اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الصبور کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الصبور

الصبور اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الصبور کے معنی ہیں بڑے صبر وتحمل والا۔ بڑا برد بار کہ گنہگاروں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔جو اپنے بندوں کے اعمال پر صبر کرتا ہے اور سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اس اسم کے تحت دو تعریفیں ذکر کی جاتی ہیں وہ ذات ہے جسے گناہوں کی زیادتی سزا میں زیادتی پرنہیں اٹھا سکتی، بعض حضرات نے فرمایا:” اللہ کے سامنے اگر تم ظلم کر کے بھی جاؤ گے تب بھی وہ تمہارا استقبال بخشش و عطاء سے فرمائے گا اور اگر تم گناہ کر کے اس سے اعراض کرو گے تب بھی وہ اپنی مغفرت کے ساتھ تمہاری جانب توجہ فرمائے گا۔

صبور معنی و مفہوم کے اعتبار سے حلیم کے قریب ہے لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ صبور اس بات پر دلیل ہے کہ اگرچہ فی الوقت بردباری کی لیکن آخرت میں پکڑے گا اور عذاب دے گا جب کہ حلیم بردباری کے مفہوم میں مطلق ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ صبور کے معنی بندہ کو اس کی مصیبت و بلاء میں صبر دینے والا لہٰذا مبارک امانت کے تحمل پر صبر دینے والا، شہوات و خواہش کی مخالفت پر صبر دینے والا اور اداء عبادت میں مشقت پر صبر دینے والا وہی حق سبحانہ و تعالیٰ ہے اس لئے بندہ کو چاہئے کہ وہ ہر مصیبت و رنج و آفت و بلاء میں خدا سے صبر چاہے اور اس کی نافرمانی سے دور رہے۔ اس اسم پاک کا بندہ پر یہ تقاضہ ہے کہ وہ کسی کام میں سبکی اور جلدی نہ کرے بلکہ وقار وطمانیت اور تمکین اختیار کرے اور ہر رنج میں اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ طلب کرے۔ مشائخ میں سے ایک شخص کا یہ مقولہ کتنا ہی عارفانہ ہے۔ جام صبر پیو اگر مارے جاؤ گے شہید اور اگر زندہ رہو گے تو سعید کہلاؤ گے۔صبر و تحمل اور برداشت ایسی گراں قدر نعمت ہے کہ جو نہ صرف بے پناہ مسائل سے نجات دلانے کا باعث ہے بلکہ اس کی بدولت ہم ایک اچھی اور مستحسن زندگی بسر کرسکتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ صابر و شاکر بندوں کو جنت کی بشارت بھی دی گئی ہے، مگر افسوس کہ ہم نے اپنی زندگیوں میں شاید صبر کا استعمال ترک کر دیا ہے ، اسی لئے ایک طرف تو ہم بہت زیادہ مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوچکے ہیں تو دوسری جانب ہم فرسٹریشن ، ڈیپریشن یا ٹینشن جیسی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ،حالانکہ صبر کا اور اس کائناتی نظام کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے، کائنات کے ہر عمل میں صبر کی آمیزش ہے مثال کے طور پر چاند ستارے اپنے اپنے مدار میں رہتے ہوئے اپنا سفر طے کرتے ہیں اور رات کو دن اور دن کو رات میں بدلتے ہیں، ایک پودا مکمل درخت راتوں رات نہیں بن جا تا، آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے ۔ پہلے پھول اور پھر پھل آتے ہیں ۔

یہ کائناتی ربط ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں بھی اسے شامل کر کے زندگی میں ربط پیدا کریں ۔کسی بھی معاشرے میں کامیابی کے ذرائع ویسے توبے شمار ہیں لیکن موجودہ دور اور حالا ت کو دیکھتے ہوئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ’’ صبر ‘‘ ہے، جس کے لغوی معنیٰ ہیں روکنا ، برداشت کرنا ، ثابت قدم رہنا یا باندھ دینا، صبرکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیاکہ ’’ اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں) نہیں جو عجز کرنے والے ہیں‘‘ سورۃ البقرہ، آیت45،بلاشبہ صبر اور نماز ہر اللہ والے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ و تعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے۔ جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے ذریعے سے کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے، مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ ا للہ تعالیٰ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔قرآن کریم میں صبر کے حوالہ سے متعدد مقامات پر ارشاد فرمایا گیا اور ’’ اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے ‘‘یہ ارشاد ربانی سورۃ البقرہ، آیت249، سورۃ الانفال ، آیت 66میں بھی موجود ہے جب کہ قرآن پاک میں ایک مقام پر اللہ پاک ارشاد فرما تا ہے کہ ’’ اور اللہ کی اور اس کے رسول ؐ کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہار رکھو یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ‘‘ سورۃ الانفال، آیت46، اسی طرح ایک جگہ حکم آتا ہے کہ ’’ (اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔

اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔‘‘ سورۃ آل عمران ، آیت186، اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ ’’ اے ایمان والو !صبر کرو اور مقابلہ کے وقت مضبوط رہو اور لگے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ‘‘ سورۃ آل عمران، آیت200، ذرا غور فرمائیے کہ اس آیت مبارکہ میں صبر کی تعلیم و تلقین بھی فرمائی گئی ہے، اور صبر مطلوب و محمود کی طرف اشارہ بھی فرما دیا گیا’’ اور صبر کر بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ سورۃ ھود، آیت115، یہاں فرمایا گیا کہ تم صبر کرو بیشک اللہ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا، اس آیت مبارکہ میں اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں وہی صبر مطلوب اور محمود ہے جو صفت احسان کے ساتھ ہو، یعنی ان لوگوں کا صبر جو اس طرح صبر کریں جس طرح صبر کرنے کا حق ہوتا ہے۔دنیا اور آخرت کی حقیقتوں کو واضح کرتے ہوئے قرآن پاک میں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ’’ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے (کہ کبھی ختم نہیں ہو گا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔‘‘ سورۃ النحل، آیت96، یعنی جو لوگ خدا کے عہد پر ثابت قدم رہیں گے اور تمام مشکلات اور صعوبتوں کو صبر کے ساتھ برداشت کریں گے، ان کا اجر ضائع ہونے والا نہیں۔ ایسے بہترین عمل کا بدلہ ضرور ہمارے یہاں سے مل کر رہے گا، بلاشبہ خالق کائنات اپنے صابر و شاکر بندوںکو پسند فرماتاہے قرآن مجید میں صبر کے حوالہ سے فرمایا گیا ہے کہ ’’ ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘ سورۃ القصص، آیت54،ایک اور مقام پر صبر کے حوالہ سے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ کہہ دو کہ اے میرے بندو !جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور خدا کی زمین کشادہ ہے جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار ثواب ملے گا‘‘ سورۃ الزمر، آیت10، یہاں بھلائی سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں اگرچہ مال و دولت بھی اس بھلائی میں شامل ہے، یعنی یہ ممکن ہے کہ اس دنیا میں پرہیز گاروں کو مال و دولت عطا ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں مال و دولت عطا نہ کیا جائے البتہ بھلائی کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں جو انہیں یقیناً حاصل ہوتی ہیں۔ مثلاً ایسے لوگوں کی سب ہی عزت کرتے ہیں خواہ عزت کرنے والے دیندار ہوں یا دنیا دار، ایسے لوگوں کی بات قابل اعتماد سمجھی جاتی ہے

ایسے لوگوں کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور آخرت کی بھلائی جو بہرحال ایسے لوگوں کے لئے یقینی ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم الصبور کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ ) * جوشخص طلوع آفتاب سے پہلے سو مرتبہ اس اسم مبارک کوپڑھے وہ انشاء اللہ اس دن ہرمصیبت سے محفوظ رہے گا اور دشمنوں، حاسدوں کی زبانیں بندر ہیں گی ۔* جو شخص کسی بھی طرح کی مصیبت میں گرفتار ہووہ ایک ہزار بیس (۱۰۲۰)مرتبہ اس اسم مبارک کوپڑھے انشاء اللہ اس سے نجات پائے گا اور اطمینا ن قلب نصیب ہوگا۔* تمام حاجات کے لئے اس کو دو سو اٹھا نوے بار ہرروز پڑھیں۔ *جس کوغم ورنج یا مصیبت پیش آئے تینتیس بار اس اسم کو پڑھے انشاء اللہ پریشانی دور ہوجائے گی۔* جوآدمی رات میں یا دوپہر میں اس اسم کو پڑھنے کی مدامت کرے گا اس کو دشمنوں کی زبان بندی وخوشنودی اور بادشاہ کی رضا مندی حاصل ہوگی *یہ اسم دلوں کے غضب اور رنج وغم دور کرنے کی خاصیت رکھتا ہے ۔ *یہ اسم مبار ک اہل مجاہد ہ کا ورد ہے اس کے ذریعے انہیں ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے ۔

Leave a Comment