اسلامک وظائف

اللہ تعالی کا صفاتی نام البدیع کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

البدیع

البدیع اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔البدیع’ کے معنی ہیں بے مثال چیزوں کا پیدا کرنے والا۔وہ جس نے کسی نمونے کے بغیرکائنات میں حیرت انگیز چیزیں پیدا کیں۔عالم کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص قول و فعل میں اپنے نفس پر سنت کو امیر (حاکم) بناتا ہے وہ حکمت کی باتیں کرتا ہے یعنی اس کا ذہن اس کی فکر اس کی زبان حکمت و شریعت ہی کے ڈھانچے میں ڈھل جاتی ہے اور جو شخص قول و فعل میں اپنے نفس پر خواہش کو امیر بناتا ہے وہ بدعت ہی کی باتیں کرتا ہے۔

اس کا ذہن اس کی فکر اور اس کی زبان بدعت ہی کے چکر میں پڑی رہتی ہے۔ قشیری فرماتے ہیں کہ ہمارے مسلک کے تین اصول ہیں (١) اخلاق و افعال میں اور کھانے پینے کہ وہ حلال ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کرنا۔ (٢) ہمیشہ سچ بولنا۔ (٣) تمام اعمال میں نیت کو خالص کرنا۔ یہ بھی فرمایا کہ جو شخص بدعتی کے بارے میں مداہنت کرتا ہے یعنی اس سے نرمی برتتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال سے سنت کی حلاوت اٹھا لیتا ہے اور جو شخص بدعتی کو دیکھ کر ہنستا ہے یعنی بدعتی کے ساتھ احترام کا معاملہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل سے ایمان کا نور سلب کر لیتا ہے۔ اللہ تعالی چونکہ بغیر کسی نمونے کے پیدا کرنے والا ہے یہ فضیلت و شرف کئی اعتبار سے ہے ، شکل و صورت کے اعتبار سے بھی کہ جو بہترین ہیئت اﷲ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی وہ دوسری مخلوق کو حاصل نہیں ۔ چند چیزوں کی قسم کھاکر اﷲ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا( التین 4)۔ اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا ؟ جس (رب نے ) تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر ( درست اور) برابر بنایا ، جس صورت میں چاہا تجھے جوڑدیا(الانفطار 8-6) انسانی شکل و صورت ، قد و قامت ، اعضاء و جوارح ، انکے درمیان مناسبت اور انکی خوبیوں پر غور کیاجائے ،پھر اس کائنات میں مو جو د کسی بھی جاندار مخلوق سے اسکا موازنہ کیا جائے تو انسان کے اشرف المخلوقات ہونے اور دیگر مخلوقات میں سب سے افضل و برتر ہونے کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔انسان کے اشرف ہونے کا ایک اہم راز اسکے دیکھنے ،سننے کی صلاحیتوں کیساتھ اسکا صاحب عقل اور فہم و ادراک کا حا مل ہونا ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی، نیز اچھے برے کے درمیان تمیز کرنے پھر اپنے ارادہ سے کسی کو اختیار کر نے کی وہ قوت و صلاحیت دی جو کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں ۔ اسی عقل و شعور پر انسان کو مکلف بنایا کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر تے ہوئے من مانی زندگی نہ گزارے بلکہ اپنے معبود حقیقی کو پہچان کر اسی کی عبادت کرے، اس کیساتھ کسی کو شریک نہ کرے ، ارشاد ربانی ہے “’ اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اسلئے کہ وہ صرف میری ہی عبادت کریں۔ ‘‘ ( الذاریات56)۔ انبیائے کرام ؑ کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اﷲ کی مخلوقات میں غور و تدبر معرفت ربانی کے حصول کا اہم ذریعہ ہے ، جو لوگ تعصب ، ہٹ دھرمی اور ضد کے بغیر سنجیدگی اور تلاش حق کی جستجو کے جذبے سے اﷲتعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کرتے ہیں وہ راہ حق پاہی لیتے ہیں ۔ انسان جب اشرف المخلوقات ہے تو جن چیزوں میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ان میں خود انسان کا اپنا وجود بھی شامل ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ کیا یہ ( بغیر کسی پیدا کرنے والے کے ) خود بخود پیدا ہو گئے ہیں ؟ یا یہ خود ( اپنے آپ کو ) پیدا کرنے والے ہیں ؟ کیا انھوںنے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ بلکہ ( حقیقت یہ ہے کہ ) یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں ‘‘ ( الطور36-35 )’’اور یقین والوں کیلئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی، کیا تم دیکھتے نہیں ہو ۔‘‘ (الذاریات 21-20 ) ۔اس کائنات میں قدرت الٰہی کی بے شمار نشانیاں ہیں۔ انہی میں خود انسان کا اپنا وجود قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے ، جو شخص خود اپنے وجود پر غور و فکر کرے وہ یقینا اپنے خالق اورمعبود حقیقی کی معرفت حاصل کرسکتا ہے

، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاقِ عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائیگا کہ حق یہی ہے ، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاہ ہونا کافی نہیں ؟ ‘‘ ( حٓم السجدۃ53) ۔آفاق وانفس کی آیات ( نشانیوں ) سے مراد قدرت الٰہی کی وہ نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرنیوالوں کو اپنے وجود اور اپنے وجود سے باہر دنیا کی ہر ہر چیز میں نظر آتی ہیں جن سے اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور اسکی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔’’ آفاق‘‘ کناروں کو کہتے ہیں۔زمین و آسمان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک قدرت کی بیشمار نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔ آیاتِ انفس ( انسان کے وجود میں قدرت کی نشانیوں ) کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے ۔ انسان کی پیدائش جسمِ انسانی کے اعضاء و جوارح ، دل و دماغ جیسی نازک مشینیں اور انکی کارکردگی پر غور کیا جائے تو خالق حقیقی کی عظیم قدرت پر انسانی عقل حیران رہ جائے ۔ طب کے میدان میں سائنس نے جو ترقی کی ہے وہ ’’ آیاتِ انفس ‘‘ کی واضح مثال ہے ۔ آفاق و انفس کی نشانیوں کا انکشاف چونکہ انسان پر دفعتاً نہیں ہوتا بلکہ غور و فکر کے نتیجے میں بتدریج حقائق سے پردہ اُٹھتا ہے اس لئے آیتِ بالا میں یہ اُسلوب اختیار کیا گیا کہ ہم عنقریب اپنی نشانیاں انہیں آفاق وانفس میں دکھائینگے ۔الغرض قرآن میں انسان کو قدرت کی جن نشانیوں پر خصوصیت سے غور و فکر کی دعوت دی گئی اس میں خود انسان کا اپنا وجود بھی شامل ہے ۔ غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے کائنات میں موجود قدرت کی چند نشانیوں کا تذکرہ آیا ہے ۔وہاں ابتداء تخلیق انسان ہی کے ذکر سے ہے ، ارشاد ربانی ہے: ’’ اور اسکی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے ) پھیل رہے ہو۔ نادان انسان مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھائے جانے کو ناممکن اور محال تصور کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بار ہا اسے یاد دلایا کہ وہ اپنے آپ کو کیوں بھول جاتا ہے ؟ کیا ایک وقت ایسا نہ تھا کہ اس کا کوئی وجود اس کائنات میں نہ تھا ، ہم نے اسے وجود بخشا اور اپنی قدرت سے ٹھیک ٹھاک درست انسان بنایا تو جو پروردگار پہلی مرتبہ وجود بخش سکتا ہے اور معدوم سے موجود کرسکتا ہے اس کیلئے دوبارہ پیدا کرنا کونسا مشکل کام ہے ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا ؟ کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔اللہ تعالی کے اس اسم البدیع کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جس شخص پر کوئی غم پڑے یا کوئی دشوار کام پیش آئے تو وہ یابدیع السماوات والارضستر ہزار بار اور ایک قول کے مطابق ایک ہزار بار پڑھے انشاء اللہ وہ غم دور ہو جائے گا اور اس کا کام پورا ہو گا اور اگر کوئی شخص با وضو ہو کر قبلہ کی طرف منہ کر کے یہ اتنا پڑھے کہ سو جائے تو وہ خواب میں جس چیز کے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو گا دیکھ لے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت البدیع کے ذریعے بے بہا نعمتوں کے حصول کو آسان بنائے ۔ آمین ۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment