اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الحلیم کا معنی مفہوم فوائد وظائف

الحلیم

الحلیم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحلیم کے معنی بردبار کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”،اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے خیالات جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، بردبار ہے۔الحلیم وہ ہوتا ہے جو نا فرمانوں کو سزا دینے میں جلدی نہ کرتا ہو۔ بلکہ وہ انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں۔ بلکہ نا فرمانوں اور گناہگاروں کو ان کی نافرمانیوں اور گناہوں کے باوجود رزق دیتا ہے۔ وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔بردبار کا مطلب یہ ہے کہ مومن کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ان کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ توبہ کر کے فلاح پائیں۔حلیم کا معنی بردبار، تحمل(برداشت) والا، وہ لوگوں کی سرکشی کو دیکھنے کے باوجودانہیں اپنی نعمتیں عطا فرماتا رہتاہے جو اپنی مخلوقات پر ظاہری اور باطنی نعمتیں نازل فرماتا رہتا ہے حالاں کہ وہ گناہ اور بے شمار لغزشوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ وہ نافرمانوں کو فوری سزادینے کے لیے بردباری کرتے ہوئے انھیں موقع دیتا ہے کہ توبہ کرلیں اور انھیں مہلت دیتا ہے کہ اس کی طرف رجوع کرلیں۔

الحلیم جل جلالہ، الله تعالیٰ کے اسمائے حسنٰی میں سے ایک ہے۔ لُغت میں حلیم بردبار، متحمل مزاج، نرم وملائم کو کہا جاتا ہے۔ الحلیم وہ برد بار جو باوجود پوری قدرت وطاقت کے انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتا۔ رسولِ کریم حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہونے والی آخری آسمانی کتاب قرآن کریم میں متعدد جگہ الله تعالیٰ نے اپنی اس صفت کو بیان فرمایا ہے کہیں فرمایا: بے شک وہ بڑا مغفرت والا اور حلم والا ہے، کہیں الله تعالیٰ نے اپنی اس صفت کو بیان فرمایا ہے او رصفت علیم کا ذکر بھی کیا۔ صفت حلم کے کچھ حصے الحلیم جل جلالہ نے انسان میں بھی ودیعت فرمائے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کرنے کا حکم ملا تو ان کی بردبار طبیعت پر کچھ زیادہ اثر نہ ہوا، اگرچہ اولاد کی فطری محبت انسان کی طبیعت میں رچی بسی ہوئی ہے۔انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی، کوتاہی سردز ہو جاتی ہے، لیکن الحلیم جل جلالہ فوری طور پر سزا نہیں دیتا اور الحلیم جل جلالہ سب کو رزق دینے میں بخل نہیں کرتا، سب کو رزق دیتا ہے۔ بہتر رزق دینے والا جو ہوا۔ دنیا میں بڑے بڑے ظالم اور جابر لوگ گزرے ہیں جنہوں نے مخلوق خدا پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، جائر وناجائز سزائیں دیں، قتل وغارت گری، زنا، چوری، ڈاکہ زنی اورراہ زنی میں اپنے مذموم عزائم کو استعمال کیا، بڑے بڑے متکبر اور ظالم بادشاہوں نے رعایاکا خون چوسا، ان کی غربت وافلاس سے ناجائز فائدہ اٹھایا، ان کی عزتوں کو پامال کیا اور ہر طرح کا ظلم وتشدد کیا، مالٹا، کالے پانی اور شور کی بے جا اور ناجائز سزائیں دیں، غرضیکہ مخلوق خدا کا جینا دوبھر کیا، لیکن الحلیم جل جلالہ نے باوجود پوری قدرت وطاقت کے انتقام لینے میں جلدی نہیں کی۔

اس لیے کہ الله بڑا حلیم او ربرد بار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالقیس کے سردار جناب اشبح رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ یقینا تجھ میں دو خصلتیں ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے (ایک) بردباری، (دوسری) تحمل ہے۔‘‘حدیث پاک میں الحلم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی ہے : عقل کا صحیح ہونا اور اس کا غالب ہونا، انجام پر گہری نظر رکھنا، قوت غضب کا ٹوٹنا اور اس قوت کا عقل کے تابع ہونا مراد ہے۔حلیم کثیر الحلم کو کہتے ہیں، وہ انسان مراد ہے جو گناہوں سے اعراض کرتا ہے اور تکالیف پر صبر کرتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ انسان ہے کہ جس نے کبھی بھی کسی سے رب کائنات کی رضا کے علاوہ بدلہ نہ لیا ہو اور کسی دوسرے کا بدلہ بھی فقط اللہ کے لیے لیا ہو۔ حلیم اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں شامل ہے۔ حلم اشرف ترین اخلاق ہے اور اس کے حقدار عقل والے انسان ہیں کیونکہ اس میں عزت کی سلامتی، جسم کی راحت اور اللہ کی حمد کی کمائی ہے… حلم کی تعریف یہ ہے کہ غصہ کے ہیجان کے وقت نفس کو ضبط کرنا۔ یہ ملکہ بعض اسباب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسے اسباب دس ہیں… جاہلوں کے لیے نرمی کرنا، یہ ایسی بھلائی سے تعلق رکھتی ہے جو نرمی کے موافق ہے۔ منثور الحکم میں کہا گیا ہے حلم کے اسباب میں سے سب سے زیادہ تاکید والا سبب جاہلوں کے لیے نرمی و شفقت ہے۔

(۲)… بدلہ لینے پر قدرت رکھنا۔ یہ دل کی وسعت اور اچھی خود اعتمادی سے رونما ہوتی ہے۔
(۳)… گالی نکالنے سے اپنے آپ کو بچانا، یہ نفس کے شرف اور ہمت کی بلندی سے ظاہر ہوتا ہے۔
(۴)… برا سلوک کرنے والے کو بے وقعت سمجھنا۔ یہ تکبر اور خود نمائی سے اعراض کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جیسا کہ حکایت ہے کہ ایک آدمی اکثر احنف (ٹیڑھے پاؤں والے کو کہتے ہیں) کو گالی نکالا کرتا تھا لیکن یہ اسے کوئی جواب نہ دیتا تو گالی نکالنے والے نے کہا: اللہ کی قسم! یہ مجھے جواب اس لیے نہیں دیتا کہ میری اس کے ہاں کوئی وقعت نہیں۔
(۵)… گالیوں کے جواب کی جزا سے شرما جانا۔ یہ نفس کے بچاؤ اور کمال مروت سے پیدا ہوتا ہے۔
(۶)… گالیاں دینے والوں پر مہربانی کرنا، یہ کشادہ دلی اور متحد رہنے کی محبت سے رونما ہوتا ہے۔
(۷)… بڑائی کی وجہ سے گالیاں نکالنے والوں کو اور گالیوں کو چھوڑنا، یہ سبب عزم سے ظاہر ہوتا ہے۔
(۸)… جواب کے بدلہ میں جو سزا اور عقوبت ملنے کا خدشہ ہو اس سے ڈرنا، یہ نفس کی کمزوری سے پیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات رائے و عقل اسے واجب کرتی ہے اور احتیاط اس کا تقاضا کرتی ہے۔
(۹)… نچلے ہاتھ (ـمراد احسان مند لوگ) اور اس کی حرمت لازمہ کی رعایت رکھنا۔ یہ وفا اور وعدے کی اچھائی سے پیدا ہوتا ہے۔
(۱۰)… خفیہ تدابیر اور مخفی موقعوں کے وقوع کا منتظر رہنا۔ یہ ہوشیاری و عقل مندی سے رونما ہوتا ہے۔

یہ دس اسباب ہیں جو حلم و بردباری کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ بعض اسباب بعض سے افضل و اعلیٰ ہیں یہ بات نہیں کہ بعض اسباب کم فضیلت والے ہیں لہٰذا ان کا نتیجہ حلم سے برا اور مذموم نکلے گا۔ گو تمام کا تمام حلم فضیلت والا ہے لیکن انسان کے لیے بہتر یہی ہے کہ حلم کے افضل ترین اسباب کو دعوت دیں۔ اس اسم الحلیم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ بد طینت لوگوں کی ایذاء پر تحمل کرے، زبردستوں کو سزا دینے پر تامل کرے اور غیض و غضب اور غصہ سے دور رہے اور حلم کے اس مرتبہ کمال کو پہنچنے کی کوشش کرے کہ اگر کوئی شخص اس کے ساتھ برائی کرے گا تو وہ اس کے ساتھ نیکی کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم بابرکت الحلیم کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو کاغذ پر لکھ کر دھوئے اور اس کا پانی کھیتی و درخت میں ڈالے نقصان سے محفوظ رہے گا، ان میں برکت ہو گی۔ اور ان سے پورا پورا ثمرہ حاصل ہو گا۔* جوشخص اس اسم مبارک کوکاغذپر لکھ کر پانی سے دھوکر جس چیز پر اس پانی کو چھڑکے یا ملے گا انشا ء اللہ اس میں خیر وبرکت ہوگی ۔ *اگر اوزاروں پر چھڑکے تو اس کی صنعت وحرفت میں برکت ہو۔* اگر کشتی پر چھڑکے تو غرق ہونے سے محفوظ رہے ۔ جانور گاڑی یامشینری پر چھڑکاجائے تو تمام آفتوں سے وہ محفوظ رہیں ۔* اگر کوئی امیر آدمی اس کی بکثرت تلاوت کرے تواسکا عزووقار برقرار رہے ۔* جواس کا ہر وقت وردر کھے گاانشاء اللہ فتح مندرہے گااور ہر آفت سے بچار ہے گا ۔* جوکوئی اس اسم کو روزظہر کی نماز کے بعد نو ( ۹) دفعہ پڑھا کرے گا انشاء اللہ تمام خلقت میں سرخرو رہے گا ۔ *جودشمن یامدعی یا حاکم کے سامنے ہوتے ہی پانی سے ہاتھ بھگو کرگیارہ دفعہ یہ اسم پڑھ کر منہ پر مل لیا کرے انشاء اللہ دشمن سختی نہ کرسکے گا اور حاکم نرمی ومہر بانی سے پیش آئے گا ۔ *جوکوئی اس کو کاغذ پر لکھوا کر پھر ا س کو دھوئے اور پانی اپنی کھیتی پر چھڑک دے توانشاء اللہ زراعت کی ہر آفت سے حفاظت رہے گی اور کمال کو پہنچے گی اور اس میں برکت ہوگی ۔* جوکوئی اس اسم کو بادشاہ کے روبروپڑھے گا انشاء اللہ اس کے غصے سے محفوظ رہے گا ۔* جو کوئی درخت بوتے وقت اٹھائیس (۲۸) بار یہ اسم مبارک پڑھے تودرخت سرسبز اور خزاں سے محفوظ رہے گا ۔ اگر رئیس آدمی اس کو بکثرت پڑھے اس کی سرداری خوب جمے اور راحت سے رہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں تحمل بردباری اپنانے اور ایک دوسرے کے ساتھ برداشت والا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔ ۔۔ ہم پھر حاضر ہونگے ایک نئے ٹا پک کے ساتھ ۔اپنا بہت سا خیال رکہیے گا، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment