض ایک ریاضیاتی ماڈل ہوتا ہے اس لیے یہ پوچھنا بے معنی ہے کہ حقیقی کیا ہے ؟ حقیقی اور فرضی وقت کیا ہے ؟ یہ سادہ سی بات ہے کہ کون سا تشریح کرنے کے عمل میں زیادہ کار آمد ہے ۔اللہ تعالی کے اس اسم المبدی سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ہر معاملہ اور ہر چیز میں اللہ رب العزت کی طرف اول بار بھی اور دوبارہ بھی رجوع کرے۔ نیکیاں پیدا کرنے میں سعی و کوشش کرے اور جو نیک عمل کرنے سے رہ گیا ہو یا جس عمل میں کوئی کمی اور کوتاہی ہو گئی ہو اس کا اعادہ کرے یعنی ان کو دوبارہ کرے۔

اللہ تعالی کے اس اسم المبدی کے فوائدو برکات میں سے ہے کہ جس کی بیوی کو حمل ہو اور اسقاط حمل کا خوف ہو یا ولادت میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہو تو خاوند کو چاہئے کہ وہ اس اسم پاک المبدی کو نوے بار پڑھے اور شہادت کی انگلی اسے پیٹ کے چاروں طرف پھیرے انشاء اللہ حمل ساقط ہونے کا خوف نہیں رہے گا اور ولادت سے باطمینان اور بلا کسی ضرر جلد فراغت حاصل ہو گی اور جو شخص اس اسم پاک پر مداومت کرے یعنی اس کو پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے تو اس کی زبان سے وہی بات نکلے گی جو صحیح اور باعث ثواب ہو گی۔ اگر کسی شخص کا کوئی عزیز وغیرہ غائب ہو گیا ہو اور اس کی آمد یا خیریت کی طلب کا خواہش مند ہو تو اس وقت جب کہ اس کے گھر والے سو گئے ہوں اس اسم پاک کو گھر کے چاروں کونوں میں ستر بار پڑھے اور اس کے بعد کہے یا معید فلاں شخص کو میرے پاس واپس بلا دے یا اس کی خیریت معلوم کرا دے، سات دن بھی گزرنے نہ پائیں گے کہ یا تو غائب آ جائے گا یا اس کی خیریت معلوم ہو جائے گی۔ * جوشخص سحر کے وقت حاملہ عورت کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر (۹۹) مرتبہ یَامُبْدِئُ پڑھے گا، انشاء اللہ حمل ضائع ہونے سے محفوظ رہے گا اور جب تک بچہ کامل نہ ہوگا وضع حمل نہ ہوگا
* اگر کوئی اس اسم کا وردر کھے تواس کی زبان سے صحیح اور درست بات جاری ہوگی ۔
* جوکوئی اس اسم کو بہت پڑھے افعال نیک اس سے سرزدہوں اور گنا ہوں سے بچارہے ۔
* جس شخص کامال چوری ہوگیا ہو وہ اس اسم کو پڑھے انشاء اللہ مال مل جائے گا ۔
* جوکوئی اسے لکھ کراپنے پاس رکھے گاحق تعالی شانہ اسے تمام بلیات سے نجات دے گا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کائنات میں غورو فکر کرنے اور رب تعالی کی قدرت کاملہ پر یقین رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment