اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الجامع کامعنی مفہوم اور فوائد وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام الجامع کامعنی مفہوم اور فوائد وظائف

الجامع اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الجامع کے معنی ہیں جمع کرنے والا۔جو ہر شے کو کسی بھی جگہ جب چاہے جمع کر سکتا ہے۔ قیامت کے دن مخلوقات کو حساب کے لیے جمع کرنے والامختلف انسانوں کو زمین میں، اور زمین وآسمان میں موجود مختلف چیزوں کو مثلا ستارے، ہوا، دریا، حیوان، نباتات، اور معدنیات جو رنگ وبو میں اور صورت، وصف و ذوق میں باہم مختلف ہیں، انسانی جسم کی ہڈیوں، گوشت پوست، خون وخلط کو جمع کرنے والا ہے۔

اسی طرح متضاد اشیاء کا جمع فرمانا جو باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسا کہ گرمی اور سردی، خشکی وتری وغیرہ۔اللہ تعالی نے قیامت کے دن کو جمع ہونے کا نام دیا ہے کیونکہ اس میں سب انسان اور جن جمع ہوں گے ۔فرمان باری تعالی ہے ( یقینا اس میں ان لوگوں کے لۓ نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں یہی وہ دن ہے جس میں سب لوگ جمع کۓ جائیں گے اور یہی وہ دن ہے جس میں سب لوگ حاضر کۓ جائیں گے ) ھود / 103اللہ تعالی کا فرمان ہے 🙁 آپ کہہ دیجۓ کہ یقینا سب پہلے اور آخری ایک مقررہ دن میں ضرور جمع کۓ جائیں گے ) الواقعۃ / 49 – 50 اور فرمان ربانی ہے 🙁 جو بھی آسمان وزمین میں ہیں سب کے سب اللہ تعالی کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں ان سب کو گھیر اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے اور یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں ) مریم / 93 – 95 اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے ( اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور آپ زمین کو صاف اور کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کريں گے اور ان میں سے ایک کو باقی نہیں چھوڑیں گے ) الکھف / 47 تو اس جمع اور حشر میں چوپآئے اور جانور بھی شامل ہیں ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :جیسا کہ کتاب وسنت سے ثابت ہے سب جانور اور چوپائیوں کو اللہ تعالی جمع کرے گا ۔فرمان باری تعالی ہے ( اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے بھی پرندے اپنے دونوں پروں کے ساتھ اڑنے والے ہیں ان میں سے کوئی ایسی قسم نہیں کہ جو تمہاری طرح گروہ نہ ہوں ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کۓ جائيں گے ) الانعام / 38 اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے 🙁 اور جب وحشی جانور اکٹھے کۓ جائیں گے ) التکویر / 5 ارشاد باری تعالی ہے 🙁 اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو کچھ اس میں جاندار ہیں ان کا پھیلانا ہے اور وہ اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کر دے ) الشوری / 29

بہت سی احادیث مشہور ہیں جب اللہ تعالی قیامت کے دن جانوروں کو جمع کر کے قصاص لینے کے بعد انہیں کہے گا کہ اب مٹی ہو جاؤ تو وہ مٹی ہو جائیں گے تو پھر اس وقت کافر یہ کہے گا ( کاش میں بھی مٹی ہو جاتا ) النباء / 40 تو جو شخص یہ کہے کہ انہیں جمع اور اکٹھا نہیں کیا جائے گا وہ بہت قبیح اور خطرناک غلطی پر ہے بلکہ وہ گمراہ اور یا پھر کافر ہے ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور دو بکریاں بھڑ رہی تھیں ایک نے دوسری کو سینگ مارا اور اسے مار ڈالا راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے آپ کو کہا گیا آپ کو کس چیز سے ہنسی آرہی ہے ؟ آپ نے جواب دیا میں نے اس سے تعجب کیا ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت کے دن اس کا قصاص لیا جائے گا ۔اور امام مسلم رحمہ اللہ نے حدیث نمبر (2582) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن حق والوں کا حق ضرور ادا کرو گے حتی کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی کا قصاص لیا جائے گا یہ واضح اور صریح نص ہے کہ قیامت کے دن چوپآئے بھی اکٹھے ہوں گے اور مکلف آدمیوں کی طرح انہیں بھی دوبارہ اٹھایا جائے گا جیسے کہ بچوں اور پاگل اور ان کو جنہیں دعوت نہیں پہنچی اٹھایا جائے گا اور اس کے دلائل پر قرآن وسنت بھرا پڑا ہے ۔فرمان باری تعالی ہے اور جب وحشی جانور اکٹھے کۓ جائیں گے > تو جب شرع میں وارد ہے تو اس کے ظاہر پر اجراء میں کوئی چیز مانع نہیں نہ تو عقل اور نہ ہی شرع تو اسے اس کے ظاہر پر ہی محمول کیا جائے گا علماء کا کہنا ہے کہ : قیامت میں جمع کرنے اور دوبارہ اٹھانے کی یہ شرط نہیں کہ انہیں بدلہ اور سزا یا اجر وثواب ہی دیا جائے اور سینگوں والی سے بغیر سینگوں والی کا قصاص یہ قصاص تکلیف نہیں کیونکہ وہ مکلف ہی نہیں بلکہ وہ قصاص مقابلہ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ـقیامت کے دن بندوں کو ننگے جسم اور ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کے اکٹھا کیا جائے گا ۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی { جس طرح ہم نے پہلے پیدا کیا اس طرح دوبارہ لوٹائیں گے یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے یقینا ہم اسے کرنے والے ہیں ) اور سب سے پہلے جسے کپڑے پہنآئے جائیں گے وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت میں سے کچھ لوگوں کو بائیں طرف والے پکڑ لیں گے تو میں کہوں گا میرے صحابی میرے صحابی تو مجھے کہا جائے گا کہ جب آپ نے انہیں چھوڑا تھا تو یہ اپنی ایڑیوں کے بل پھر گۓ تھے تو میں بھی اسی طرح کہوں گا جس طرح کہ اللہ کے نیک بندے نے کہا تھا ( میں جب تک ان میں تھا تو ان پر گواہ تھا تو جب تو نے مجھے فوت کر دیا تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے ) صحیح بخاری 3349اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ننگے جسم اور ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کۓ جاؤ گے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا : مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا اور حدیث میں یہ بھی وارد ہے کہ انسان جن کپڑوں میں فوت ہوا ہو گا انہی میں اٹھایا جائے گا ۔اللہ تعالی کے اس اسم الجامع کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ جس شخص کے اعزا ء یا احباب منتشر ہوگئے ہوں وہ چاشت کے وقت غسل کرکے اور آسمان کی طرف منہ کرکے دس مرتبہ یَاجَامِعُ پڑھے اور ایک انگلی بندکر لے ۔ اسی طرح ہردس مرتبہ پر ایک انگلی بندکرلے ۔ آخر میں دونوں ہاتھ منہ پر پھیر ے انشاء اللہ جلدجمع ہوجائیں گے۔ *اگر کوئی چیز گم ہوجائے تو ’’اَللّٰھُمَّ یَاجَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ اِجْمَعْ عَلَیَّ ضَآلَّتِیْ‘‘ پڑھا کرے وہ چیز اسے انشاء اللہ مل جائے گی ۔ *اگر کوئی چیز گم ہوجائے تو اَللّٰھُمَّ یَاجَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ اِجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ضَآلَّتِیْ پڑھا کرے وہ چیز انشاء اللہ مل جائے گی۔* جائز محبت کے لئے بھی مذکورہ بالا دعابے مثال ہے ۔ مگر اس کے آخر میں وَبَیْنَ کے بعد مطلوب کانام لے۔* اپنے بچھڑے ہوئے اقارب سے ملنے کے لئے اس اسم کو ایک سو چودہ بار کھلے آسمان کے نیچے پڑھنا مفید ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قیامت کے دن سرخرو فرمائے اور ذلت و رسوائی سے بچائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

Leave a Comment