اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام البر کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

البَرّ

البَرّ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ البَرّ کے معنی ہیں۔ نیکی کرنے والا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُ اللہ سبحانہ رحم کرنے والے اور نیکوکار ہیں (الطور: 28) جالبر یہ بحر کی ضد ہے ( اور اس کے معنی خشکی کے ہیں ) پھر معنی دسعت کے اعتبار سے اس سے البر کا لفظ مشتق کیا گیا ہے جس کے معنی وسیع پیمانہ پر نیکی کرنا کے ہیں اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔

اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی ) چنانچہ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ طرف ہو تو اس کے معنی ثواب عطا کرنا ہوتے ہیں اور جب بندہ کی طرف منسوب ہو تو اطاعت اور فرماں برداری کےالْبَرُّ کے معنی ہیں ’’نیکی کرنے والا‘‘ اور ’’احسان کرنے والا‘‘ کے بھی آتے ہیں اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے جس کے اوصاف جود، کرم اور کثرت عطاء ہیں وہ اللہ ایسا محسن ہے جو اپنے بندوں پر طرح طرح کے انعامات کرتا ہے اور انواع و اقسام کے احسانات سے ان کو نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ احسان اور کرم کی صفات سے متصف ہے۔ اس کی رحمت وعطا لامحدود ہے جو اس کی حکمت کے مطابق ہر موجود کو حاصل ہے۔ اس میں سے مومنوں کو وافر اور کامل تر حصہ نصیب ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’میری رحمت ہر شے کو محیط ہے، میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے۔‘‘ تمام نعمتیں اور احسان اس کی رحمت اور اس کے جودوکرم کا مظہر ہیں اور دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں اس کی رحمت کے نشان ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بےشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے-اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے جس کے اوصاف جود، کرم اور کثرت عطاء ہیں وہ اللہ ایسا محسن ہے جو اپنے بندوں پر طرح طرح کے انعامات کرتا ہے اور انواع و اقسام کے احسانات سے ان کو نوازتا ہے۔

اور ان سے ہر قسم کی ذلتیں رسوائیاں دور کرتا ہےاللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر عجیب احسان ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ رحمت کا مطلب ہے نرم ہونا، مہربان ہونا، رحم کا ابھرنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا بندوں سے نرمی اور صَرفِ نظر کا سلوک ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر مہربانی کا سلوک ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا رحم کا جذبہ اور یہ سلوک اتنا بڑھا ہوا ہے کہ جو ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس کی رحمت میں رحمانیت اور رحیمیت شامل ہیں۔ یہ اس کی رحمانیت ہے کہ بن مانگے بھی بیشمار چیزیں دنیا میں انسان کے لئے پیدا کی ہیں۔ اور رحیمیت کا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے والوں اس کے احکام پر عمل کرنے والوں اس کے آگے جھک کر مانگنے والوں پر اظہار کرتا ہے۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندوں کو عذاب دینا میری غرض نہیں ہے۔ بعضوں کو بڑی غلط فہمی ہوتی ہے کہ انسان کو اگر عذاب دینا ہے، سزا دینی ہے تو پیدا کیوں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری غرض یہ نہیں ہے۔ ہاں وہ لوگ میرے عذاب اور سزا کے مورد بنتے ہیں جو اپنے غلط عملوں کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ لیکن میرا یہ عذاب بھی عارضی چیز ہے اور اصلاح اور احساس کے لئے ہے۔ حتی کہ ایک وقت آئے گا کہ دوزخ والے بھی میری وسیع رحمت سے حصہ لیں گے اور ان کا عذاب بھی ختم ہو جائے گا۔ دوزخ کی سزا بھی ان کے غلط عملوں کی وجہ سے ملے گی اور پھر وہ ایک اصلاح کا ذریعہ بن جائے گی۔

تو اگر دیکھا جائے تو یہ سزا بھی اصلاح ہے۔ یہ سزا کا دور جو ہے یہ بھی ایک لحاظ سے رحمت ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جزا سزا کے دن کا مالک بھی ہے۔ اس لئے وہ بظاہر ہمیں گناہگار نظر آنے والے لوگوں کو اپنی رحمت اور بخشش کی چادر میں لپیٹ کر بغیر سزا کے جانے دے سکتا ہے۔ لیکن اس نے ہمیں نیکیوں کے راستوں پر چلنے کی ترغیب دلاتے ہوئے یہ ضرور فرما دیا کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور ان پر میں ضرور اپنی رحمت کروں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں جو زکوٰۃ دیتے ہیں اور ان لوگوں پر جو میرے نشانوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بطور حق کے ان لوگوں کو جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں، جو زکوٰۃ دینے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر ان کا حق ادا کرتے ہوئے اور یقین کے ساتھ عمل کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کی آیات پر مکمل ایمان رکھنے والے ہیں، ضرور اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹوں گا۔پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ اللہ کی رحمت یقیناً محسنوں کے قریب ہے۔ محسن وہ ہیں جو تمام شرائط کے ساتھ اپنے کام کو پورا کرتے ہیں۔ پس جو تقویٰ کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بجا لانے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے نشانات پر مکمل ایمان رکھنے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت پہنچے گی۔ پس ایک انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، تقویٰ پر چلنے اور ایمان میں کامل ہونے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے تبھی وہ مومن کہلا سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فیض پانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے احکامات پر ان کا حق ادا کرتے ہوئے عمل کرنے والوں کے قریب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تو اپنے پر فرض کر لیا ہے

، ان کے لئے لکھ دیا ہے کہ اگر تم یہ کرو گے تو میری رحمت کی وسعت تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کتنا رحیم و کریم ہے ہمارا خدا۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ بندہ کس طرح اپنے مالک پر کوئی حق جتا سکتا ہے۔ لیکن وہ زمین و آسمان کا مالک کہتا ہے کہ اگر تم تقویٰ پر چلو گے، میرے احکامات پر عمل کرتے ہوئے میرے نشانوں پر ایمان لاؤ گے تو میری رحمت کے یقیناً حقدار بن جاؤ گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلی چیز تقویٰ بیان فرمائی ہے اور اصل میں اگر تقویٰ کا صحیح اِدراک ہو جائے تو باقی نیکیاں اور ایمان میں کامل ہونا اس کے اندر ہی آ جاتا ہے۔اللہ تعالی کے اس اسم البر کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جوشخص (نعوذباللہ ) شراب نوشی اور زناکا ری جیسے بدترین گناہوں میں مبتلا ہووہ روزانہ سات مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھے ‘ انشاء اللہ ان گناہوں کی رغبت جاتی رہے گی ۔ جوشخص حبِ دنیا میں مبتلا ہووہ اس اسم مبارک کو بکثرت پڑھتا رہے، انشاء اللہ دنیا کی محبت اس کے دل سے جاتی رہے گی ۔* جوشخص بچہ پیدا ہوتے ہی سات مرتبہ اس اسم مبارک کوپڑھ کردم کرے اور اللہ کے سپر د کردے، وہ بلوغ تک تمام آفتوں سے محفوظ رہے گا اور نیک بخت اٹھے گا۔* جواسے آندھی وغیرہ کی آفتوں کے ڈرسے پڑھے انشاء اللہ امان میں رہے گا۔* جوکوئی اس اسم کو پڑھے گا عزیز خلائق ہوگا۔ *یہ اسم خشکی اور سمندر کے مسافر کے لئے امان ہے ۔*جواس اسم کو اپنے بچے کے سر پرپندرہ بار پڑھ کر یہ دعامانگے ۔ ( اَللّٰھُمَّ بِبَرَکَۃِ ھٰذَالْاِسْمِ رَبِّہٖ لَا یَتِیْمًا وَلَا لَءِیْمًا ) توانشا ء اللہ یہ دعاقبول ہوگی اور بچہ نہ یتیم ہوگا اور نہ لئیم ۔ گناہِ کبیرہ کا مرتکب اگر سات بار یہ اسم مبارک پڑھے تو انشاء اللہ گناہوں سے تو بہ کیتوفیق پائے۔* اگر اس کے ساتھ(الرحیم ) ملا کر ( یَا بَرُّ یَارَحِیْمُ) پڑھا جائے تو یہ قبولیت کے زیادہ قریب ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت کرم و احسان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے اور عفو و درگزر والا معاملہ فرمائے ۔ آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment