اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الخبیر کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الخبیر

اللہ تعالی کا صفاتی نام الخبیر کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

معزز خواتین و حضرات ، الخبير اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الخبير کے معنی ہیں ’’خبررکھنے والا”الخبیر کا دوسرا معنی ہے دل کی باتوں اور تمام چیزوں کی خبر رکھنے والا الخبیر سے مراد وہ ہے جو معاملات کی خفیہ اور اندرونی تہوں سے واقف ہو اور جو ہو چکا ہو اور جو ہونے والا ہو اسے اس کا علم ہو۔ وہ کسی کام کے ہونے سے پہلے ہی اس کے نتائج اور مقاصد سے آگاہ ہو۔ اور ہر معاملے کے انجام کار سے بخوبی آگاہ ہو۔

الخبیر وہی ہو سکتا ہے۔ جو اشیاء کے منافع اور ان کی مضرّات کو جانتا ہو ۔جس کا علم ظاہر اور باطن کو محیط ہے۔ ہر چیز سے آگاہ، کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور وہ ہر وقت ہر چیز سے باخبر رہتا ہے۔ وہ چھپائی ہوئی باتیں بھی جانتا ہے اور ظاہر کی ہوئی بھی، معاملات کی خفیہ اور اندرونی تہوں سے واقف ہو اور جو ہو چکا ہو اور جو ہونے والا ہو اسے اس کا علم ہو۔ وہ کسی کام کے ہونے سے پہلے ہی اس کے نتائج اور مقاصد سے آگاہ ہو۔ اور ہر معاملے کے انجام کار سے بخوبی آگاہ ہو۔ واجبات سے بھی باخبر ہے اور ممکنات ومحالات سے بھی، وہ ماضی سے بھی واقف ہے ، حال سے بھی اور مستقبل سے بھی چنانچہ اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے با خبر ہے۔اللہ تعالیٰ کا علم ہر شئ پر حاوی ہے محیط ہے ، اسے ازل سے ہر ماکان اور مایکون کا علم حاصل ہے ، جو چیز نہیں ہے ، اگر ہوتی تو کیسے ہوتی، وہ یہ بھی جانتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں تو کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس پھیر دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی چیز کی خبر دی ہے جو وقوع پذیر نہیں ہو گی وہ خبر ہے کفار کا دنیا کی طرف دوبارہ لوٹایا جانا ، ایسا کبھی نہیں ہو گا ،مگر اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ اگر وہ دوبارہ لوٹائے جائیں تو وہ دوبارہ انہیں حرکتوں کا اعادہ کریں گے جن سے انہیں روکا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے ) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے

۔ اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصے میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب ِ مبین میں ہے”اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹا جاتا ہے اور جو جو پھل اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں اور جو مادہ حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وہ جنتی ہے سب کا علم اسے ہے “اللہ تعالیٰ نے فرمایا::”مادہ اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے ۔ ظاہر و پوشیدہ کا وہ علم ہے سب سے بڑا اور بلند و بالا۔ تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور با آواز ِ بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ پر برابر و یکساں ہیں”شیخ محمد بن امین الشنقیطی رحمہ اللہ ” اضواء البیان”(1/76،75) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان:” جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے ، اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے “کی تفسیر میں فرماتے ہیں: آیت ِ کریمہ کے ظاہری سیاق سے کسی جاہل کو وہم ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اتباعِ رسول کے تعلق سے بندوں کا امتحان لیتا ہے اور امتحان لینے کے بعد ان (کی کامیابی یا ناکامی) کا علم حاصل کرتا ہے جو اسے پہلے نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ جاہلوں کے اس وہم سے بہت بلند ہے ، بلکہ وہ تو ہر ہونے والی چیز کو واقع ہونے سے پہلے ہی جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر یہ واضح فرمایا ہے کہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ وہ بندوں کا امتحان لے کر نتیجے کا علم حاصل کرے ، جو اسے پہلے نہیں ہوتا ” اللہ تعالیٰ کو تمہاری سینوں کے اندر کی چیز آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید سے آگاہ ہے “اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کا” تاکہ وہ امتحان لے ) کے بعد یہ فرمانا کہ ” اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید خوب جانتا ہے اس بات پر دلیلِ قاطع ہے کہ اسے امتحان لے کر شئ نامعلوم ، معلوم نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ اس نظر یہ سے بہت بلند ہے ۔

کیونکہ وہ ذات جو دلوں کے اسراو مخفیات سے بخوبی واقف ہے وہ اس بات سے بالکل مستغنی ہے کہ وہ امتحان کے نتیجے سے کوئی چیز معلوم کرے ۔ یہ آیتِ کریمہ ان تمام آیات کی بڑی واضح تفسیر ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کا امتحان لینے کا تذکرہ موجو دہے ۔اللہ رب العزت کے فرمان:” ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے بھی واقف ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں”کی دو تفسیریں کی گئی ہیں:ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے شاہ رگ سے قریب ہونے سے مراد ازروئے علم، قدرت اور احاطہ، قریب ہونا ہے ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ آیت ِ کریمہ میں جس قرب کا ذکر ہے وہ فرشتوں کا قرب ہے ۔لہذامعلوم ہوا کہ اللہ تعالی ہر شئے سے واقف ہے ۔ اس اسم الخبیر سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اس نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ میرے بھیدوں پر مطلع ہے اور میرے دل کی باتیں تک جانتا ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ بھی اس کو یاد رکھے اور اس کی یاد کے آگے اس کے ماسوا کو بھول جائے۔ ضلالت کے راستوں سے پرہیز کرے۔ اپنی ذات پر ریاکاری کے ترک اور تقویٰ کے اختیار کو لازم کرے باطن کی اصلاح میں مشغول رہے اس سے غفلت نہ برتے اور دین و دنیا کی بہترین کھلی باتوں کی خبر رکھنے والا ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم الخبیر کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص نفس امارہ کے ہاتھوں گرفتار ہو وہ اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھتا رہے خدا نے چاہ تو اس سے نجات پائے گا۔* جوشخص سات روزتک یہ اسم مبارک بکثرت پڑھے گا انشاء اللہ تعالی اس پر پوشیدہرازظاہر ہونے لگیں گے ۔ جوشخص خواہشات نفسانی میں یاکسی موذی کے پنجہ میں گرفتار ہووہ بکثرت اس اسم مبارک کاورد کرے انشاء اللہ ان سے رہائی نصیب ہوگی۔* جوسات دن متواتر اس کا ورد کر ے اسے اللہ تعالی کی طرف سے روحانیت نصیب ہوتی ہے ۔ جومطلوبہ امور میں اس کی رہنما ئی کرتی ہے ۔*جونفس امار ہ کے ہاتھوں گرفتار ہوکثرت سے اس کا ورد کرے انشاء اللہ نجات پائے گا ۔* استخارہ کے واسطے اکتالیس دن تک روزانہ تین تین سوبار (یاخبِیرُاَخبِرنی)پڑھے پھر استخارہ کیلئے اول آخر درود ابر اہیمی سو بار اور یاخَبِیرُ اَخْبِرْنِیْ گیارہ سو بار پڑھے تو خیروشرکی واضح تصویر سامنے آجائے گی ۔دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔

Leave a Comment