اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام التواب کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

التواب

التواب اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ التواب کے معنی توبہ قبول کرنے والا ہے۔۔توبہ قبول کرنے والا، جو بڑے سے بڑا گناہ کرنے وا لے کی بھی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ جو ہمیشہ سے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنے والا اور رجوع کرنے والوں کے گناہ معاف کرنے والا ہے لہٰذا جو بھی اللہ کے دربار میں سچے دل سے توبہ کرے، اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔

وہ بندوں پر پہلے تو اس انداز سے التفات فرماتا ہے کہ انھیں توبہ کی توفیق دیتا اور ان کے دل اپنی طرف پھیر لیتا ہے پھر اس انداز سے التفات فرماتا ہے کہ ان کی توبہ قبول کرکے ان کی غلطیوں سے درگزرفرماتا ہے۔ جو بندہ بھی اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اس کے احکام کی اتباع کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف رجوع فرماتے ہیں۔ جو وعدے بھی اپنے بندوں سے کئے ہیں ان سے محروم نہیں رکھتا۔ نہ صرف توبہ قبول کرتا ہے بلکہ خود بندے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے جیسے فرمایا: پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ توبہ استغفار دعا کی خاص قسم ہے اس میں گناہ کی وجہ سے پستی کا احساس، انتہائی ندامت، غفلت کا اظہار، برے انجام کے خوف سے لرزنا، کہ مالک و مولیٰ اللہ کی نافرمانی سے کہیں ہلاک ہی نہ ہو جائوں۔ نفس امارہ اور ابلیس کے وسوسے، بری صحبت سے گناہ ہو جاتا ہے۔ تو پھر وہ اللہ کو منانے کے لیے روتا ہے گڑ گڑاتا ہے اور دعا کی خاص قسم توبہ و استغفار کا سہارا لیتا ہے۔ کیا آپ کسی ادارے یا ملک میں تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی شخص وہاں خطا کار بھی ہو اور بہترین بھی۔ یہ صرف رب تعالی کا قانون ہے وہ ایسے کہ خطا کار کو توبہ کیے بغیر چین ہی نہیں آتا۔ اللہ اس کی توبہ سے خوش ہوتے ہیں جیسے مسافر کی اونٹنی کھانے پینے کے سامان سمیت گم ہو جائے اور مسافر تھک ہار کر بیٹھ جائے کہ اب موت کے سوا کوئی انجام نہیں۔ عین اسی وقت اونٹنی سامنے آ کھڑی ہو تو مسافر کی خوشی کا کیا ٹھکانا ہو گا۔ اسی طرح بندے کی توبہ اسے جہنم سے بچا کر اللہ کی رضاوالی جنت کا حقدار بنا دیتی ہے۔ اسی لئے سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم کو خوشخبری دیتے ہیں :۔

اے میری قوم، تو اپنے رب اللہ کے آگے استغفار کرو بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ ’’اللہ استغفار کی برکت سے بارشیں برسائے گا۔ اولاد دے گا۔ مال کی فراوانی ہو گی اور وہ پانی کی نہر یں چلا دے گا‘‘۔اللہ فرماتے ہیں:۔ (ا) مومنو! تم سارے مل کر توبہ استغفار کرو، تاکہ تم فلاح پائو۔ (ب) اور اللہ کے حضور استغفار کرو یقینا اللہ غفور رحیم ہے۔ (ج) کیا تم اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے استغفار نہیں کرتے اللہ تو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے‘‘۔اللہ نے مومنوں کے لیے دو امان بنا دیئے ہیں :۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔اے میرے محبوب رسولؐ۔ ’’اللہ ایسا ہر گز نہیں کرنے والا کہ ان مشرکوں (نافرمانوں) کو عذاب دے حالانکہ آپ ان کے درمیان (رحمت للعالمین) موجود ہوں اور اللہ کریم تب بھی عذاب نہیں دے گا جب آپ ان میں موجود نہیں ہوں گے اور یہ استغفار کرتے ہوں گے‘‘ تو آئیے ہم اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ کریں اور گڑ گڑا کر گناہوں سے معافی کے طالب ہوں تاکہ دہشت گردی، بلائوں اور وبائوں سے نجات ملے۔آپؐ اپنی امت میں عذا بوں سے نجات کے لیے استغفار کا تحفہ چھوڑ گئے ہیں۔اللہ کے مبشر رسول محمد ؐ نے خوشخبری دی: ’’مبارک ہو اس مومن کو جو اپنے صحیفے (نامہ اعمال) میں کثرت سے استغفار لکھا ہوا پائے‘‘ مراد یہ ہے کہ صرف استغفار زبانی کلامی نہ ہو۔ عملاً گناہوں سے دوری اختیار کرے، آئندہ نہ کرنے کا سچے دل سے عہد کرے اور اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کثرت سے کرتا رہے۔ نوافل اور توبہ سے بھی قرب حاصل کرے تو اس کے لیے خوشخبری ہے۔ذات اقدس کہ امام المعصومین ہیں محبوب رب العالمین، رحمت للعالمین شفیع المذنبین اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ختم المرسلینؐ ہیں ۔

ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی قسم میں ایک دن میں سو سو بار توبہ استغفار کرتا ہوں، لہٰذا اے انسانو! تم بھی توبہ کرتے رہا کرو‘‘۔ابن عمر ؓ فرماتے ہیں:۔ ہم گِنا کرتے تھے کہ رسول اللہ ؐایک ایک مجلس میں سو سو بار ان مبارک لفظوں سے اللہ کے حضور دعا فرمایا کرتے تھے۔کہ:’’اے میرے رب آپ مجھے بخش دیں اور میری طرف لوٹ آئیں یقینا آپ توبہ قبول کرنے والے بخشنہارہیں‘‘۔لوگ رات کو شراب پی کر صبح توبہ کر لیتے ہیں ۔(اللہ ہمیں بچائے) روایت کے مطابق رسول اللہ ؐنے فرمایا:۔ ’’توبہ کرکے گناہ پر ڈٹا رہنے والا اصرار کرنے والا ایسے ہے جیسے اپنے رب اللہ سے ٹھٹھا کر رہا ہو‘‘۔ فضیل بن عیاض ؒ کہتے ہیں۔ استغفار کے ساتھ گناہ جاری رکھنا، جھوٹوں کی توبہ ہے۔ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے اور رسول اللہؐ نے فرمایا جھوٹا میرا، امتی نہیں ہے۔سورۃ المومن کی آیت 7 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’وہ نورانی فرشتے جو اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب ،اللہ کی پاکی حمد کے ساتھ بیا ن کرتے ہیں اور وہ سب اللہ پر ایمان والے بھی ہیں۔ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو ایمان والے (توبہ کرنے والے) ہیں‘‘۔’’اے ہمارے رب! آپ کی رحمت اور علم نے ہر شے کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے لہٰذا ہماری دعا ہے کہ آپ ان لوگوں کو بخش دیں جنہوں نے توبہ کی اور آپ کے سیدھے راستے (اسلام) کا ابتاع کیا لہٰذا آپ ان کو بھڑکتے ہوئے جہنم کے عذاب سے بچا لیں‘‘۔سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اللہ کے حضور توبہ استغفار کرنا لازم ٹھہرا لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی تنگ دستی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہیں اور ہر قسم کے ہم ّ، وہم، پریشانی، ڈیپریشن، دبائو کو رفع دور کر دیتے ہیں اور اسے وہاں سے (طیب، حلال،، مبارک) رزق عطا فرماتے ہیں جہاں سے اس کی وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا‘‘۔

لہٰذا کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کریں تاکہ رزق میں فراخی ہو۔سیدنا ابودرداء ؓ نے مخبر صادق سیدنا محمد ؐ سے روایت ہے ’’جو مومن مومنین اور مومنات کے لیے دن رات میں 27 بار بخشش کی دعائیں کرتا ہے وہ ان لوگوں میں سے ہو جاتا ہے جن کی سب دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کے استغفار کی برکت سے زمین والوں کو رزق عطا کیا جاتا ہے۔سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ ؐ سے روایت ہے: ’’یقینا اللہ بندے کی توجہ قبول کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جان کنی کا وقت آ جائے کہ اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہو گی جیسے فرعون کی قبول نہیں ہوئی تھی لہٰذا موت کا انتظار کیے بغیر فوری توجہ استغفار کر لینا چاہیے۔سچی خوش خبری ، سچی ذات پاک صادق و امین سیدنا محمد ؐنے دی ’’میدان جنگ سے فرار ہونے کا جرم سرزد ہوا ہو تو بھی اللہ معاف فرما دیتے ہیں۔ یہ الفاظ زبان نبوت سے ادا ہوئے (یاد کر لیجئے۔ ورد زبان حرز جان بنا لیجئے) جس نے ’’استغفر اللہ الذی لاالٰہ الا ھو القیوم و اتوب الیہ‘‘ کہا وہ بخشا گیا۔اللہ تعالی کے اس اسم التواب کے فوائد وبرکات میں سے ہے کہ * جوشخص نماز چاشت کے بعد ۶۳۰ مرتبہ اس اسم مبارک کو پڑھا کرے، انشاء اللہ اسے سچی توبہ نصیب ہو۔*جو شخص کثرت سے اس اسم مبارک کو پڑھا کر یگا انشاء اللہ اس کے تمام کامآسان ہوں گے۔* اگر کسی ظالم پر دس مرتبہ پڑھ کر پھونکا جائے تو انشاء اللہ اس سے خلاصی نصیب ہوگی ۔ جو کوئی چاشت کی نماز کے بعد اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ پڑھے تو اس کے گناہ انشاء اللہ بخشے جائیں گے ۔ *جواکتالیس دن تک آٹھ سو بار یہ اسم مبارک پڑھے گاانشاء اللہ ظاہر وباطن کی نعمتوں سے نواز اجائے گا ۔* جواس اسم کو لکھے اور بارش کے پانی سے دھو کر شراب کے عادی کو پلا ئے تواس کی عادت چھوٹ جائے گی اور وہ انشاء اللہ تائب ہوجائے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں زیادہ سے زیادہ توبہ کرنے اورنیکوکار لوگوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment