قصص الانبیا ء

اللہ تعالی کا صفاتی نام الرؤف کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

وظائف

الرؤف اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الرؤف کے معنی ہیں۔ نرم سلوک والا، بڑا مشفق و مہرباناللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ بے شک تمہارا رب نرم سلوک والا رحم کرنے والا ہے۔ (النحل۔ 7) (الرؤف) الرافتہ یہ رؤف سے ہے اور اس کے معنی شفقت اور رحمت کے ہیں الرؤف: اپنے بندوں پر شفقت اور رحم کرنے والے کو کہتے ہیں جو ان پر بہت ہی مہربان ہو اور اپنی شفقت اور محبت ہر وقت ان پر نازل کرتا ہو۔۔

الرؤف رحیم سے زیادہ مبالغے والا ہے یعنی انتہائی مہربانی اور رحمت والا۔ (الزجاج) اس کی بڑی مہربانی یہ ہے کہ طاقت سے زیادہ کسی پر بھی عبادت کا وزن نہیں رکھتا۔ بلکہ بیمار اور مسافروں سے نرمی کرتا ہے۔ بہت مہربان۔منقول ہے کہ ایک شخص کا ہمسایہ بہت برا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اس شخص نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی بعد میں اس کو کسی اور شخص نے خواب میں دیکھا تو اس سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ اس شخص نے کہا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے لیکن وہ ذرا ان صاحب سے جنہوں نے نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی یہ ضرور کہہ دینا کہ آیت (اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم انہیں خرچ ہو جانے کے خوف سے ضرور دبا کر بیٹھ جاتے) یہ گویا اس نے نماز جنازہ نہ پڑھنے والے پر طعن کیا کہ میرا رب تو بہت مہربان ہے اس نے مجھے بخش دیا ہے اگر کہیں تمہارا بس چل جاتا تو نہ معلوم تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے۔رافة: مادہ ”ر۔أ۔ف” ہے۔ رحمت اور رافت مرادف المعنی الفاظ ہیں۔ لغت محیط المحیط کے مطابق رافت تو یہ ہے کہ تم سے ان امور کو دفع کر دیا ئے، جو ضرر رساں ہوں، اور رحمت یہ ہے کہ تمہیں ایسے امور بہم پہنچائے جائیں ، جو راحت رساں ہوں۔ چونکہ عام طور پر تکلیف رفع کرنے کا جذہء محرکہ رقّت قلب ہوتا ہے، اس لئے رافة کے معنی نرمی کے بھی آتے ہیں مثلاً سورة النور میں زانی اور زانیہ کی سزا کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ”دین خداندی کے نفاذ میں نرمی (رافة) سے کام مت لو” ۔اسلام عدل قائم کرنا سکھاتا ہے، جس کے لئے زیادتی کرنے والوں کی قوتوں کو توڑنا پڑتا ہے۔ لہٰذا اس لفظ رافت میں ساتھ ہی سختی بھی شامل ہے۔

اللہ کی صفت بھی قرآن میں دی گئی ہے کہ وہ ”اللہ کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہی کسی ایمان کو بلا حفاظت چھوڑ دے۔ بے شک وہ تو رؤوف اور رحیم ہے”۔رحم: مادہ ”ر۔ح۔م” ہے۔ اس سے مراد عورت کے بطن کا وہ خانہ ہے، جس میں بچہ پرورش پاتا ہے، اور اس غلاف میں خارجی اثرات سے بچہ محفوظ رہتا۔ اس مادہ سے رحمة وہ عطیہ ہے، جسے بقدرِ ضرورت اور بلا معاوضہ دیا جائے، اور جو کسی کی ظاہر و باطن کی کمی کو پورا کر دینے کے لئے کافی ہو۔ اس مادہ سے فعیل کے وزن پر رحیم کے معنی ہوں گے، سامان نشو و نما مسلسل اور بغیر منقطع کے بہم پہنچانے والا۔ اس مادہ سے فعلان کے وزن پر رحمان کے معنی ہیں، وہ جو کسی ضرورت کے وقت شدت اور غلبہ کے ساتھ سامان رحمت کو ہنگامی طور پر بہم پہنچانے والا ہو۔ رحیم، نشو و نما کا عام ارتقائی طریقProgressive Evalutionکہلاتا ہے اور رحمان، فجائی ارتقاء Emergent Evolution یا انقلابی ارتقاء کا طریق کہلاتا ہے۔چونکہ رحم میں نرمی ہوتی ہے، اس لئے اسی مادہ کا یہ لفظ رحماء قرآن میں سختی کے مقابلہ میں نرمی کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ جیسے ”محمدۖ رسول اللہ، اور اس کے رفقائے کار (مومنین) کی کیفیت یہ ہے کہ کفار کے مقابلہ میں سخت، لیکن باہم دیگر بڑے نرم ہیں”۔عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ ہر انسانی بچہ، اپنے پہلے ماں باپ کے گناہ کی پاداش میں گناہ گار پیدا ہوتا ہے، اور یہ گناہ عمل سے زائل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ان کے نزدیک نجات صرف اللہ کے رحم Grace سے ہی ممکن ہے۔ رحم کا یہ تصور غیر قرآنی ہے۔ قرآن کریم کی رو سے انسان اپنی منزل و مقصود تک، اللہ کے رحم سے نہیں، بلکہ قوانین خداوندی کے مطابق اپنے اعمال کے نتائج کی رو سے پہنچتا ہے ۔ عیسائیت اور اسلام کا یہی بنیادی فرق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ اگر جنت بھی تجھے بخشیش میں ملے، تو وہ ہمہ ہیچ ہے، جبتکہ وہ تمہارے اعمال کی کمائی کا نتیجہ نہ ہو۔

اسی لئے کہ قرآن نے کہا ہے کہ جنت کا حصول تمہارے اعمالِ صالح کا نتیجہ ہے۔ “الرحمن، الرحيم، البر، الكريم، الجواد، الرؤوف، الوهاب”: یہ سب نام قریب المعانی ہیں، اور یہ نام اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کی ذات رحم و کرم، اور جود و سخاء سے متصف ہے، اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس کی رحمت اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ساری کائنات کو گھیرے ہوئے ہے، اور اس رحمت کا زیادہ حصہ مومنوں کے لئے خاص ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{اور میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے۔ تو وہ رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔}[الاعراف: 156] سارے انعامات اور ہر طرح کے احسانات اللہ تعالی کی رحمت، اور اس کے جود و کرم ہی کا مظہر ہیں، دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیاں اسی کی رحمت کے شاہد ہیں۔اللہ تعالی نے اپنی ذات پر رحمت فرض کر رکھی ہے، اور اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے، اس کی رحمت ہر چیز کو اپنے احاطے میں رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ {بے شک اللہ تعالی کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔} (الاعراف: 56 {یقیناً اللہ تعالی رحمٰن و رحیم ہے&”۔ اللہ تعالی کی ذات ہماری ماؤں سے زیادہ ہم پر مہربان ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچے کو دودھ پلانے والی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہا:&”کیا تم اس ماں کو دیکھ رہے ہو، جو اپنے بچے کو آگ میں جھونک رہی ہے، ہم نے کہا: نہیں، وہ اپنے بچے کو آگ میں نہ جھونکنے کی طاقت رکھتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اپنے بندوں پر اس ماں کی اپنے بچے کے لئے پائی جانے والی ممتا سے زیادہ مہربان ہے یقیناً اللہ تعالی رحمٰن و رحیم ہے۔اللہ تعالی ساری کائنات پر رحم کرتا ہے، اور اس کے پاس وہ رحمت بھی جو اس کے مومن بندوں کے لئے مخصوص ہے۔{اور اللہ تعالی مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔

(الاحزاب: 43(یقیناً وہ رحیم ہے ۔ ۔اس کی رحمت ہی کا تقاضہ ہوا کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہانوں کے لئے رحمت کی شکل میں انسانیت کے لئے رہبر، اور ان کی دینی و دنیوی مصلحتوں کا محافظ بناکر بھیجا۔”یقیناً اللہ کی ذات رحیم ہے”۔ اس کی رحمت کو اس کے علاوہ کوئی اتارنے والا نہیں ہے، اور نہ اس کے علاوہ کوئی اس کی رحمت پر گرفت رکھنے والا ہے۔ {اللہ تعالی جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے۔ }(فاطر: 2)اللہ تعالی کے اس اسم الرؤف کے فوائد و برکات مین سے ہے کہ جوشخص بکثرت یَارَءُ وْفُ کاور درکھے گا مخلوق اس پر مہربان ہوجائے گی اور وہ مخلو ق پر ۔* اور جو شخص دس مرتبہ درود شریف اور دس مرتبہ اس اسم مبارک کو پڑھے تو انشاء اللہ اس کا غصہ رفع ہوجائے گا یا کسی غضبناک شخص پر دم کیا جائے تو اس کا غصہ رفع ہوجائے ۔* جو کسی مظلوم کو ظالم کے ہاتھ سے چھڑوانا چاہے ( یَا رَؤُوْفُ ) دس بار پڑھے ظالم اس کی شفاعت قبول کرے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی رحمت کی چادر میں چھپا لے اور ہمارے گناہوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment