اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام العلی کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

العلی

العلی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔العلی کے معنی’’بلند ، سب سے بلند‘‘:بہت ہی زیادہ بلندمرتبہ والا، جس کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں اور نہ ہی کسی کو اس کی بلندی کا علم ہے۔ اسے ہر لحاظ سے مطلق بلندی حاصل ہے۔ ذاتی طور پر بھی علو اور صفات اور قدرومنزلت کا علو، غلبہ واقتدار کا علو۔ وہی عرش پر مستوی ہے اور اقتدار کا مالک ہے۔ وہ عظمت، کبریائی، جلال اور کمال کی تمام ترصفات سے بہرہ ور ہے جن کے آگے کمال کا کوئی درجہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:پس حکم اللہ ہی کے لئے ہے جو بلند شان والا اور کبریائی والا ہے

اور اللہ رب العزت نے فرمایا: (اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو۔اور اللہ سبحانہ نے فرمایا:وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) بلند شان والا ہے-وہ (اللہ ) مخفی اور موجود اشیاء کا عالم ہے۔ وہ بہت بڑا اور عالی مرتبت ہے۔ ان اسماء کا مفہوم یہ ہے علو اللہ تعالیٰ کا وصف ہے یعنی وہ اوپر ہوا اور بلند ہو گیا۔ کیونکہ وہ سب مخلوقات سے اوپر عرش پر مستوی ہے۔ وہ اپنی صفات اور اپنی تقدیر کے لحاظ سے بھی عالیشان ہے تبھی اس کا کوئی مماثل نہیں وہ اپنے قہر کے اعتبار سے بھی عالی ہے۔ کہ جو اپنی عزت اور علو کے ذریعے تمام مخلوقات پر غالب ہے۔اللہ عزوجل نے ہمیں اپنے متعلق بتاتے ہوئےفرمایا ہے 🙁 بےشک تمہارا رب اللہ تعالی ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : رحمان عرش پر مستوی ہے ان آیات کے علاوہ وہ آیات جن میں اللہ تعالی کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہے ۔اور اللہ تعالی کا عرش پر مستوی ہونا عرش پر اللہ تعالی کا علو ( بلندی) ذاتی اور علو خاص ہے جس طرح کہ اللہ تعالی کی عظمت وجلال کے شایان شان اور لائق ہے جس کا علم اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو نہیں ۔سنت نبویہ صحیحہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی رات کے تیسرے پہر آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 🙁 ہمارا رب تبارک وتعالی ہر رات کے تیسرے پہر آسمان دنیا پر نزول فرماتا اور یہ کہتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے میں اس کی پکار کو سنوں کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اسے بخش دوں اہل سنت کے ہاں نزول کا معنی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی بنفسہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا اور یہ نزول حقیقی ہے جس طرح اللہ تعالی کے شایان شان لائق ہے جس کی کیفیت اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ سبحانہ وتعالی کے نزول سے عرش کا خالی ہونا لازم آتا ہے کہ نہیں ؟

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے اس طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئےفرمایا : ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ سوال غلو پر مبنی ہے اور کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے اس لئے کہ ہم آپ سے پوچھیں گے کہ کیا آپ اللہ سبحانہ وتعالی کی صفات کو سمجھنے میں صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم سے زیادہ شوق رکھتے اور اس پر حریص ہیں ؟ اگر تو اس نے جواب میں ہاں کہا تو یہ جھوٹا اور کذاب ہے ۔اور اگر جواب نفی میں ہے تو ہم اسے کہیں گے جو انہیں کافی تھا وہ آپ کو بھی کافی ہے تو صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں پوچھا کہ اے اللہ تعالی کے رسول جب اللہ تعالی نزول فرماتا ہے تو کیا عرش خالی ہو جاتا ہے ؟آپ کو اس سوال سے کیا غرض ؟ بس آپ یہ کہیں کہ اللہ تعالی نزول فرماتا ہے اور خاموشی اختیار کریں، عرش اللہ تعالی سے خالی ہوتا ہے کہ نہیں یہ آپ کے ذمہ نہیں آپ تو اس کے مکلف ہیں کہ آپ خبر کی تصدیق کریں اور خاص کر وہ خبر جو کہ اللہ تعالی کی ذات اور صفات کے متعلق ہو ، کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو کہ ما فوق العقل ہے عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی۔شیخ سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:”اللہ تعالی کے نام: ” العلي الأعلى “سے مراد وہ ذات ہے جو مطلق طور پر ہر اعتبار سے اعلی ہے، ذاتی طور پر بھی وہ بلند و بالا ہے، اس کی قدر و منزلت سب سے عالیشان ہے، اس کی صفات بھی سب سے اعلی اور تسلط و گرفت کے اعتبار سے بھی اسے بے انتہا غلبہ اور بلندی حاصل ہے۔چنانچہ [ذاتی طور پر بلندی یہ ہےکہ]وہ عرش پر مستوی ہے، اور ساری بادشاہی بھی اسی کی ہے، عظمت و کبریائی ، جلال و جمال اور کمال درجے کی صفات سے وہ متصف ہے، اس کی ذات ان تمام صفات کی انتہا ہے” انتہی تفسیر سعدی (ص 946) اس نام کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلیے عملی اقدام اس طرح ہو گا کہ سب سے پہلے آپ اللہ تعالی کے اسم مبارک “الاعلی” میں موجود بلندگی کا معنی سمجھیں، چنانچہ ہم یہ ایمان رکھیں کہ اللہ تعالی اپنے عرش پر اپنی ذات کے ساتھ بلند ہے

وہ تسلط اور غلبے کے اعتبار سے بھی سب پر حاوی ہے، بندوں پر اسی کا کنٹرول اور غلبہ ہے، وہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے، اور جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے، تمام کی تمام مخلوقات اس کے سامنے ہیچ ہیں ان میں سے کوئی بھی مخلوق اس کے تسلط اور کنٹرول سے باہر نہیں ہے۔اللہ تعالی شان و شوکت کے اعتبار سے بھی بلند ہے، چنانچہ آسمان و زمین میں اسی کیلیے اعلی اوصاف ہیں وہی غالب اور حکمت والا ہے اور عظیم الشان ہے، ان صفات میں اس کی مخلوقات میں سے کوئی اس کے قریب بھی نہیں پھڑک سکتا ہے، اور اس میں کسی قسم کا کوئی عیب نہیں ہے۔پھر اس نام کے تقاضوں کے مطابق اللہ تعالی کی بندگی بھی کرے، چنانچہ اپنے پروردگار کیلیے سر نگوں رہے، ہمیشہ اس کے سامنے اپنی حاجت مندی اور فقیری کا اظہار کرے، پروردگار ہی کو ہر قسم کی تعظیم اور عظمت کا حقدار جانے،اور ذہن نشین رکھے کہ زمین یا آسمان میں کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں ہو سکتی ہے، اس لیے وہ اپنے پروردگار کی عبادت اور بندگی کیلیے فوری عمل کرتا رہے، شب و روز کے ہر لمحے میں اس سے ڈرے، اپنے قول و فعل میں اسی کو اپنا نگران و نگہبان مانے، اور اللہ تعالی کےاوامر و نواہی کی تعظیم بجا لاتار ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم العلی سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خدا کی ظاہری اور باطنی طاعات اور عبادات کے ذریعہ اپنے نفس کو ذلیل کرے اور اپنی تمام تر توانائی علم و عمل کے حصول میں صرف کرے یہاں تک کہ وہ انتہائی کمالات اور مراتب عالی کو پہنچے۔

حدیث شریف میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ اعلی امور کو پسند کرتا (کیونکہ اس کی وجہ سے بندہ اعلیٰ مراتب اور بلند درجات کو پہنچتا ہے) اور ادنیٰ امور کو ناپسند کرتا ہے اسی لئے حضرت علی کرام اللہ وجہ کا یہ مقولہ ہے کہ علو ہمتی ایمان ہی سے پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالی اسم مبارک العلی کے فوائدو برکات میں سے ہے کہ جو شخص اس اسم پاک پر مداومت کرے یا اس کو لکھ پر اپنے پاس رکھے تو اگر وہ کمتر اور بے قدر ہو تو بزرگ وبلند مرتبہ ہو جائے گا فقر و افلاس میں مبتلا ہو تو تونگری حاصل ہو گی اگر سفر کی صعوبتوں میں مبتلا ہو تو وطن مالوف لوٹنا نصیب ہو گا۔* جوشخص اس اسم مبارک کو ہمیشہ پڑھتارہے اور لکھ کر اپنے پاس رکھے اسے رتبہ کی بلندی، خوشحالی اور مقصدمیں کامرانی نصیب ہوگی ۔ *اگر اس اسم مبارک کولکھ کر بچے کے باندھ دیا جائے تو جلد جوان ہو۔* اگر مسافر اپنے پاس رکھے تو جلد اپنے عزیزوں سے ملے ۔* اگر محتاج اپنے پاس رکھے تو غنی ہوجائے۔* جو اس اسم کو ورم یعنی سوجن پرتین بار پڑھ کر پھونکے گاانشاء اللہ صحت پائے گا ۔* اگر فقیر اسے ایک سود س بار پڑھے توغنی ہوجائے اور دنیا میں عزت پائے۔ *یہ اسم مشائخ بزرگوں، طلبہ اور سالکین کے لئے ایک روحانی خزانہ ہے۔ اگر اس کے ساتھ اللہ تعالی کا نام بھی ملا لیا جا ئے تو یہ بڑے اذکار میں شمار ہوتا ہے ۔ بعض مشائخ کے نزیک یاعلی یاعظیم یاحلیم یا علیم کا مجموعہ اسم اعظم ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی قدرت کاملہ اور ذات کے بلند تر ہونے کے صدقے اپنا قرب نصیب فرمائے ۔ آمین .السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment