اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الضار کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الضار اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الضارکے معنی ہیں ضرر پہنچانے والا۔وہ جو ایسی مخلوق پیدا کرتا ہے جو دوسروں کے لیے باعث مایوسی ہوتی ہے۔ اللہ تعالی ہی نفع یا نقصان دینے والا ہے۔ یہ اس کی کامل قدرت پر دلالت کرتے ہیں اور حکمت پر بھی۔ سب اچھائیاں اور برائیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ تمام بھلائیوں کا مسبب الاسباب اور برائیوں کو دفع کرنے والا ہے۔ (الزجاج)

کسی سے بھی نفع یا نقصان ہو، سب اس کی مشیت کے تحت ہوتا ہے۔جس کو چاہے ضرر پہنچانے والا ۔قشیری کہتے ہیں کہ ان اسماء میں اس طرف اشارہ ہے کہ ضرر و نفع اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے لہٰذا جو شخص اس کے حکم یعنی اس کی قضا و قدر کا تابعدار ہو وہ راحت وسکون کی زندگی پائے گا اور جو شخص اس کا تابعدار نہ ہو وہ آفت و مصیبت میں پڑے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ جس شخص نے میری قضا و قدر کو تسلیم کیا میری بلا پر صبر کیا ور میری نعمتوں پر شکر کیا وہ میرا سچا بندہ ہے اور جس شخص نے میری قضا و قدر کو تسلیم نہ کیا۔ میری بلاء پر صبر نہ کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا تو وہ میرے علاوہ کوئی اور رب ڈھونڈ لے۔ حضرت شیخ نے شرح اسماء حسنی میں ان دونوں اسماء الضار اور النافع کی وضاحت کے سلسلے میں یہ فرمایا ہے کہ خیر و شر اور نفع و ضرر کا صرف اللہ تعالیٰ مالک ہے اور گرمی سردی خشکی اور تری میں درد و تکلیف، رنج و پریشانی اور شفا کا پیدا کرنے والا وہی ہے۔ یہ قطعاً گمان نہ کیا جائے کہ دوا بذات خود فائدہ دیتی ہے زہر بذات خود ہلاک کرتا ہے کھانا بذات خود سیر کرتا ہے اور پانی بذات خود سیراب کرتا ہے بلکہ یہ تمام اسباب عادی ہیں بایں معنی ٰ کہ یہ عادت قائم کہ حق تعالیٰ نے ان کو اسباب بنا دیا ہے کہ ان چیزیں ان کے واسطہ سے پیدا کرتا ہے اگر وہ چاہے تو ان چیزوں کو ان واسطوں اور اسباب کے بغیر بھی پیدا کر سکتا ہے اور اگر چاہے تو ان کے باوجود بھی ان چیزوں کو پیدا نہ ہونے دے۔

اسی طرح عالم علویات و سفلیات کی تمام چیزیں اور تمام اجزا محض واسطے اور اس باب کے درجہ میں ہوتی ہیں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے زیر اثر ہیں اور ان تمام کی حیثیت بہ نسبت قدرت ازلیہ وہی ہے جو لکھنے والے کے ہاتھ میں قلم کی ہوتی ہے لہٰذا بندہ کو چاہئے کہ تمام نقصانات اور تمام فائدہ کو حق تعالیٰ کے فیصلے جانے، عالم اسباب کو اس قدرت کے زیر اثر سمجھے اور حکم و قضا الٰہی کا تابعدار ہو کر اپنے تمام امور اسی کے سپرد کرے تاکہ وہ ایک ایسی زندگی کا حامل بن جائے جو مخلوق سے محفوظ اور مطمئن ہو۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دانتوں کے درد سے پریشان ہو کر بارگاہ حق میں فریاد کی تو وہاں سے حکم ہوا کہ فلاں گھاس دانتوں پر ملو تاکہ آرام ہو حضرت موسیٰ نے وہ گھاس دانتوں پر ملی تو آرام ہو گیا۔ ایک مدت کے بعد پھر ایک دانت میں درد ہوا تو انہوں نے وہی گھاس استعمال کی، اس مرتبہ درد کم تو کیا ہوتا اور بڑھ گیا بارگاہ حق میں عرض رساں ہوئے۔ الٰہ العالمین! یہ تو وہی گھاس ہے جس کو استعمال کرنے کا آپ نے حکم فرمایا تھا مگر اب اس کے استعمال سے درد اور بڑھ گیا ہے! بارگاہ حق سے عتاب کے ساتھ یہ ارشاد ہوا کہ اس مرتبہ تم نے ہماری طرف توجہ کی تھی تو ہم نے شفا دی اور اس مرتبہ تم نے گھاس کی طرف توجہ کی اس لئے ہم نے درد میں اضافہ کر دیا تاکہ تم یہ جان لو کہ شفا دیتے تو ہم ہی ہیں نہ کہ گھاس۔ اللہ پاک اپنی صفت الضار کے باوجود اپنے بندوں کے گمان کے ساتھ ہے ۔ اس لیے اللہ پاک سے ہمیشہ اچھا گمان رکھو۔ عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں۔یعنی اللہ پاک فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے گا میں اسی طرح اس کے ساتھ پیش آؤں گا۔

اگر یہ گمان رکھے گا کہ میں اس کے قصور معاف کر دوں گا تو ایسا ہی ہو گا ، اگر یہ گمان رکھے گا کہ میں اس کو عذاب کروں گا تو ایسا ہی ہو گا ۔ حدیث سے یہ نکلا کہ بندے کو ہمیشہ اللہ پاک کے ساتھ نیک گمان رکھنا چاہیے ، اگر گناہ بہت زیادہ ہیں تو بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک غفور اور رحیم ہے ۔ اور اللہ پاک کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ: (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف سے لوگوں سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالٰی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی، بخشش بڑی رحمت والا ہے۔: اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اسکے فرمانبردار ہو جاؤ (ورنہ) پھر تم کو مدد نہیں ملے گی۔ اللہ تعالی کے اس اسم الضار سےبندہ کا نصیب یہ ہے کہ امر الٰہی اور حکم شریعت کے ذریعہ دشمنان دین کو ضرر پہنچائے اور انہیں متنبہ کرے اور بندگان خدا کو نفع پہنچائے اور ان کی مدد کرتا رہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الضار کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص شب جمعہ میں سو (۱۰۰) مرتبہ یَاضَآرُّپڑھا کرے وہ انشاء اللہ تمام ظاہری اور باطنی آفتوں سے محفوظ رہے گا اور قربِ خدا وندی اسے حاصل ہوگا۔* جو کوئی اس اسم پاک کوپڑھے اور ظالم کے نام سے بددعاء کرے انشاء اللہ اس کو ضرر پہنچے گا اور پڑھنے والا اس کے ظلم سے محفوظ رہے گا۔* جس کو ایک حال ومقام میسرنہ ہوسوبارشب جمعہ میں اس اسم کو پڑھنے کا معمول بنائے اللہ تعالی اس کو مقام میں ثابت رکھے گااور اہل قرب کے مرتبہ تک پہنچا دے گا۔اس مرتبہ کے آگے ظاہر ی کمال کی کچھ اصل نہیں ۔ *جس کی عزت کمہوجائے ہرشب جمعہ اور ایام بیض میں سو بار نماز عشاء کے بعد یہ اسمِ مبارک پڑھا کرے انشاء اللہ محترم رہے گا۔ *جوہرشب جمعہ سوبار ( اَلضَّآرُّ النَّافِعُ )پڑھا کر ے گاانشاء اللہ اپنی قوم میں معزز اور جسمانی طور پر باعافیت رہے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہر قسم کے شر سے محفوظ فرمائے اور خیر و بھلائی والی حیات نصیب فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment