قصص الانبیا ء

اللہ تعالی کا صفاتی نام الحسیب کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الحسیب

الحسیب اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحسیب کے معنی ہیں حساب لینے والا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النساء:68)اس کے جو بندے اسی پر توکل کرتے ہیں وہ ان کے لیے کافی ہے۔ وہ اپنی حکمت اور اپنے علم کے مطابق بندوں کے نیک و بد اعمال کی ان کو پوری پوری جزا دے گا۔ وہ اعمال چاہے کتنے ہی حقیر ہوں یا کتنے ہی کبیر ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے ذرہ برابر یا اس سے بھی کم کوئی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔

یقیناً اللہ تعالی حسیب و کافی ہے۔ اللہ تعالی اپنی مخلوق کا کارساز ہے۔ ۔ ۔ اور ان کے لئے ہر چیز سے کافی ہے۔ ۔ ۔ {کیا اللہ تعالی اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔ } (الزمر: 36 الحسیب۔وہ ذات جو اپنے بندوں کو بھلائی و برائی پر اپنی حکمت و علم کی بنیاد پر ہر چھوٹی بڑی چیز پر بدلہ دینے والی ہے۔ہمارے لئے اللہ تعالی ہی کافی ہیں، اور وہ کیا ہی بہترین کارساز ہے۔ اس جملے کو اللہ کے دوست حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس وقت کہا جب وہ آگ میں پھینکے جارہے تھے؛ تو آگ ان کے لئے سلامتی والی اور ٹھنڈی بن گئی، اور اسی جملے کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اس فرمانِ الہی میں ذکر کیا ہے:{کافروں نے تمہارے لئے مقابلے پر لشکر جمع کرلئے ہیں۔ } (آل عمران: 173)تو صحابہ نے کہا:{ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ [نتیجہ یہ ہوا کہ] اللہ کی نعمت و فضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہیں پہنچی، انہوں نے اللہ تعالی کی رضامندی کی پیروی کی۔ }(آل عمران: 173- 174)اللہ تعالی اپنے بندوں کا حساب لینے والا ہے۔ ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے والا ہے، پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دینے والا ہے، اور اپنے کئے دھرے کے مطابق اگر اعمال اچھے ہوں تو اچھا، اور اگر برے ہوں تو برا بدلہ ملنے والا ہے۔ {اور وہ بہت جلد حساب لے گا۔ }(الانعام: 62)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو 2فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں یہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تم پر اور اس جسم پر جسے روح آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ تعالی کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ تم اسے آخری وقت کے لئے لے جاؤ ۔آپؐ نے مزید فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے تم اسے آخری وقت کے لئے سجن(جیل خانہ) کی طرف لے جاؤ، پھر یہ بیان کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر رکھ لی تھی۔ کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لئے آپؐ نے اس طرح کیا۔الحسیب وہ اپنے مخلوق کی خفیہ و ظاہری چیزوں کو مکمل باریکی کے ساتھ اپنے احاطہ علم میں رکھے ہوئے ہے۔
اور اللہ تعالی کافی ہے ، اوراللہ تعالی کی یہ کفایت دو قسم کی ہے ، کفایت عامہ اور کفایت خاصہ ۔

کفایت عامہ یہ کفایت اللہ تعالی کے سب بندوں کوشامل ہے جوبھی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات میں حصول نفع اور نقصان سے بچنے کے لۓ انہیں ضرورت ہو ۔

کفایت خاصہ :
یہ کفایت اللہ تعالی کے اس بندے کے ساتھ خاص ہے جوکہ متقی اورپرہیزگار اور اس پر توکل کرنے والا ہو ، یہ ایسی کفایت ہے جوکہ اس کے دین ودنیا کے لۓ درست ہو ، اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے( اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کو اللہ تعالی کافی ہے اور ان مومنوں کوبھی جوکہ آپ کی اتباع کررہے ہیں الانفال ( 64 (
الحسیب کے معنی ہر حال میں کفایت کرنے والا یا قیامت کے دن حساب لینے والا کے بھی ہیں ۔ قشیری نے اس موقع پر جو بات کہی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کو اللہ کا کفایت کرنا یہ ہے کہ وہ اس کے ہر حال میں اور ہر کام میں مددگار ہوتا ہے اور اس کا ہر کام پورا ہوتا ہے لہٰذا جب بندہ نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ میرے لئے کافی اور میری ہر مراد اور میرے ہر کام کو پورا کرنے والا ہے تو اب اس کو چاہئے کہ وہ کسی بھی دنیاوی سہارے پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اگر اسے اپنے مقصد کے حصول میں کسی بھی دنیاوی سہارے سے بوقت ضرورت فائدہ نہ پہنچے جب کہ اسے اس سہارے پر اعتماد بھی رہا ہو تو اس سے بد دل اور پریشان خاطر نہ ہو بلکہ یہ یقین رکھے کہ خدا نے میرے مقدر میں جو طے فرما دیا ہے بہر صورت وہی ہو گا اگر قسمت میں حصول مقصد لکھا جا چکا ہے تو وہ ضرور حاصل ہو گا چاہے وہ دنیاوی سہارا کتنا ہی مایوس کن کیوں نہ ہو اور اگر قسمت میں مقصد کا حصول نہیں لکھا ہے تو وہ حاصل نہیں ہو گا چاہے وہ دنیاوی سہارا کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے اور پھر یہ کہ جو شخص خدا کی طرف سے پیش آنے والی چیز پر جو کہ اگرچہ اس کا مطلب نہیں ہے اکتفا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس چیز پر راضی و مطمئن کر دے گا جو اس نے اس شخص کے لئے طے فرما دی ہو گی چنانچہ اس کا اثر یہ ہو گا کہ ایسا بندہ اپنے اسی وصف (یعنی راضی برضا ہو جانے کی) بناء پر اپنے مطلوب کے عدم حصول کو اس کے حصول کے مقابلہ میں فقر کو غنا کے مقابلہ میں برضا و رغبت اختیار و قبول کرے گا اور بسبب مشاہدہ و تصرف مولیٰ حصول مقصد کے اسباب و ذرائع مہیا نہ ہونے ہی پر مطمئن ہو جائے گا۔

اس اسم الحسیب سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ محتاجوں کو کفایت کرنے والا یعنی ان کی حاجتوں کو پورا کرنے والا ہو اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے۔اللہ تعالی کے اسم الحسیب کے فوائدو برکات میں سے ہے جو شخص کسی چور یا حاسد یا ہمسایہ بد اور دشمن کے شر سے ڈرتا ہو یا چشم زخم سے پریشان ہو تو وہ ایک ہفتہ تک ہر صبح و شام ستر بار حسبی اللہ الحسیب (کفایت کرنے والا اللہ میرے لئے کافی ہے) پڑھ لیا کرے اللہ تعالیٰ اسے ان چیزوں کے شر اور پریشانی سے محفوظ رکھے گا۔* جس شخص کو کسی بھی شخص یاچیز کاڈرہو وہ جمعرات سے شروع کرکے آٹھ روزتک صبح وشام ستر مرتبہ حَسْبِیَ اللّٰہُ الْحَسِیْبُ پڑھے وہ انشاء اللہ ہر چیز کے شرسے محفوظ رہے گا۔ *جسے کوئی غم یامصیبت واقع ہووہ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ کی کثرت کرے ۔ اللہ تعالیٰ اسکی تمام دنیوی واخروی پریشانیاں دور فرمائیں گے۔اس آیت کا روزانہ چار سو پچاس (۴۵۰) بار ورد کر نا ہر طرح کی آفات ،خطرات اور مصیبتوں سے نجات اور تحفظ کے لئے اکسیر ہے۔* جو کوئی اس اسم کو ستر بار پڑھے گا انشاء اللہ دشمن کے شرسے محفوظ رہے گا ۔* اگر کوئی مشکل پیش آئے توایک ہفتہ تک روزانہ صبح وشام ایک سو پینتالیس بار یہ اسم مبارک پڑھے انشاء اللہ مشکل آسان ہوجائے گی ۔* اگر کسی سے حساب میں تشدد کا اندیشہ ہویا کسی بھائی برادری سے کسی معاملہ میں خوف ہوتو سات روز تک طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے بیس بار یہ اسم مبارک پڑھ لیا کرے ۔* الحسیب میں اسم اعظم کی طرف اشارہ ہے ( واللہ اعلم )۔دعا ہے لہ اللہ تعالی ہم سے قیامت کےدن حساب و کتاب میں نرمی والا معاملہ فرمائے اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment