اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام العدل کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

العدل

العدل کے معنی ہیں انصاف کرنے والا، اس کی بارگاہ میں ظلم اور جو روستم عقلا محال ہے۔افراط و تفریط سے بچتے ہوئے درمیانی راستہ اختیار کرنا، عدل کہلاتا ہے، اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ: عدل مصدر ہے جس کے معنی عدالت کے ہیں چنانچہ عدل در حقیقت اعتدال واستقامت ہے یعنی حق کی طرف مائل ہونے کو عدل کہتے ہیں۔ کائنات میں ہر شے عدل پر قائم ہے جو چیز جس جگہ کے لیے پیدا کی گئی اسی کے لیے ہے اس کو بدلنا نظام کو درہم برہم کرنا ہے۔اُردو زبان میں ‘عدل’ کو بطورِ اسم ذات بھی استعمال کیا جاتا ہے اور بطورِ اسم صفت بھی، اس صورت میں اس کے معنی ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے:”اسم ذات کے طور پر عدل کے معنی ‘انصاف’ یا ‘دادرسی’ کے ہیں اور اسم صفت کے طور پر اس کے معنی مستقیم، منصفانہ اور متوازن کے آتے ہیں ۔جب کہ عام اصطلاح اور قضا کے نقطئہ نظر سے عدل کا مفہوم یہ ہے.روزمرہ معاملات میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے جج یا قاضی عدل وانصاف کے ساتھ ان کے حقوقِ عامہ کا یوں تحفظ کرے کہ کسی ایک کی بھی حق تلفی نہ ہو۔”عدل کو عربی زبان میں ‘قضاء’کہتے ہیں ۔ شرعی اصطلاح میں قضا کے معنی یہ ہیں کہ حکومت کے معینہ ادارے کی طرف سے قرآن وسنت اور شرعی احکام کی روشنی میں عامة الناس کے باہمی تنازعات کا تصفیہ کیا جائے اور مقدمات فیصل کیے جائیں ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سیاست ِ شرعیہ کی عمارت دوستونوں پر قائم ہے۔ ایک ہے مناصب اور عہدے اہل تر لوگوں کو دینا اور دوسرا ہے عدل وانصاف کے ساتھ فیصلے کرنا۔ انصاف ہی پر دنیا ودین کی فلاح کا دارومدار ہے اور بغیر عدل کے فلاحِ دارین کا حصول ناممکن ہے۔امام فخر الدین رازی رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں :ان تعریفات کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ عدل کا مفہوم مختلف مناسبتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ عدل کا ایک مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنے ربّ کے درمیان عدل کرے، یعنی اللہ کے حق کو اپنی خواہش پر مقدم رکھے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنی ذات کے ساتھ عدل کرے، یعنی اپنے نفس کو ایسی تمام باتوں اور چیزوں سے بچائے رکھے جن سے جسمانی و روحانی ہلاکت واذیت کا خطرہ ہو اور تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنی ذات اور مخلوق کے درمیان عدل کرے یعنی تمام مخلوقات سے ہمدردی وخیرخواہی کا برتاؤ کرے۔ ہمارے ہاں عدل کو عدالت کے ساتھ منسلک کردیا گیاہے۔ عدل قرآن کریم کی اصطلاح ہے ،کہ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی اللہ تعالیٰ عدل کرنے والے ہیں۔ اور جناب نبی کریمؐ کے اسماء میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی رسول اللہؐ بھی عدل کے پیکر تھے، عدل کرنے والے تھے۔ ہر چیز کا حق ادا کرنے کو عدل کہتے ہیں۔ عدل کے مقابلے میں ظلم کا لفظ آتا ہے۔ ظلم کہتے ہیں کسی کے ساتھ ناحق سلوک کرنے کو، کسی کے حق کو ضبط کرنا یا کسی کا حق دوسرے کو دے دینا۔ لغوی اصطلاح میں ظلم کا معنٰی ہے کسی چیز کو اس کے اصل مقام کے بجائے کسی دوسری جگہ پر رکھنا۔ اسی طرح ہر چیز کو اس کی اصل جگہ پر رکھنے کو عدل کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عادل ہیں، جناب نبی کریمؐ عادل ہیں اور ہمیں بھی عدل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ تلقین کی گئی ہے کہ ہم عدل کریں اور ظلم نہ کریں۔ جس طرح عدل کا دائرہ بہت وسیع ہے اسی طرح ظلم کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے، حقوق کا دائرہ جتنا وسیع ہے عدل و انصاف کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ صفاتِ حمیدہ میں جتنی بھی عمدہ صفات ہیں جناب رسول اللہؐ پوری دنیا میں ان صفات کے سب سے بڑے مظہر ہیں، اسی طرح عدل میں بھی جناب نبی کریمؐ مخلوقات میں سب سے بڑے عادل ہیں۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ غزوۂ حنین کے موقع پر غنیمت کا بہت زیادہ مال مسلمانوں کے ہاتھ آیا، یہ مال بہت قسموں میں تھا جس میں بکریاں، اونٹ، سونا، چاندی اور دیگر بہت سا سامان تھا۔ رسول اللہؐ نے یہ مال مجاہدین میں تقسیم کیا لیکن جو نئے نئے مسلمان ہونے والے عرب قبیلوں کے سردار تھے ان کو زیادہ دیا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ ان لوگوں کو اپنے ساتھ مانوس کیا جائے کہ یہ اپنے قبیلوں کے سردار تھے اور اسلام کی ظاہری شان و شوکت دیکھ کر مسلمان ہوئے تھے۔ اس پر ایک آدمی ذوالخویصرہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ منافقین میں سے تھا اس نے اعتراض کر دیا۔ اس نے کہا کہ اس تقسیم میں تو عدل کا لحاظ نہیں رکھا گیا، حالانکہ حضورؐ نے امت کی ضرورت کے پیش نظر ایک مصلحت کے تحت یہ تقسیم فرمائی تھی۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ کسی نے ذوالخویصرہ کی یہ بات رسول اللہؐ کو بتا دی کہ یا رسول اللہؐ فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ اس پر حضورؐ نے ایک جملہ فرمایا ،‘‘ کہ اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا؟ چنانچہ یہی ہمارا عقیدہ ہے کہ جناب رسول اللہؐ مخلوقات میں سب سے زیادہ عدل کرنے والے ہیں۔ حضورؐ نے عدل اور ظلم کا تقابل بہت وسیع مفہوم میں بیان فرمایا ہے۔حق تعالیٰ شانہ ‘ خود عادل ہے، اس کا نازل کر دہ قانون (شریعتِ محمدیہ) سراپا عدل ہے، اس لئے بے شمار آیتوں میں بندوں کو عدل وانصاف کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں ایسی باریکیوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ عقل حیران ہے۔صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ان سات اشخاص کا ذکر آیا ہے جو قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے، ان میں سر فہر ست امام عادل کا نام آتا ہے’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے (عرش) کے سائے میں جگہ دے گا جس دن کہ اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عادل بادشاہ۔ وہ جوان جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ہو۔ وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اَٹکا ہوا رہتا ہے۔ ایسے دو آدمی جن کی محبت محض اللہ کی خاطر تھی، اسی کے لئے جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے۔ وہ آدمی جس کو کسی صاحبِ حسب و جمال عورت نے دعوت دی تو اس نے کہا: مجھے خدا کا خوف ہے۔ وہ آدمی جس نے اس قدر چھپا کر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی۔ اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو آنکھیں اُبل پڑیں۔‘‘ عدل درحقیقت اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی عظیم الشان صفت ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے:

’’ اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، او ر (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے، وہ انصاف پر قائم ہے، اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔‘اللہ تعالی کے اس اسم العدل سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ یہ جاننے کے بعد کہ اللہ انصاف کرنے والا ہے بندہ کو چاہئے کہ اس کے احکام اور اس کے فیصلوں سے اپنے اندر گھبراہٹ اور تنگی پیدا نہ کرے بلکہ یہ یقین رکھے کہ اس نے میرے بارے میں جو فیصلہ فرمایا ہے وہ عین انصاف ہے لہٰذا اس پر توکل اور اعتماد کے ذریعہ راحت و اطمینان پیدا کرنے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ اسے دے اس کو اس جگہ خرچ کرنے سے دریغ نہ کرے جہاں خرچ کرنا از راہ شرع و عقل مناسب ہے اور اس کے عدل سے ڈرے اس کے فضل و کرم کا امیدوار رہے اور تمام امور میں افراط و تفریط سے پرہیز کرتے ہوئے درمیانی راہ اختیار کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ یہ جو شخص اس اسم پاک کو شب جمعہ میں روٹی کے بیس لقموں پر لکھ کر کھائے حق تعالیٰ تمام مخلوق کو اس کے لئے مسخر کر دے گا۔* جوشخص جمعہ کے دن میں یا جمعہ کی رات میں روٹی کے بیس ٹکڑوں پر اَلْعَدْلُ لکھ کر کھائے گا اللہ تعالی مخلوق کواسکے لئے مسخر فرمادیں گے ۔* جوکوئی اس اسم کو ہرنماز کے بعدایک سو چار (۱۰۴)بار پڑھے غیب سے روزی پائے اور اسے نیک عمل کی تو فیق نصیب ہو۔ *جو کوئی مغرب کی نماز کے بعد ایک ہزار باراس اسم مبارک کو پڑھے گا آسمانی بلا ؤں سے نجات پائے گا ۔ *جو پانچوں وقت ہر نماز کے بعد اسی (۸۰) بار اس اسم کو پڑھ لیا کر ے گا وہ کسی کا محتاج نہ ہو گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں عدل کی صفت اپنانے اور ظلم و ستم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔اور اگر آپ ہمارے چینل کو سبسکرائیب کر چکے ہیں تو اپنی رائے سے ہمیں کمنٹس کے ذریعے ضرور آگاہ کیجئے گا۔ کمنٹس میں آپ ہم تک اپنے سوالات بھی پہنچا سکتے ہیں۔ ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment