اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الشکور کا معنی مفہوم فوائد وظائف

الشکور

الشکور اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الشکور کے معنی ’’قدرداں‘‘:بہت زیادہ اجر دینے والا، جو معمولی عمل کی قدر کرتے ہوئے اسے بھی شرف قبولیت بخشتا ہے۔ جو تھوڑے سے عمل کی قدرکرتے ہوئے اسے بھی شرف قبولیت سے نوازتا ہے اور بے شمار لغزشوں کو معاف کردیتا ہے اور اہل اخلاص کے اعمال کا ثواب بے حساب بڑھادیتا ہے۔ جو شکر کرنے والوں کی قدر کرتا ہے اور ذکر کرنے والوں کو یاد فرماتا ہے۔

بندہ کوئی نیکی کرکے اس کا جس قدر تقرب حاصل کرنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ قرب عطا فرماتا ہے۔ الشکور کے معنی قدر دان، اور تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب دینے والا کے ہیں ۔ منقول ہے کہ کسی شخص کو جو مر چکا تھا خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ حق تعالیٰ نے کیسا معاملہ ؟ اس شخص نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ سے حساب کیا تو میری نیکیوں کا پلڑا اٹھ گیا۔ اور گناہوں کا پلڑا غالب ہو گیا کہ اچانک نیکیوں کے پلڑے میں ایک تھیلی آ کر پڑی جس سے وہ پلڑا جھک گیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ایک مٹھی بھر مٹی ہے جو تو نے اپنے ایک مسلمان بھائی کی قبر میں ڈالی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کا فضل و کرم کتنے معمولی عمل پر بھی بندہ کو بے انتہا ثواب و رحمت سے نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے نیک عمل کرے تو اللہ تعالیٰ جاننے والا اور قدر کرنے والا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے اجر میں اضافہ کر دیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا قدر دان ہے۔شاکر اور شکور وہ ہوتا ہے جو ان لوگوں کے عمل کو ضائع نہیں کرتا جو ا سکی رضائ کے لئے عمل کرتے ہیں بلکہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر ان کو اجر عطا فرماتا ہے۔جو بندہ اس کی اطاعت کرے اور اس کی ثناء بیان کرے اللہ اس کی تعریف کر دیتا ہے۔یہاں مناسب ہو گا کہ لفظ ’’شکر‘‘ کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا جائے. اگرچہ یہ لفظ اردو میں مستعمل ہے ‘لیکن اگر کسی سے پوچھا جائے کہ شکر کسے کہتے ہیں‘ اس کے معنی کیا ہیں‘ تو جواب ملے گا کہ شکر‘ شکر ہوتا ہے. اس کے لیے اکثر لوگ شاید کوئی دوسرا لفظ استعمال نہ کر سکیں. شکر کیا ہے!

اس کی امام راغب اصفہانی ؒ نے بڑی عمدہ تشریح فرمائی ہے. وہ کہتے ہیں کہ ’’شکر کے معنی ہیں کسی احسان و انعام کا ادراک و تصور اور اس کا . اظہارو اعتراف‘‘. اس کے برعکس جو کیفیت ہے وہ ’’کفر‘‘ ہے. آیت میں فرمایا گیا:’’اور جو شکر کرتا ہے اپنے بھلے کے لیے کرتا ہے اور جس نے کفر کیا تو بلاشبہ اللہ بے نیاز ہے اور اپنی ذات میں ستودہ صفات (اوراز خود محمود) ہے.‘‘ عام طور پر کفر کے معنی صرف انکار کے سمجھے جاتے ہیں. جیسے کوئی دین کی کسی بنیادی بات کا انکار کرے‘ توحید کا منکر ہو یا اللہ کی صفاتِ کمال کا منکر ہو‘ اسی طرح رسالت کا منکر ہو یا ختمِ نبوت کا منکر ہو‘ آخرت کا منکر ہو یا جنت اور دوزخ کا منکر ہو تو ایسا شخص کافر ہے. یہ بات اپنی جگہ صد فیصد صحیح ہے‘ لیکن لغوی اعتبار سے اصل میں کفر‘ شکر کی ضد ہے. یہ دونوں الفاظ ’’شکر و کفر‘‘ متضاد معنی کے حامل (antonyms) ہیں. شکریہ ہے کہ انسان کو نعمت کا احساس ہو اور وہ اس کا اظہار کرے.اور کفر کے معنی ہیں چھپا دینا‘ دبا دینا‘ لہذا جب یہ شکر کے مقابلے میں آئے گا تو اس کا مفہوم ہو گا ناشکرا پن یا کفرانِ نعمت.آپ تھوڑے سے غور سے اس نتیجہ تک خود پہنچ جائیں گے کہ شکر فطرت کا لازمی جز ہے‘ بشرطیکہ فطرت صحیح ہو اور مسخ نہ ہوئی ہو. یہ بات اس حد تک درست ہے کہ یہ معاملہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ حیوانات تک میں پایا جاتا ہے. چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ اگر کوئی بھوکا پیاسا جانور ہو‘ آپ نے اس کے سامنے چارہ یا پانی رکھ دیا اور اس نے اپنی بھوک یا پیاس مٹائی تو اب وہ گردن اٹھا کر جب آپ کو دیکھے گا تو آپ کو اُس کی آنکھوں میں جذبۂ تشکر چھلکتا ہوا نظر آئے گا.

یہ فطرت ہے اور اچھی طرح جان لیجیے کہ فطرت کی صحت کی علامت یہ ہے کہ انسان میں شکر کا جذبہ موجود ہو.اگر یہ کیفیت ختم ہو جائے تو ایسا شخص ایک ناشکرا انسان ہو گا کہ اس کے ساتھ بھلائی کی جا رہی ہو اور اسے احساس بھی نہ ہو کہ کسی نے اس کے ساتھ بھلائی کی ہے‘ اسے شعور تک نہ ہو کہ کسی نے اس کے ساتھ احسان اور حسن ِ سلوک کا معاملہ کیا ہے. ایسے شخص کے لیے حکم لگایا جائے گا کہ اس کی فطرت مسخ ہو چکی ہے یا بالفاظِ دیگر اس کی فطرت کے سوتے خشک ہو چکے ہیں.ذرا غور فرمایئے کہ جب انسان عہد ِ طفولیت میں ہوتا ہے تو اس کے ذہن کی دنیا ابھی اتنی محدود ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین ہی کے بارے میں یہ سمجھتا ہے کہ یہی میرے رازق ہیں‘ یہی میرے محافظ ہیں‘ یہی میرے دکھ درد محسوس کرنے والے ہیں‘ مجھے کوئی تکلیف ہو تو اسے یہی رفع کرنے والے ہیں‘ لہذا اس کا غیر شعوری جذبۂ شکر اپنے والدین کی ذات پر مرتکز رہتا ہے‘ لیکن جیسے جیسے فکر انسانی کا ارتقاء ہوتا ہے اور عقل اپنی ارتقائی منزلیں طے کرتی ہے‘ انسان کا شعور پروان چڑھتا ہے اور اس کے ذہن میں وسعت پیدا ہوتی ہے تو انسان کو معلوم ہوتا چلا جاتا ہے کہ میں تو بہت سوں کا زیرِ بارِ احسان ہوں. میرا وطن ہے‘ میری قوم ہے‘ میرے اعزہ و اقرباء ہیں. یہ سب کے سب میرے محسن ہیں‘ میری بھلائی کے لیے سوچتے ہیں. میں درجہ بدرجہ ان سب کا زیرِبارِ احسان ہوں. اسی طرح گویا جذبۂ شکر پھیل رہا ہے. پھر انسان یہاں تک سوچتا ہے کہ یہ زمین جس سے مجھے غذا حاصل ہو رہی ہے ‘ یہ سورج جس سے یہ سارا نظام چل رہا ہے‘ فصلیں پک رہی ہیں‘ بارشیں ہو رہی ہیں جن سے ُمردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے تو میں ان میں سے ہر چیز کا زیر ِ بارِ احسان ہوں.

میری جو ضروریات پوری ہو رہی ہیں تو اس پوری کائنات کی ایک ایک شے میری ضروریاتِ زندگی کی بہم رسانی میں لگی ہوئی ہے. اس طرح یہ شکر پھیل کر کائنات کی وسعتوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے!اللہ تعالی اس اسم الشکور سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے بایں طور کہ تمام نعمتوں کو اسی کی عطا جان کر اپنے ہر عضو کو اسی کام میں مشغول رکھے جس کے لئے حق تعالیٰ نے اسے پیدا کیا لے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے اور ان کا شکر ادا کرتا رہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا جو لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا۔اللہ تعالی کے اس اسم الشکور کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جس شخص کی معیشت تنگ ہو یا اس کی آنکھ کی روشنی اور قلب کے نور میں کمی پیدا ہو گئی ہو تو وہ اس اسم پاک کو اکتالیس بار پانی پر پڑھ کر پیئے اور آنکھوں پر ملے انشاء اللہ تونگری حاصل ہو گی اور شفا پائے گا۔* جوشخص معاشی تنگی یاکسی اور دکھ درد میں مبتلاہو وہ اس اسم مبارک کو (۴۱) مرتبہ روزانہ پڑھے انشاء اللہ اس سے رہائی نصیب ہوگی ۔* اگر تکان یا گرانئی أعضاء ہوتو اس اسم مبارک کولکھ کر بدن پر پھیردے اور پیئے تو آرام ہواور اگر ضعیف البصراپنی آنکھ پر پھیر ے تو نگاہ میں ترقی ہو۔ *جوکوئی یہ اسم اکتالیس بار پانی پردم کرکے پانی اپنی آنکھوں پر چھڑکے اس کی نظر تیز ہوجائے گی ۔* جس کو ضیق النفس ( دمہ ) یا تکان یا گر انئی أعضا ء ہواس کو لکھ کر بدن پر پھیرپڑھے گاانشاء اللہ قیامت کے دن بلند مرتبہ پائے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس الشکور کے صدقے ہمارے تھوڑے اور چھوٹے اور ٹوٹے پھوٹے اعمال کو قبول فرمائے ۔ آمین ۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment