اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام البصیر کا معنی مفہوم فوائد وظائف

البصیر

البصیر اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہےالبصیر کا معنی ہے سب کچھ دیکھنے والا ۔ایئرپورٹ ہوں یا پولیس اسٹیشن، اسمبلیاں ہوں یا عدالتیں، شفاخانے ہوں یا حفاظتی چوکیاں،اسی طرح دیگر حساس مقامات اور اداروں کے آس پاس یہ جملہ بڑے حروف میں لکھ کر آویزاں کیا جاتاہے کہ ’’کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے‘‘،اِس سے انسان میں احساسِ ذمہ داری بھی پیدا ہوتا ہے

اور اُس کا رویہ،چال ڈھال ایک خود کار طریقے سے محتاط بھی ہوجاتاہے،وہ کسی بھی قسم کی نامناسب حرکت سے باز آجاتا ہے۔یاد رکھیے!ہمارا ایمان ہے کہ ایک ذات ایسی ہے جو محض چندلمحے، کچھ دن ، محدود اوقات یا چند مقامات پر ہی نہیں، بلکہ ہر شخص کو ، ہر وقت،ہر مقام پر دیکھ رہی ہے،اِس کا کوئی بھی کام اُس وحدہ لاشریک ذات سے مخفی اور پوشیدہ نہیں،یہی وہ ہستی ہے جو یکتا ہو کر پوری کائنات کا نظام چلارہی ہے،جسے کبھی نیند آتی ہے، نہ اونگھ ،اُس کا نہ کوئی ثانی ہے نہ مددگار، وہ بیک وقت ہر مخلوق کی نگہبانی میں مصروف ہے، اُس کے حکم کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا، اُسی نے اپنے لاریب کلام میں فرمایا :’’ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں‘‘۔ منہ سے نکلنے والے ہر بول پر اُسے ریکارڈکرنے کے لیے ایک نگراں بھی اُسی نے مقرر کر رکھاہے، ظاہر تو کیا باطن کے خیالات وافکار سے بھی وہ واقف ہے۔اِسی تصور کا استحضار،دھیان، موقع بموقع اس کی یاددہانی کے لیے یہ بول نسخۂ اکسیر کی حیثیت رکھتے ہیں کہ ’’اللہ دیکھ رہا ہے‘‘،کھلی فضاء میں ہوں یا زمین کی پاتال میں ربِّ کائنات کی نگاہوں سے پوشیدہ ہونانا ممکن نہیں ،بلکہ محال ہے۔’’اللہ دیکھ رہا ہے ‘‘کا یقین ہی تقویٰ کہلاتا ہے،جسے اختیار کرنے کا ربِّ ذوالجلال نے قرآنِ حکیم میں اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں کئی مقامات پر مختلف اسالیب میں حکم دیا ہےآئیے!قرنِ اوّل کی ایک دخترِاسلام کا واقعہ سنتے ہیں جو رات کی تنہائی میں بھی دودھ میں پانی ملانے سے صرف اِس لیے ڈررہی تھی کہ اُس کا رب اُسے دیکھ رہا ہے،خدا کے خوف کی بدولت کیسی عزتیں اور رفعتیں اُسے نصیب ہوئیں؟ملاحظہ فرمائیے:امیر المؤمنین حضرت عمرؓ ایک بار رات کو شہر میں گشت فرمارہے تھے،ایک مکان کے قریب سے گزرے ،جہاںماں بیٹی کے درمیان بحث ہو رہی تھی

،ماں کہہ رہی تھی:دودھ میں پانی ملادو اور بیٹی انکار کرتے ہوئے جواب میں کہہ رہی ہے کہ امیر المؤمنین نے منع فرمایا ہے۔ماں نے کہا:یہاں امیر المؤمنین تو نہیں دیکھ رہے۔بیٹی نے کیا خوب جواب دیاکہ امّاںجان!امیر المؤمنین تو نہیں دیکھ رہے ،لیکن اُن کا رب تو دیکھ رہا ہے۔حضرت عمرؓ بغیر کچھ کہے گھر کولوٹے اور اپنے بیٹے عاصم سے فرمایا:اس لڑکی سے نکاح کرلو۔انہوں نے نکاح کا پیغام بھیجا اور نکاح کردیا، اللہ تعالیٰ نے انہی کی نسل سے ایک عادل اور خیر خواہ خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ امت ِمسلمہ کو عطاء فرمایاجس پر امت جتنا بھی فخر کرے، کم ہے۔(مرقاۃ) معلوم ہواجو اللہ کی رضاء کی خاطر، اللہ سے ڈرتے ہوئے دھوکے بازی،ملاوٹ،خیانت، جھوٹ اور دیگر برائیوں سے بچتا ہے ،اس کے لئے آخرت میںتو انعامات ہیں ہی ،دنیا میں بھی عزتیں اور رفعتیں اُس کا مقدر بن جاتی ہیں ،جیسے اِس واقعہ میں جب لڑکی نے اپنے آپ کو گناہ سے محفوظ رکھا تو ۱۔ اللہ نے اُسے وقت کے عظیم حکمران کے گھر کی زینت بنا دیا، ۲۔ اُنہی کی نسل سے امتِ مسلمہ کو ایک عادل خلیفہ عطاء فرمایاجسے پانچواں خلیفہ راشد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔اِسی لئے کہا جاتا ہے “جو رب کا سب اُس کا”۔عزت،عظمت ،سرخروئی،سربلندی اُس کے ماتھے کا جھومر بن جاتی ہے۔ہر انسان اس بات کا دعوی کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ خدا ہمیشہ میرے ساتھ ہے، کیا حقیقیت میں ایسا ہی ہے؟ کیا ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ خدا ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے؟ اس بات کو ایک چھوٹی سے مثال کے ذریعہ اس طرح روشن کیا جاسکتا ہے: مثال کے طور پر جب انسان ایک گھر میں اکیلا ہو تو جو چاہے جیسا چاہے گھر میں رہتا ہے لیکن اگر اسے اس بات کو تھوڑا سا بھی شک ہو کے گھر میں کوئی اور بھی موجود ہے تو کیا وہ شخص دونوں حالتوں میں ایک جیسا ہی رہیگا یا پھر اسی طرح اگر انسان اس بات کا اپنےدل سے یقین کرلے کے خدا ہمیشہ اس کے ساتھ ہے اور وہ ہر وقت اور ہر لمحہ، اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہے تو وہ ہمیشہ بیکار کاموں، بیکار باتوں اور بیکار فکروں سے اپنے آپ کو دور رکھیگا اور انسان جتنا اپنے آپ کو ان چیزوں سے دور رکھیگا وہ اتنا ہی زیادہ اللہ کو اپنے ساتھ پائیگا۔ جس انسان کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ اسے ہمیشہ دیکھ رہا ہے تو اس شخص کے لئے کیا فرق کرتا ہے کہ وہ شخص تنھائی میں ہو یا لوگوں کے ساتھ، جب وہ جانتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے تو نہ لوگوں کے سامنے کسے بر کام کو انجام دیگا اور نہ ہی تنھائی میں،اگر واجب اور حرام کے لحاظ سے لوگوں میں اور خلوت میں اس کے کردار کا فرق ہو تو یہ فرق اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کو اپنے اعمال پر حاضر و ناظر نہیں سمجھتا، بلکہ لوگوں کو ناظر سمجھتا ہے حالانکہ خداوند متعال صاف صاف الفاط میں اس طرح ارشاد فرمارہا ہے:

« تو کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ دیکھ رہا ہے»۔اللہ تعالی کے اس نام البصیر سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خلاف شرع چیزوں کے کہنے سننے اور دیکھنے سے پرہیز کرے اور اللہ کو اپنے اقوال و افعال پر حاضر ناظر جانے۔اللہ تعالی کے اس نام کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص نماز جمعہ کے بعد سو مرتبہ یَابَصِیْرُ پڑھا کرے گا اللہ تعالی اس کی نگا ہ میں انشاء اللہ روشنی اور دل میں نور پیدا فرمادیں گے ۔* جو شخص جمعرات کے روزنماز فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان اس اسم مبارک کو سو(۱۰۰)مرتبہ پڑھے گا اللہ تعالی اس کے دل کو ہدایت سے منور فرمائیں گے۔ *جوکوئی جمعہ کے دن فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان سو بار یہ اسم مبارک پڑھے گا اسے اللہ تعالیٰ خصوصی نظر عنایت فرمائے گا ۔جواس کا بکثرت ورد کرے گا آنکھوں کے امر اض سے محفوظ رہے گا اس کے لئے یہ دعابھی مفید ہے۔ ( اَللّٰھُمَّ یَاسَمِیْعُ یَابَصِیْرُمَتِّعْنِیْ بِسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَاجْعَلْھُمَا الْوَارِثَ مِنِّیْ )۔* جوکوئی اس اسم کو ہرروز عصر کے وقت سات بار پڑھ لیا کر ے گانا گہا نی موت سے امن میں رہے گا ۔* جواس اسم کو جمعہ کے خطبہ سے پہلے سو بار پڑھ لیا کر ے گا انشاء اللہ منظورِ نظرِ الٰہی ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہر وقت اپنا خوف اور گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔

Leave a Comment