اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام المؤخر کا معنی مفہوم فوائد وظائف

المؤخر

المؤخر اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے المؤخر کے معنی ہیں پیچھے ہٹانے والا، جو اپنے اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرتے ہوئے پیچھے ہٹانے والا ہے۔رسول اللہ ﷺ ان الفاظ کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے۔کہ: اے اللہ میری مغفرت فرما۔ میں جو گناہ کر چکا ہوں اور جو گناہ ابھی نہیں کئے اور میں نے جو گناہ چھپ کر کئے اور میں نے جو گناہ اعلانیہ کئے اور میں نے ( اپنی جان کے اوپر) جو اسراف و زیادتی کی ہے۔

اور جس کا مجھ سے زیادہ تجھے علم ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ اسے مسلم نے روایت کیا۔اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں میں سے جس کو آگے بڑھانا چاہے اور ان کے درجات بلند کرنا چاہے وہی کر سکتا ہے جیسے انبیاء و شہداء و صدیقین وغیرہ اور اپنے دشمنوں کو جب چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔ یعنی ان کو شکست دیتا ہے۔ اس کے دشمن چاہے کافر ہوں یا فاسق و فاجر ہوں۔الموخر کا ایک معنی ہے دشمنوں کو اپنے لطف و کرم سے دور رکھ کر پیچھے ڈالنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ایسی اشیاء کے حصول کے لئے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ہیں،، مخلوق میں سے کسی فرد کو پکارنا شرک ہے اور پھر مردہ کو جو نہ سن سکتا ہے اور نہ جواب دے سکتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو جو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر تو نے یہ کام کیا تو ظالموں میں شمار ہو گا۔ “ [ 10-يونس:106]* اس آ یت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ہے کہ کوئی غیر اللہ کو اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے پکارے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ اللہ کے سوا نہ کوئی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کسی مصیبت میں مبتلا کر دے تو اس مصیبت کو دور کر نے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ “ [ 10-يونس:108]صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا :’’ جان لو ! اگر ساری امت تجھے نفع پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو نفع نہیں پہنچا سکتی مگر وہ جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ “ [ترمذي، كتاب صفةالقيامة : باب منه 2016]

قرآن کریم میں ایک مقام پر ہے :’’ بے شک جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، وہ تمھارے لیے رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ پس تم اللہ تعالیٰٰ کے ہاں سے رزق مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ [29-العنكبوت:17]ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اور ایسے لوگوں سے زیادہ کون گمراہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک ان کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کی آواز سے بھی بے خبر ہوں اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادات سے انکار کر دیں گے۔ “ [46-الأحقاف:5، 6]اس آ یت سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے پکارنا ان کی عبادت ہے حالانکہ انسان صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد ہے’’ مجبور و بے بس شخص کی دعا کو قبول کرنے والا اور مشکل کو حل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ [27-النمل:62]یہ چند دلائل ہیں ورنہ اس کے بیان کے لیے قرآن و سنت میں کئی نصوص موجود ہیں جن کو سن کر کوئی بھی ذی شعور اور صاحب عقل اللہ کے سوا کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا نہیں سمجھ سکتا۔ یہ تو ایسی کھلی حقیقت ہے کہ مشرکین مکہ بھی اس کا اعتراف کیے بغیر نہ وہ سکے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراف کا ذکر کیا ہے۔ اگر کسی بزرگ کی قبر پر جا کر حاجت روائی کے لیے پکارنا درست ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا بزرگ دنیا میں کون ہو سکتا ہے ؟ لیکن حالت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے بھی امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کر انھیں کسی حاجت کے لیے کبھی نہیں پکارا۔

اگر یہ کام جائز ہوتا تو صحابہ خصوصا خلفائے راشدین کو اپنے دور میں بڑی بڑی ضرورتوں اور مصائب کا سامنا تھا، وہ ضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آتے۔ بالکل اسی طرح دعا کا مسئلہ ہے۔ ان جلیل القدر صحابہ میں سے کسی نے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آ کر یہ نہیں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے دعا کر دیں۔ ہاں ! زندگی میں جو واقعتاً بزرگ ہو اس سے دعا کروانا درست ہے اور اس میں بھی بزرگ نہیں مانگا جاتا بلکہ اس سے عرض کی جاتی ہے کہ وہ اللہ سے ہماری بہتری کے لیے دعا کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم الموخر سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ نیکیوں میں پیش قدمی اختیار کر کے اپنے آپ کو آگے کرے یعنی دوسروں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو افضل بنائے اور ان لوگوں کو آگے کرے جو اللہ رب العزت کی بارگاہ عزت کے مقربین میں سے ہیں یعنی ان کو عزیز رکھے اور نفس اور شیاطین کو اور ان لوگوں کو جو بارگاہ کبریائی کے ٹھکرائے ہوئے ہیں پس پشت ڈالے، نیز اپنے تمام امور و اعمال کو ضابطہ و قاعدہ کے مطابق انجام دے۔ مثلاً پہلے وہ کام اور عمل کرے جو سب سے زیادہ ضروری ہو اور جسے خدا نے سب سے مقدم کیا ہو اور سب سے بعد میں اس عمل کو اختیار کرے جو سب سے کم ضروری ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم الموخر کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ* جوشخص کثرت سے یَامُؤَخِّرُ کاورد رکھے گا اسے انشاء اللہ سچی تو بہ نصیب ہو گی۔* جوشخص روزانہ سومرتبہ اس اسم مبارک کوپابندی سے پڑھا کرے اس کو انشاء اللہ حق تعالیٰ کا ایسا قرب نصیب ہوگا کہ اس کے بغیر چین نہ آئے گا ۔

علماء کرام فرماتے ہیں کہ ( اَلْمُقَدِّمُ ) اور ( اَلْمُؤَخِّرُ) کوایک ساتھ ملا کر پڑھتا رہے جب کوئی مشکل پیش آئے اکیس بار اس اسم کو پڑھے انشاء اللہ مشکل آسان ہوجائے گی ۔* جواڑتالیس (۴۸)دن تک روزانہ تین ہزار بار یہ اسم مبارک پڑھ لیا کرے انشاء اللہ وہ جو چاہے گا پائے گا ۔* جواکتالیس بار یہ اسم مبارک پڑھے گا اس کانفس انشاء اللہ مطیع ہوگا۔* جوہر روز سوبار یہ اسم مبارک پڑھتارہے گا انشاء اللہ اس کے سب کا م انجام کو پہنچیں گے۔* حضور اکرم ﷺ سے یہ دعا منقول ہے۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَآ اَخَّرْتُ وَمَآ اَسْرَرْتُ وَمَآ اَعْلَنْتُ۔اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَ خِّرُوَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔جو شخص یہ اسم پاک الموخر سو مرتبہ پڑھے اس کے دل کو غیراللہ کے ساتھ قرار نہیں ملے گا۔ اور جو شخص روزانہ اس اسم پاک کو سو بار پڑھ لیا کرے تو اس کے تمام کام انجام پذیر ہوں اور جو شخص اس کو اکتالیس مرتبہ پڑھے اس کا نفس مطیع و فرمانبردار ہو۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس اسم المؤخر کے صدقے جہنم سے دور ہٹائےاور ہمین اپنے دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment