اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الحکم کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الحکم

الحکم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحکم کے معنی ہیں دانا و فیصل، حکم کرنے والا اور فیصلہ کرنے والا کوئی اس کے فیصلہ کو رد نہیں کر سکتا اور نہ کوئی اس کے فیصلہ پر تبصرہ کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس کیا میں اللہ کے علاوہ کسی کو فیصل بنا لوں (الانعام: 114) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور وہ دانا ہے اور خبریں رکھنے والا ہے۔ (الانعام: 18)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہی فیصل ہے۔ اور حکم بھی صرف اسی کا حق ہے۔ (ابوداؤد)۔الحکم سے مراد ایسا حاکم ہے جو اپنے بندوں کے درمیان دنیا اور آخرت میں فیصلہ کرے گا۔ دنیا میں وحی کے ذریعے اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔ جو وہ اپنے انبیا پر نازل کرتا ہے۔ اور آخرت میں اپنے بندوں کے دنیاوی اختلاف کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے علم کے مطابق فیصلے کرے گا۔ پھر وہ اہل باطل اور مشرکوں کے خلاف اہل حق اور اہل توحید کی حمایت کا فیصلہ کرے گا۔ اور ہر مظلوم کے لیے انصاف کے ذریعے ظالم سے اس کا حق دلائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے اقوال، افعال اور اپنے فیصلوں میں عادل حکمران ہے۔ حکم کرنے والا کہ اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔ سب کچھ اللہ کا ہے، یعنی کہ بے شک سب کچھ اللہ کا ہے بلکہ ہماری جانیں بھی اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ تمام کائنات اور تمام مخلوقات کا خالق ایک اللہ ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے، اس میں اپنی روح پھونکی ہے، اور وہ ہر ماننے والے انسان کے دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ وا لہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مخلوق اللہ تعالٰی کا کنبہ ہے اور اسی طرح تمام انسان اللہ تعالٰی کا کنبہ اور اس کی نشانی ہیں۔ جیسے صرف اللہ تعالی حقیقی بادشاہ ہے اور اس کی بادشاہت میں کوئی اور اس کا شریک نہیں ویسے ہی صرف اللہ تعالی حقیقی معبود ہے اور اس کی عبادت میں کوئی اور اس کا شریک نہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:“وہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔”اللہ تعالی سب کا مالک ہے اور سب اس کی ملکیت ہیں، وہ سب کا حاکم ہے اور سب اس کے محکوم ہیں، وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔اللہ تعالی تمام قدری، شرعی اور جزائی احکام کا مالک ہے،

وہ سب کی تقدیر وتدبیر کا مالک ہے، وہ سب کی موت وحیات، صحت ومرض، فقر وغنی کا مالک ہے، وہ ہر خیر وشر، نفع وضرر اور امر ونہی کا مالک ہے، وہ ہر ایک کی توفیق اور رشد وہدایت کا مالک ہے، وہ سب کی دنیا وآخرت، حساب وکتاب اور جزا وسزا کا مالک ہے۔اللہ تعالی بادشاہوں کا بادشاہ اور سب سے عظیم بادشاہ ہے، اس کی بادشاہت ہمیشہ رہنے والی ہے، اسے کسی وزیر یا مشیر وغیرہ کی ضرورت نہیں، وہ جیسے چاہتا ہے بغیر کسی شراکت ونزاع کے اپنی سلطنت چلاتا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے، وہ جسے چاہتا ہے حکومت وبادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔اے انسانوں ؛گر تم مجھے اپنا رب مانوگے تو میں تمہار ی ہربگڑی بنادو ں گا اور ہر مشکل آسان کردوں گا۔ اگر تم مجھے اپنا بنالوگے میں تمہیں کہیں بھٹکنے نہیں دوں گا، کہیں ذلیل ورسوا ہونے نہیں دوں گا۔ میں ذلت کی شکل میں تمہیں عزت دینے پر قدرت رکھتاہوں مامور کی شکل میں امارت دینے کی قدرت رکھتاہوں۔ میں وہی اللہ ہوں جس نے موسی کو سمندر میں راستہ دیا۔میں وہی اللہ ہوں جس نے ابراہیم کے لئے آگ کو گلزار بنادیا۔ میں وہی اللہ ہوں جس نے لاٹھی کو اژدہا بنایا۔ میں وہ ہوں جوہرچیز پر قدرت رکھتاہوں۔ میں کبھی اپنے فرمانبردار بندوں کو ظالموں کے حوالے نہیں کرتا ہوں۔ ظالم کچھ اورتدبیر کرتاہے اور میں کچھ اورکرتاہوں اور میں خیر الماکرین ہوں۔ اور اے انسانو!سنو! تمہیں چھوڑکر سب میرے گن گاتے ہیں تمہارے علاوہ سب میری بڑائی کرتے ہیں۔ ہروقت میرے سامنے سر تسلیم خم کیے رہتے ہیں کیا مجال ہے کہ ذرہ برابر سرتابی کرے۔

کائنات کے ذرے ذرے میرے ثنا خواں ہیں ۔ ہوا چلنے سے پہلے، بادل گرجنے سے پہلے،بارش برسنے سے پہلے، موج تھپیڑا مارنے سے پہلے،پتہ ہلنے سے پہلے، دل دھڑکنے سے پہلے،خوابیدہ روح بیدار ہونے سے پہلے سب کے سب مجھ سے اجازت لیتے ہیں۔اے انسانو! صر ف تمہیں تھوڑا سا اختیار دیاگیا ہے آزمائش کے لئے۔ جولوگ عقلمند ہیں وہ میری اطاعت کرتے ہیں میری مرضی کو اپناتے ہیں اور جولوگ نافرمان ہیں وہ اپنی مرضی کے غلام ہیں۔وہ دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی ذلیل و خوارہوں گے۔ ذلیل ورسوا کرنے کے میرے طریقے مختلف ہیں۔کبھی کرسی دے کر رسوا کرتا ہوں،کبھی عہدہ دے کر خوارکرتاہوں،کبھی افراد و قوت دے کر ذلیل کرتاہوں،کبھی بادشاہ اور حکمراں بناکر رسوا کر تاہوں،کبھی اکثریت میں رکھ کر رسوا کرتاہوں اورجب بندہ میری نافرمانی کرتاہے تو سب کچھ دے کر بھی رسوا کرتاہوں میرے عذاب و سزاکے طریقے جدا جداہیں۔ میر ی پکڑکے راستے الگ الگ ہیں۔ میں وہ ہوں جو عزت کو ذلت میں تبدیل کرتاہوں میں ہی ہوں جو حکومت و سلطنت کو غلامی میں بدلتاہوں میں ہی ہوں جو نہونی کو ہونی میں تبدیل کرتاہوں۔پھر بھی اے انسانو!مجھے نہیں پہچانتے۔جب تمہارے سارے دروازے بند ہوجائے تو میرا دربار کھٹکھٹانا، جب تم سب جگہوں سے مایوس ہوجاؤ تو میرے پاس آنا۔ میری عزت کی قسم میری عظمت و جلال کی قسم میری کبریائی کی قسم تمہیں کہیں اور کبھی بھی رسوا ہونے نہیں دوں گا۔اس اسم الحکم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اس نے یہ جان لیا کہ حق تعالیٰ ایسا حاکم ہے کہ اس کے حکم اور اس کے فیصلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا تو اب اسے چاہئے کہ وہ اس کا ہر حکم مانے اور اس کی مشیت و قضا کا تابعدار ہو، لہٰذا جو بندہ اس کی مشیت اور اس کی قضا و قدر پر قصداً راضی نہ ہو گا تو حق تعالیٰ اس پر اپنی مشیت اور اپنا فیصلہ زبردستی جاری کرے گا

جو شخص برضا و رغبت اور دل کے ساتھ بخوشی اسے مان لے گا۔ حق تعالیٰ اسے اپنی رحمت اور اپنے کرم سے نوازے گا وہ خوشی اور اطمینان کی زندگی گزارے گا اور وہ غیراللہ کے سامنے اپنی فریاد لے کر جانے کا محتاج نہیں ہو گا۔ اللہ تعالی کے اس اسم بابرکت الحکم کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص اس اسم مبارک کو شب جمعہ میں اور ایک قول کے مطابق آدھی رات کے وقت اتنا پڑھے کہ بے ہوش ہو جائے تو حق تعالیٰ اس کے باطن کو معدن اسرار بنا دے گا۔* جوشخص اخیر شب میں (۹۹) مرتبہ باوضویہ اسم مبارک پڑھے گا اللہ تعالی اس کے دل کو انشا ء اللہ تعالیٰ محلِ اسرار وانوار بنادیں گے۔* اور جوشخص جمعہ کی رات میں یہ اسم مبارک اس قدر پڑھے کہ بے حال وبے خود ہوجائے تواللہ تعالی اس کے قلب کو کشف والہام سے نوازیں گے ۔*جوکوئی شب جمعہ میں آدھی رات کو یہ اسم پڑھے گا حق تعالی اس کا باطن پاک صاف کردے گا ۔ *جو پانچوں وقت ہرنماز کے بعد اسی ( ۸۰) بار اس اسم کو پڑھ لیا کرے گاکسی کا محتاج نہ ہوگا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس اسم کے فوائد و برکات حاصل کرنے اور اللہ تعالی کی حاکمیت کا کامل یقین رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment