اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الحئ کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

الحی

الحی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحی کے معنی ہیں ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہنے والا۔جو ہر چیز سے واقف ہے اور جس کی قوت ہر چیز کے لیے کافی ہے۔ازل سے ابد تک زندہ رہنے والا۔ یہی تو ہمارا اللہ ہےہمارا رب حئ ہے.آسمانوں زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں اس پر کوئی نقصان آئے نہ کبھی وہ اپنی مخلوق سے غافل ہو بلکہ ہر اس شخص کے اعمال پر وہ حاضر ہر شخص کے احوال پر وہ ناظر دل کے ہر خطرے سے واقف مخلوق کا کوئی ذرہ بھی اس کی حفاظت کے علم سے کبھی باہر نہیں پوری قوت قیومیت ہے اونگھ نیند اور بے خبری سے مکمل پاک ہے

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو چار باتیں بتائیں فرمایا اللہ تبارک و تعالٰی سوتا نہیں نہ نیند اس کی ذات کے لائق ہے وہ ترازو کا حافظ ہے جس کے لیے چاہے جھکا دے جس کے لئے چاہے نہ جھکائے دن کے اعمال رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف لیجائے جاتے ہیں اس کے سامنے نور یا آگ کے پردے ہیں اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جن تک اس کی نگاہ پہنچے.اسی رب الحئ کی جانب سے انسانوں کوجو زندگی ایک رمق عطا ہوئی ہے اس کو رب کے حکم کے مطابق گزارنا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام اللّٰہ کی ‘اطاعتِ کاملہ’ بجا لانے کا نام ہے۔ اللّٰہ کی یہ بندگی(عبادت وعبدیت ) دیگر مذاہب کی طرح محض پوجا پاٹ کا تصور نہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے؛ شخصی وانفرادی یا اجتماعی وملّی ہر میدان میں اللّٰہ کے احکام و ہدایات پر چلنے کا نام ہے۔ انبیا کا مقصدِ بعثت یہی رہا ہے کہ لوگوں کو اللّٰہ کی طرف بلائیں اور جو اللّٰہ تعالےٰ نے نازل کیا ہے، اس کی لوگوں کو تلقین وتعلیم کریں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے “’اے نبی! یقیناً ہم نے آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے، خوشخبریاں سنانے اورآگاه کرنے والا بھیجا ہے۔ اور اللّٰہ کے حکم سے اسکی طرف بلانے والا اور روشن چراغ۔” اللّٰہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو ان کے فریضہ رسالت کی یوں تلقین کی کہ”اپنے ربّ کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے” اے رسول! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے ربّ کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر ایسا نہ کیا تو آپ نے اللّٰہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔” نبی کریمﷺ نے یہ فرض بہ تمام وکمال پورا فرمایا اور خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے اس کی تصدیق حاضرین صحابہ کرام سے ان الفاظ میں چاہی کہ”خبردار ہوجاؤ! جاہلیت کے سود معاف کردیےگئے ہیں،

اب تمہارے لیے صرف تمہارے اصل مال لینے کی ہی اجازت ہے۔پھر آپ نے فرمایا: یا الٰہی! کیا میں نے پہنچا دیا ہے تو صحابہ نے جواب دیا : ہاں، تین مرتبہ… پھر آپ نے بھی تین مرتبہ کہا: یا الٰہی ! اس پر گواہ ہوجا۔”رسولوں کے پہنچا دینے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنا یہ حق جتایا ہے، فرمانِ نبویؐ:”یا معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللّٰہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللّٰہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں۔”اللّٰہ کی اس بندگی کا مطلب زندگی کے ہر ہر مرحلہ پر ربّ کریم کی تعلیمات کو پیش نظر رکھنا اور اسے ہر لمحہ اپنے اوپر لاگو کرنے کی جہدِ مسلسل کرنا ہے۔جب ہم اللّٰہ کی اس بندگی کو صرف اپنے عقائد اور عبادات ومناکحات (نکاح وطلاق) تک محدود کرلیتے ہیں اور یہ باور کرتےہیں کہ سیاست وعدالت، معیشت ومعاشرت اور تعلیم وابلاغ میں ہمیں اللّٰہ یا اپنے دین کی ہدایات کی ضرورت نہیں تو یہ بھی اللّٰہ کی بندگی اور عبادت سے انحراف ہےاور یہی سیکولرزم ہے کہ مسجد وعبادت یعنی پرائیویٹ زندگی کے علاوہ، ہردو افراد کے باہمی؍ ہمہ نوعیتی معاملات میں اللّٰہ کی تعلیمات وہدایات کو نظرانداز کردیا جائے۔ اسی لیے اللّٰہ تعالےٰ نے رسولوں کو مبعوث کیا کہ وہ لوگوں پر اللّٰہ کی اطاعت کے تقاضے واضح کردیں اور رسولوں کی یہ تعلیمات زندگی کے ہرہر میدان میں ہیں۔ تجارت اور معاملات سے لیکر، سیاست ومعاشرت کے جمیع میدانوں میں ”ہم نے اُنہیں رسول بنایا، خوشخبریاں سنانے اور آگاه کرنے والے تاکہ رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ پر لوگوں کی کوئی حجت اور الزام ره نہ جائے۔ ”اللّٰہ تعالیٰ کے رسول کسی بھی معاشرے میں انقلاب بپا کر دیتے ہیں، ایک بدحال معاشرے کو اوجِ کمال تک پہنچا دیتے ہیں، رسولوں کی تعلیمات پر چلنے والوں کی آخرت کے ساتھ دنیا بھی سنور جاتی ہے۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عرب کا بدترین معاشرہ محمدی تعلیمات کی روشنی سے منور ہوکر، چند ہی دہائیوں میں دنیا کی صالح ترین قوم بن گیا، اسلام پر عمل کرنے سے اُنہیں دین کی برکت کے ساتھ دنیا میں بھی عظمتیں نصیب ہوئیں۔ دنیا کی سپر طاقتیں اس دعوتِ نبوی کے بعد اُن کے سامنے ٹھہر نہ سکیں، نبی کریمﷺ نے پیش گوئی کی تھی کہ میں قیصر وکسرٰی کے خزانے تمہارے ہاتھوں میں دیکھ رہا ہوں، جو حرف بحرف پوری ثابت ہوئی.اللہ تعالی کے اس اسم الحئ سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد کے ذریعہ زندہ رہے اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کر دے۔ یعنی راہ خدا میں شہید ہو کر ابدی حیات حاصل کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم الحئ کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو تو اس اسم پاک کو بہت پڑھتا رہے یا کوئی دوسرا شخص اس بیمار پر اور بعض حضرات کے قول کے مطابق آنکھ سامنے کر کے اسے بہت پڑھے تو حق تعالیٰ اسے صحت عطا فرمائے گا اور جو شخص ہر روز ستر بار اس اسم کو پڑھ لیا کرے تو اس کی عمر دراز ہو گی اور اس کی قوت روحانیہ میں اضافہ ہو گا۔* جوشخص روزانہ تین ہزار مرتبہ اَلْحَیُّ کاورد رکھے گا وہ انشاء اللہ کبھی بیمار نہ ہوگا ۔* جوشخص اس اسم مبارک کوچینی کے برتن پر مشک اور گلاب سے لکھ کر شیر یں پانی سے دھوکر پیئے گا یاکسی دوسرے بیمار کو پلا ئے گا تو انشاء اللہ شفائے کا مل نصیب ہوگی ۔* جس مریض کے علاج سے اطبا ء عاجز آگئے ہوں یا جس پر شدید قسم کا جادو چل گیا ہو اس مریض کو چینی کی سفید طشتری پراکتالیس روز تک : یَاحَیُّ حِیْنَ لَا حَیَّ فِیْ دَیْمُوْمَۃِ مُلْکِہٖ وَبَقَآءِہٖ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ لکھ کر پانی سے دھوکر نہار منہ پانی پلائیں ۔ انشاء اللہ شفایاب ہوگا ۔* مریض خود یا کوئی اور شخص روزانہ یہی دعاء پانچ سو اکاون ( ۵۵۱) بار پڑھ کرمریض پر دم کرے صحت پائے گا ۔ *جوایک ہزار بار یہ اسم مبارک یاحیُّ کسی بیمار پر پڑھے گااس کی عمر انشاء اللہ دراز ہوگی اور قوت روحانیہ اس میں زیادہ ہوگی ۔* کسی سخت حاجت کے وقت اگر کوئی اپنے نام کے اعداد کے موافق مع اول وآخردرودشریف ایک وقت مقرر کرکے ( یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ یَااَللّٰہُ یَارَحْمٰنُ یَارَحِیْمُ ) پڑھا کرے تواس کی حاجت پوری ہوگی۔* اگر کوئی اس اسم کو ایک سو بیس دفعہ کاغذپر لکھ کر دروازے پر لٹکا دے تواس گھر میں جتنے لوگ رہتے ہوں گے وہ انشاء اللہ برے اور وبائی امراض سے محفوظ رہیں گے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں زندگی کو رب کی اطاعت اور رسول کی اتباع مین گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment