اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام السمیع کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

السمیع

السميع اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہےالسميع کے معنی ہیں بہت زیادہ سننے والا، جوچھوٹی سے چھوٹی مخلوق کی فریاد کو بھی سنتا اورقبول فرماتا ہے۔جو مختلف زبانوں میں ، ہر قسم کی حاجات پر مشتمل تمام آوازیں سنتا ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا (اے محمدﷺ) تو کہہ دے (اے مشرکو! )کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے نقصان کے مالک ہیں نہ تمہارے نفع کے مالک ہیں اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔السمیع وہ ہوتا ہے۔

جس کی سمع تمام مسموعات کا احاطہ کرے پھر عالم علوی ہو یا عالم سفلی ہو ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کی آوازیں خواہ بلند ہوں یا پست ہوں وہ سن لے متعدد آوازوں کے اختلاط سے ا س کی صفت سمع متاثر نہ ہو۔ اور نہ ہی متعدد زبانیں اور بکثرت لہجات اس کو متاثر کریں۔وہ وہی ہے جو پکارنے والوں کی سرگوشیاں سن لیتا ہے اور آہ و زاری کرنے والوں اور فریادیوں کی فریادوں کا جواب دیتا ہے۔ پھر وہ ان کے مصائب اور آزمائشیں دور کرتا ہے۔ لہذا بندے پر لازم ہے کہ وہ بات کرتے وقت اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا یقین کرے۔ اور وہ اپنی زبان سے کوئی گندہ جملہ ادا نہ کرے اور نہ ہی بے حیائی یا فضول قسم کی بات کرے۔ اور نہ ہی کسی کو گالی دے اور نہ ہی بد گوئی کرے۔ اور نہ نیکوکار لوگوں سے ٹھٹھہ کرے نیز بندے پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ پورے خلوص قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔غور فرمایئے!اللہ تعالیٰ چند دنوں یا چند مہینوں یا چند سالوں سے نہیں بلکہ ہزارہا سال سے بیک وقت لاکھوں نہیں اربوں انسانوں کی دعائیں، فریادیں، سرگوشیاں اور گفتگو سن رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی دعا اور پکار سننے اور ہر شخص کے بارے میں الگ الگ فیصلے کرنے میں کبھی کوئی دقت یا دشواری پیش نہیں آئی نہ ہی کبھی تکان لا حق ہوئی ہے۔دوران حج ذرا میدان عرفات کا تصور کیجئے، جہاں تیس چالیس لاکھ افراد بیک وقت مسلسل اپنے خالق کے حضور فریاد و فغاں اور آہ و بکا میں مصروف ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ ہر شخص کی دعا اور فریاد سُن رہا ہوتا ہے،ہر شخص کی مرادوں اور حاجتوں سے واقف ہوتا ہے،ہر شخص کے دلوں کے رازوں سے آگاہ ہوتا ہے اور پھر اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہر شخص کے بارے میں الگ الگ فیصلے بھی صادر فرماتا ہے،

نہ اس سے بھول چوک ہوتی ہے، نہ ظلم و زیادتی ہوتی ہے،نہ کوئی دقت اور مشکل پیش آتی ہے، اور پھر یہ کہ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ میدانِ عرفات کے علاوہ باقی ساری دنیا کے اربوں انسانوں کی گفتگو، دعا، پکار ، فریاد وغیرہ سُن رہا ہوتا ہے۔یہ سارا معاملہ تو کائنات میں بسنے والی صرف ایک مخلوق” انسان ” کا ہے ۔ایسا ہی معاملہ جنات کا ہے جو انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کے مکلف ہیں، نہ جانے کتنی تعداد میں جنات بیک وقت اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد و فغاں میں مصروف رہتے ہیں،جنہیں اللہ کریم سن رہا ہے اور ان کی حاجتیں اور مرادیں پوری فرما رہا ہے۔جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ایک اور مخلوق ” ملا ئکہ” ہے جو مسلسل اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید اور تقدیس میں مشغول ہے، اسے بھی اللہ تعالیٰ سُن رہا ہے۔جن و انس اور ملائکہ کے علاوہ خشکی میں بسنے والی دیگر بے شمار مخلوقات جن کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے(1) وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تحمید و تقدیس میں مشغول ہیں جسے وہ سن رہا ہے، اسی طرح سمندروں اور دریاؤں میں بسنے والی نیز فضاؤں میں اڑنے والی بے شمار مخلوق اس کی حمد و ثنا کر رہی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات با برکات ان سب میں سے ایک ایک کی دعا اور پکار سن رہی ہے۔زندہ مخلوق کے علاوہ کائنات کی دیگر اشیاء مثلاً حجر،شجر، سورج، چاند، ستارے، زمین و آسمان، پہاڑ حتیٰ کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید میں مشغول ہے(2) جسے اللہ تعالیٰ سن رہا ہے،کہا جاتا ہے کہ ہماری دنیا کے علاوہ کائنات میں اور بھی بہت سی دنیائیں ہیں،جن میں دوسری بہت سی مخلوقات بستی ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی بھی دعا و پکار سن رہا ہے۔ غور فرمایئے! اس قدر لا تعداد جاندار اور غیر جاندار مخلوق کی دعائیں، فریادیں، تسبیح و تحمید اور تقدیس اللہ تعالیٰ بیک وقت سن رہا ہے اور یہ سماعت اللہ تعالیٰ کو نہ تھکاتی ہے نہ دیگر کاموں سے غافل کرتی ہے نہ نظام کائنات ہی میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے۔حقیقت یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ” سمیع” ہی ایسی ہے جسے کماحقہ سمجھنا تو دور کی بات، تصور میں لانا بھی محال ہے،

اسی ایک صفت سے اللہ تعالیٰ کی دیگر لا محدود صفات مثلاً مالک، الملک، خالق، رزاق، مصور، عزیز، متکبر، بصیر، خبیر ، علیم، حکیم، رحیم، کریم، عظیم، غفور، قیوم، رحمٰن کبیر، قوی، مجیب، رقیب، حمید، صمد، قادر، اوّل، آخر، تواب، رؤف، غنی، ذوالجلال والا کرام وغیرہ قیاس کر کیجئے پھر ان آیات پر غور کیجئے کہ اللہ کریم نے کس قدر حق بات ارشاد فرمائی ہے۔لمحہ بھر کے لئے غور فرمایئے! کہ انسانی قوت سماعت کا یہ عالم ہے کہ بیک وقت دو آدمیوں کی بات سننے پر کوئی انسان قادر نہیں، جو انسان اپنی زندگی میں بقائمی ہوش و حواس بیک وقت دو آدمیوں کی بات سننے پر قادر نہیں تو مرنے کے بعد وہ بیک وقت سینکڑوں یا ہزاروں آدمیوں کی فریادیں سننے پر کیسے قادر ہو سکتے ہیں؟اس نام سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خلاف شرع چیزوں کے کہنے سننے اور دیکھنے سے پرہیز کرے اور اللہ کو اپنے اقوال و افعال پر حاضر ناظر جانے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ جس نے غیر اللہ سے اس چیز کو چھپایا جس کو وہ اللہ سے نہیں چھپاتا اس نے گویا اللہ کی نظر کو حقیر جانا لہذا جس شخص نے یہ جانتے ہوئے کوئی گناہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے تو اس نے بڑی جرات کی اور کیا ہی بڑی جرات کی؟ اور جس نے اس گمان کے ساتھ کوئی گناہ کیا کہ اسے اللہ نہیں دیکھتا ہے تو پھر اس نے بڑا کفر کیا اور کیا ہی بڑا کفر کیا؟ اس لئے بطور تعلیق بالمحال کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے خدا کا کوئی جرم کرو تو ایسی جگہ کرو جہان وہ تمہیں نہ دیکھے مطلب یہ ہے کہ ایسی کون سی جگہ ہے کہ خدا کی نظر سے پوشیدہ ہو، اور جب ایسی کوئی جگہ بھی ممکن نہیں جہاں خدا گناہ کرتے نہ دیکھے تو پھر گناہ نہ کرو۔اللہ تعالی کے اس نام السمیع کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جو شخص جمعرات کے دن چاشت کی نماز کے بعد پانچ سو یاایک سو یا پچا س مرتبہ یَاسَمِیْعُ پڑھے گا ،انشاء اللہ تعالی اس کی دعا ئیں قبول ہوں گی ۔ درمیان میں کسی سے بات ہرگزنہ کرے ۔*

اور جوشخص جمعہ کے دن فجرکی سنتوں اورفرضوں کے درمیان سومرتبہ پڑھے گا اللہ تعالی اس کو انشا ء اللہ نظرِ خاص سے نوازیں گے۔ *جواسے کثرت سے پڑھے کم سننے کے مرض سے انشاء اللہ شفاء پائے گا۔* اگر کوئی جمعرات کے دن چاشت کی نماز کے بعد پانچ سو باراس اسم کو پڑھے گا۔ اور ایک قول کے مطابق ہرروز سو بار پڑھے اورپڑھتے وقت با ت چیت نہیں کرے گا اور پڑھ کر دعا مانگے گا انشاء اللہ شفاء پائے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی قدرت کاملہ پر یقین رکھنے اور اپنی عبادت و اطاعت کما حقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔اور اگر آپ ہمارے چینل کو سبسکرائیب کر چکے ہیں تو اپنی رائے سے ہمیں کمنٹس کے ذریعے ضرور آگاہ کیجئے گا۔ کمنٹس میں آپ ہم تک اپنے سوالات بھی پہنچا سکتے ہیں۔ ہم پھر حاضر ہونگے ایک نئے ٹا پک کے ساتھ ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment